گوادر (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر اور پچھلے کئی سالوں سے خبروں کی سرخیوں میں رہنے والے شہر میں زیر تعمیر ائیر پورٹ پرراکٹ حملے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق ائیر پورٹ پر نامعلوم سمت سے دور مار راکٹوں سے حملہ کیا گیا جو ائیر پورٹ کے احاطے میں گر کر زور دار دھماکوں سے پھٹ گئے، دھماکوں کی آواز شہر میں دور دور تک سُنی گئی۔
دھماکے کے فوری بعد قابض پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
واضح رہے کہ پچھلے کئی سالوں سے قابض پاکستان چین کی مدد سے گوادر میں بہت بڑی سرمایہ کاری میں مصروف ہے جہاں پوری دنیا کے ممالک کو اس میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کرانے کی کوشش کی جارہی ہے، اور بلوچستان آزادی کی چلنے والی جنگ کے سبب خراب حالات کی وجہ سے پاکستان ہمیشہ سے اس کوشش میں ہے کہ وہ چین اور دیگر سرمایہ کاروں کو یہ باور کرا سکے کہ گوادر محفوظ ہے اور یہاں ہونے والی سرمایہ کاری بھی محفوظ ہے جبکہ دوسری جانب بلوچ مسلح مزاحمت کار وقتاً فوقتاً کامیاب حملے کرکے دشمن قوتوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ بلوچ کی سرزمین پر بلوچ عوام کی مرضی و منشاء کے بغیر کو منصوبہ اور سرمایہ کاری کامیاب نہیں ہوسکتی۔
دریں اثنا بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے گُرانڈانی کے مقام پر زیر تعمیر بین الاقوامی ائیرپورٹ پر دو MM 107 کے راکٹ فائیر کئے جو ائیر پورٹ کے احاطے میں جاگرے۔
ترجمان گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ ائیرپورٹ کی تعمیر بلوچوں کی ذاتی زمینوں پر قبضہ کرکے شروع کی گئی تھی جو بلوچ عوام کی مرضی و منشا کے خلاف ہے اور ایسے کسی منصوبے کے سامنے بی ایل ایف کے سرمچار رکاوٹ ہونگے جو بلوچوں کی مرضی کے خلاف ہوگی۔
گہرام بلوچ نے اس عزم کو دفعہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ قابض پاکستان پر اس طرح کے حملے آزاد بلوچستان کے قیام اور قابض افواج کی مکمل بے دخلی تک جاری رہیں گے۔


