واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کرے تو ہی اس پر لگے پابندیاں ختم کریں گے۔
اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے کے اگلے ہی روز بدھ کو پہلی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اینٹنی بلنکن نے کہا کہ امریکہ جوہری معاہدہ بحال کرنے کے مرحلے سے ابھی بہت دُور ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ وہ ایران کا یہ دباؤ ہرگز قبول نہیں کریں گے کہ جس میں امریکہ سے پہل کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اسی صورت بحال ہو سکتا ہے اگر ایران جوہری معاہدے پر مکمل عمل کر کے دکھائے۔
بلنکن کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کی کئی شقوں پر ایران اب بھی عمل نہیں کر رہا اور شاید اسے یہ فیصلہ کرنے کے لیے وقت چاہیے کہ وہ جوہری معاہدے پر عمل کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ لہذٰا ہم بھی صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے خطے میں موجود اتحادیوں سے بھی مشاورت کریں گے۔
امریکی صدر جو بائیڈن کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاملات سفارتی سطح پر طے کرنا چاہتے ہیں، بشرطیکہ ایران عالمی قوتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے پر من و عن عمل کرے۔
جوہری معاہدے کے تحت ایران نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہو گا جب کہ اس کے بدلے امریکہ نے اس پر عائد پابندیاں ہٹا لی تھیں۔
البتہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔
امریکہ کا یہ الزام رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو خطرہ ہے۔ تاہم ایران کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر مجید تخت روانچی نے بدھ کو امریکی اخبار ‘نیو یارک ٹائمز’ میں لکھے گئے اپنے مضموں میں کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کو ٹرمپ دور میں ایران پر عائد کی جانے والی تمام پابندیاں فوری طور پر ہٹانی چاہییں۔
مجید تخت روانچی کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد ہی ایران جوہری معاہدے میں واپسی پر سوچے گا۔


