زاہدان (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق ایران نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کی اپیلوں کے باوجود بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے نوجوان جاوید دہقان کو پھانسی دے دی ہے۔
ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 31 سالہ جاوید دہقان کو صوبہ سیستان بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان کی سنٹرل جیل میں ہفتے کو علی الصباح تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔
مصلوب دہقان مبیّنہ طور پر سنی جنگجو گروپ جیش العدل سے تعلق رکھتے تھے۔انہیں 2015ء میں ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے دواہلکاروں کے قتل کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔جیش العدل سیستان ، بلوچستان میں بلوچ اقلیتی نسل کو بنیادی حقوق دینے اور ان کی معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ایرانی نظام کے خلاف جدوجہد کررہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے ایک روز قبل ہی جاوید دہقان سمیت بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے متعدد قیدیوں کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
دفتر نے جمعہ کو ٹویٹر پر ایک بیان میں ایران میں وسط دسمبر کے بعد سے پھانسیوں کی شدید مذمت کی تھی اور کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ میں 28 افراد کو ایران میں پھانسی دی جاچکی ہے۔اس نے ایرانی حکام سے جاوید دہقان اور سزائے موت پانے والے دوسرے قیدیوں کے مقدمات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔
زاہدان میں دسمبر میں بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو ’’غیر واضح‘‘ الزامات پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔اس صوبہ میں ایرانی سکیورٹی فورسز کی مسلح اسمگلروں اور سنی جنگجوؤں سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔


