کیچ (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تگران (گیشردان) میں فوج نے جارحیت کرتے ہوئے علاقے کے لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پورا علاقہ خالی کروالیا۔
تفصیلات کے مطابق تگران کا علاقہ گیشر دان کے لوگ انتہائی غربت کا شکار ہیں اور ان کا گُزر بسر صرف ایرانی سرحدی تجارت سے وابسطہ ہے جہاں سے وہ صرف اپنی زندگی کے انتہائی بنیادی ضروریات ہی پوری کرسکتے ہیں ایسے میں ان کے لئے علاقہ چھوڑنا انتہائی مشکل کام ہے جہاں بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے وہ مزید مشکلات کا شکار ہونگے۔
ذرائع کے مطابق پچھلے دنوں قریبی پہاڑی علاقوں میں بلوچ مزاحمت کاروں نے قابض فوج پر حملہ کیا تھا جس کے بعد اخلاقیات سے عاری فوج نے اپنا غصہ عام غریب لوگوں پر اُتارا اور جارحیت کرتے ہوئے علاقے پر حملہ کردیا جہاں پر علاقے کے تمام لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر دو دن میں علاقہ خالی نہیں کیا گیا تو تمام لوگوں کو ان کے گھروں کے ساتھ جلا دیا جائے گا۔
ہمگام نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ لوگ ڈر اور خوف کی وجہ سے اپنے آباد اجداد کا علاقہ چھوڑ کہیں اور منتقل ہورہے ہیں جہاں ان کو چھت بھی نصیب نہیں ہوگی۔
متاثرین سے رابطہ کرنے پر انہوں نے نمائندہ ہمگام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے درخواست کی کہ رمضان کا پاک مہینہ ہے، ہم روزے دار لوگ ہیں لہٰذا رمضان کے دوران تو یہ ظلم نہ کیا جائے اور عید تک ہمیں یہیں رہنے دیا جائے اس کے بعد ہم کہیں اور منتقل ہوجائیں گے مگر قابض فوج نے ہماری ایک بھی نہیں سُنی اور کہا کہ دو دن کی مہلت ختم ہونے کی صورت میں پوری آبادی کو ان کے گھروں سمیت آگ لگادی جائیگی جس پر ہم نے ڈر اور خوف کے مارے علاقہ خالی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
علاقہ متاثرین نے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم حکومت وقت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ہماری مدد کریں کیونکہ نہ ہمارے پاس کہیں کوئی زمین وغیرہ ہے کہ ہم کوئی خیمہ ہی لگا کر رہ سکیں اور نہ ہی پیسے جس سے ہم زمین خرید کر اپنے لئے چھت کا بندوبست کرسکیں۔ ایسے حالات میں ہم اپنی خواتین اور معصوم بچوں کو لیکر کہا جائیں؟ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یا تو ہمیں اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت دیں یا کہیں اور ہمارے لئے کوئی مناسب بندوبست کریں۔


