یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںمقبوضہ بلوچستان میں ایران کے ریاستی مظالم کے خلاف ایف بی ایم...

مقبوضہ بلوچستان میں ایران کے ریاستی مظالم کے خلاف ایف بی ایم کے ٹوئیٹر کمپیئن کے بارے میں ہمگام رپورٹ 

سوشل میڈیا فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے اعلان کردہ ٹوئیٹر کمپیئن پر ایرانی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ جوانوں اور مقبوضہ مغربی بلوچستان میں انسانیت سوز واقعات کے خلاف سوشل کمپین ہیشٹگ #IranStopKillingBaloch

 کے نام سے چلائی گئی ۔جس میں مقبوضہ مشرقی اور مغربی بلوچستان کے سیاسی و سماجی کارکنوں نے بھرپور حصہ لیا ۔جس کا مقصد ایران میں بلوچ قوم پر ہونے والے انسانیت سوز واقعات اور انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانااور دنیا کو اس مسئلے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔

بلوچستان کے تقسیم شدہ علاقے ۔۔۔۔۔۔۔

 بلوچستان خطہ انتظامی طور پر تین ممالک ، پاکستان ، افغانستان اور ایران میں تقسیم کیا گیا ہیں۔ علاقہ اور آبادی کے لحاظ سے بڑا حصہ مشرقی بلوچستان ہےجو پاکستان میں ہے ۔اس کے بعد علاقے اورآبادی کے لحاظ سے مغربی بلوچستان ہے جو ایران میں ہے۔اور بلوچستان جو افغانستان میں تقسیم ہے وہ آبادی اور زمینی لحاظ سے مشرقی و مغربی بلوچستان سے کافی حد تک کم ہے۔جو ولایت نیمروز اور جنوبی ہلمند اور قندھار کے ریگستانی سرحدی علاقے میں شامل صحرائی ریگستان تک پھیلی ہوئی ہے ۔

وقت کے ساتھ ساتھ بلوچستان جو ایک وقت میں وسطی ایشیا میں ایک وسیع رقبہ پر مشتمل تھا آج وہ مشرق و مغرب میں کم آبادی کے سبب ریاستی آبادیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ معاشی، سیاسی اور ریاستی انسانیت سوز جرائم کے مسائل سے دوچار ہیں۔

یاد رہے مقبوضہ مغربی بلوچستان کو قابض برطانوی سامراج نے 1839کے بعد بلوچستان میں داخل ہونے کے بعد اپنے مفادات کی خاطر تقسیم کرکے پاکستان بنایا تھا۔ اور یہ تقسیم برطانوی لارڈ گولڈ اسمتھ کے دور میں کیا گیا تھاجو لارڈ اسمتھ لائن کے طور پرجاناجاتا ہے۔اور یہ مقبوضہ مشرقی مغربی اور شمالی بلوچستان کو تقسیم کرتی ہیں ۔کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج تک اسے بلوچ قوم نے مسترد کردیا ہیں اور اسے برطانوی حکومت کی طرف سے بلوچ قوم کے خلاف ایک ظلم کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔

مقبوضہ مغربی بلوچستان میں عوامی احتجاج کی موجودہ لہر ۔۔۔۔۔

حال ہی میں دہشتگرد پسند آرمی سپاہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کے طرف سے 22 فروری 2021 کو مقبوضہ بلوچستان کے شہر سراوان/شستون میں بلوچ نوجوانوں کی شہادت کے بعد مقبوضہ مغربی بلوچستان میں نہ روکنے والا احتجاج کا لہر شروع ہوا ہے ۔

جس کو روکنے کے لئے ایران نے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے جس میں اب تک کہی افراد جان بحق ہو چکے ہیں ۔ایران مقبوضہ مغربی بلوچستان میں عوامی احتجاج کو بزور طاقت ختم کرنے کیلئے ہر زریعہ استعمال کررہا ہے. جس میں ٹینک, ہیلی کاپٹرز کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات شامل ہیں ۔جس کی خلاف بلوچ قوم میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہیں ۔

سیاسی حلقوں کی طرف سے مذمت،——–؛ –

اس کی ساتھ ساتھ بلوچ قوم پر ریاست ایران کے مظالم کے خلاف دنیا کے کئی سیاسی حلقوں نے مذمت کی ہیں ۔جن میں ان کے دہشتگردانہ کار روائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ عرب قومی قوت کی جانب سے ایران کی جارحیت کے خلاف بلوچ قوم کی حمایت اور گجر کے مخالفت میں ایک مشترکہ مزمتی بیان جاری کیا گیا تھا جس میں عرب قوم دوست قوتیں مقبوضہ بلوچستان کے عوام کے خلاف سپاہ پاسداران انقلاب کی طرف سے کی جانے والی مجرمانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران کئی دہائیوں سے مظلوموں پر نہ ختم ہونے والے مظالم کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے مظلوموں کی قومی وقار اور بقا کو نقصان پہنچایا گیا ہیں ۔جس میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ روز مقبوضہ بلوچستان میں جو المناک سانحہ پیش آیا جس سے درجن بھر غریب بلوچ مزدوروں کو شہید اور متعدد کو زخمی کیئے اس سانحہ نے انسانی روح کو تڑپا دیا ہے اس ظالمانہ اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران بلوچستان میں کتنا ظلم و جبر کر رہا ہے ـ انھوں نے مشترکہ طور پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 22 فروری 2021 کو بلوچستان کے شہر سراوان/شستون میں ایرانی فوج نے جو تشدد غریب بلوچ مزدوروں پر کیا ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور تمام بلوچ شہدا کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی صحتیابی کے لیئے دعا گوں ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس رکن یوتے ہیرل کی مقبوضہ مغربی بلوچستان کے حقوق و آزادی کےلئے جدوجہد کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے سماجی رابطے کے سائٹ اپنے ٹوئٹر اکاونے پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوری طریقے سے ایرانی عوام کے ساتھ ہیں انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان کی آزادی و حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہیگی اس کے ساتھ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ کے ساتھ ایرانی امریکن فارلبرٹی نامی سول سوسائٹی کا پریس ریلیز شیئر کیا۔جس میں انہوں نے مقبوضہ مغربی بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر ایرانی مقتدرہ پر تنقید کی ۔

اس کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم دوست رہنما اور فری بلوچستان مومنٹ کے صدر واجہ حیربیارمری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پراپنے تازہ بیان میں کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ جوادظریف اور ایرانی ملا دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکی پابندیاں اقتصادی دہشت گردی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایرانی ریاست خود بلوچ قوم کے خلاف معاشی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ 22 فروری کو ایرانی دہشت گرد قابض فوج آئی آر جی سی نے بلوچستان کو تقسیم کرنے والے خودساختہ و غیرفطری سرحد پر 10 سے زائد بلوچ تاجروں کا قتل عام کیا اور کئی درجن افراد کو زخمی کیا۔ ان تاجروں کے قتل عام کے بعد قابض ایرانی فورس نے ان کی پک اپ گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔ بلوچ رہنما نے مزید کہا کہ ایران نے نہ صرف بلوچستان پر قبضہ کیا ہے اور اس کے قدرتی وسائل کو لوٹ لیا ہے بلکہ اس نے ہمارے وطن بلوچستان میں بلوچ لوگوں کی نقل و حرکت پر بھی سختی سے پابندی عائد کردی ہے

سوشل میڈیا کمپین میں صارفین کا اظہار خیال ۔۔۔

اس سوشل میڈیا کمپین کے دوران ایف بی ایم کے مختلف سیاسی کارکن ،کیڈر اور لیڈر نے اپنے رائے کا اظہار یوں کیا

بلوچ لیڈر اور فری بلوچستان مومنٹ کے سربراہ حیر بیار مری اس انسانیت سوز واقعہ قرار دیتے ہوئے پر ٹویٹ کرتے ہے ۔

کہ کوئی نوآبادیاتی کسی قوم کو ہمیشہ کے لئے تقسیم نہیں کرسکتا اور کوئی مصنوعی سرحد بلوچ قوم کو الگ نہیں رکھ سکتی۔ہم ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

فری بلوچستان موومنٹ کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ

گمشادبلوچ نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھتے ہے کہ ایران نہ صرف بلوچ عوام کو محکوم کررہا ہے بلکہ وہ طالبان جیسے بنیاد پرست قوتوں القاعدہ ، کو پناہ دے کر عالمی سلامتی اور علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

ایک اور صارف بنام ٹوئٹر اکاؤنٹ آجوئی بلوچ

لکھتے ہے۔

35 سے زائد بلوچ تاجروں کا قتل عام اور 100 سے زائد افراد کو زخمی کرنا ایران کی بدترین دہشت گردی ہے اور یہ واقع بین الاقوامی تنظیم اور ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے منہ پر تمانچے کے مترادف ہیں ۔

شورش بلوچ اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہے۔

غلامی انسانی حقوق کی پامالیوں اور نوآبادیات کی صورت میں اب بھی موجود ہے۔ ایران کی طرف سے مقبوضہ بلوچستان میں ہونے والی بربریت اس کی واضع مثال ہے۔

ایف بی ایم ایکسٹرنل ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ سنگت حیدر کے بی بلوچ اپنے ٹوئیٹ میں لکھتے ہے ۔

ایران صرف بلوچ قوم کے لئے ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران پورے خطے کے امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

ایف بی ایم کے کارکن ممتاز بلوچ جو اپنے ٹوئیٹ میں لکھتے ہے۔

ایران اور پاکستان نے آزاد بلوچ سرزمین پر قبضہ کیا ہے اور وہاں کے باشندوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ بلوچ عوام کو دونوں اسلامی انتہا پسندوں کی نسل کشی کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں روزانہ بلوچ مارے جارہے ہیں

ایف بی ایم کے ایک اور کارکن ڈاکٹر جان محمد بلوچ حال ہی میں ایرانی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایک نوجوان کے تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھتے ہے ۔

‏قابض پاکستان اور ایران نے بلوچوں کو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے۔ دوسری طرف جب وہ زندگی گزارنے کے لئے کوشش کرتے ہیں تو اُنہیں قابض حکومت کے درندہ فورسز اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیتے ہیں ۔

ایف بی ایم کے نیشنل کونسل کے ممبر آرچن بلوچ اپنے ٹویٹ میں خیالات کااظہار کرتے ہوئے لکھتے ہے۔

ہمیں اس مطالبے کے لئے قتل نہیں کیا جانا چاہئے کہ ہماری خود مختاری کو دوبارہ بحال کرنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ ہم ایران اور پاکستان دونوں کے فوجی جارحیت سے اپنی خودمختاری کھو بیٹھے ہیں!

ایف بی ایم کے ٹرائبل ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ اور کالم نگار حفیظ حسن آبادی اظہار خیال کرتے ہوئے ٹویٹ کرتے ہیں ۔

‏بلوچ مغربی،مشرقی،شمالی اور نہ ہی جنوبی بلوچستانی ہے وہ فقط بلوچ ہے. اپنی سرزمین پر رہتے ہوئے اپنے تمام انسانی حقوق سے محروم ہے. اسے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیلئے لازم ہے کہ وہ صرف اور صرف بلوچ بنے. اسے مصنوعی لکیریں جدا نہیں کرسکتے اور نہ مذہبی رنگت و تضادات اس درمیان میں آسکتی ہے۔ ‎

ایف بی ایم کے متحرک ممبر سنگت عامر بلوچ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے ٹوئیٹ لکھتے ہے۔

کہ بلوچستان کا پرچم جناح اور خمینی کی دہشت گردی اور جعلی نظریات کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے ان انتہا پسندوں نے جعلی قوم تشکیل دی اور آج مذہب کے نام پر بلوچستان پر قبضہ کیا ہوا ہے ہم بلوچ قوم آج بلوچ رہبر حیربیار مری کی قیادت میں متحد ہیں۔

ایف بی ایم کے ممبر نوہان بلوچ لکھتے ہے کہ ایف بی ایم نے تمام آزاد خیال بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسان دوست سوشل میڈیا کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی جارحیت اور ان جابرانہ قوتوں کے جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے کے لئے اس مہم میں حصہ لیں۔ انسان دوستی کے لئے اپنا اخلاقی سیاسی اور قومی کردار ادا کریں۔

اس سوشل میڈیا کمپین میں ایف بی ایم کے بہت سے ممبران نے بلوچستان کے پرانے نقشہ شیئر کرتے ہوئے اپنے رائے کا اظہار یوں کیا۔

صوبدار بلوچ لکھتے ہے۔ایران کے نقشے میں جو سرخ حصے ہے یہ وہ بلوچستان کے علاقہ ہے جو قبضے ہوچکے ہيں ۔اور مزید لکھتے ہے اب بلوچ قوم ان کے خلاف ٹویٹر پر عالمی مہم چلارہی ہے۔

مزید لکھتے ہے گولڈ سمتھ لائن کے دونوں اطراف کی بلوچ قوم ایرانی قبضے کے خلاف عالمی سطح پر ٹوئیٹر مہم چلا رہی ہے۔اور اپنے ہیشٹیگ کے ساتھ آخر میں لکھتے ہے بلوچ قوم کی آواز بنو۔

ایف بی ایم کے آرچن بلوچ اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہے۔بلوچ کو ایران و پاکستان سے کچھ نہیں ملا ماسوائے ظلم جبر و بربریت کے۔ ایران اور پاکستان نے ہمارے ملک پر ہماری مرضی کے خلاف حملہ کرکے قبضہ کیا۔

اب انہوں نے ہمارے ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

اس سوشل میڈیا کیمپین میں لوگوں نے اپنے رائے کے ساتھ ساتھ مختلف انسانیت سوز وڈیوز بھی پوسٹ کئے۔جن میں شدت پسند آرمی سپاہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو نہتے لوگوں کو ناقابل برداشت تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حال ہی میں شہید ہونے والے بلوچ نوجوان کی لاشوں کی تصویروں کو بھی اس کمپیئن میں شامل کیا گیا ۔

بہرحال اس سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے لوگوں کے اپنے آراء کا اظہار ،یکجہتی قوم دوستی وطن دوستی اور عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل برادری کو مقبوضہ بلوچستان میں ایران و پاکستان کے غیرانسانی جرائم سے آگاہ کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہوئے ایف بی ایم کے مرکزی کال کو ٹوئیٹر میں 4724 ٹوئیٹ کی ہدف حاصل کرتے ہوئے ٹرینڈ کروانے میں اہم کامیابی حاصل کی ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز