جنوبی افریقہ(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ میں ہفتے کو چرچ پر حملے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے اور حملہ آوروں نے چند افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جنہیں بعد میں رہا کرا لیا گیا۔
پولیس ترجمان وشنو نائیڈو نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زوربیکوم میں پینٹے کوسٹ ہولی نیس چرچ پر حملہ کرنے والے 40 افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور رائفلز، شاٹ گن سمیت بڑی تعداد میں اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ چار افراد گاڑی میں گولیاں لگنے سے ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور گاڑی میں ایک سیکیورٹی گارڈ گولی لگنے سے مارا گیا، چھ افراد زخمی بھی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے مرد، خواتین اور بچوں کو بچا لیا جنہیں مسلح افراد نے یرغمال بنا لیا تھا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے افراد کو بازیاب کرایا گیا۔
نیشنل پولیس کمشنر نے کہا کہ پولیس نے فوری کاروائی کر کے حملہ آوروں کی کارروائی کو ناکام بنا دیا ورنہ یہ انتہائی خطرناک خونی معرکہ ہو سکتا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں پولیس اور دفاعی افواج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس نے اس سے قبل ٹوئٹر پر ضبط کیے گئے اسلحے کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فائرنگ اور یرغمالی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں، مقامی میڈیا کے مطابق حملے کے ممکنہ محرکات چرچ میں دو مخالف گروپوں کے درمیان تنازع ہو سکتا ہے۔
نائیڈو نے کہا کہ پوری صورتحال انتہائی خراب ہے لہٰذا ہم نے ان تمام افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر ہمیں شک ہے، ہم انٹرویو اور تفتیش کر رہے ہیں تاکہ واردات کے محرکات کو جان سکیں۔


