چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںسنکارا کا کردار اور بلوچ خواتین (تحریر: ایڈوکیٹ صادق رئیسانی)

سنکارا کا کردار اور بلوچ خواتین (تحریر: ایڈوکیٹ صادق رئیسانی)

” مغربی افریقی ملک اپر وولٹا کی برکینا فاسو (جو 1983 کے اگست انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے) کی انقلابی   سنکارا نے اپنے ملک کے لیے عورتوں کے شانہ بشانہ  شدید مزاحمت کرتے ہوئے  افریقی سیاسی رہنماؤں کو بھی تبدیلی لانے کے لیے متحد کرنے اور انقلاب میں عورتوں کو ساتھ ملاتے ہوئے افریقہ میں انصاف رواداری کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کی بنیاد رکھی، آج جس کے اثرات سے افریقہ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو رہا ہے” دنیا کے دیگر اقوام کی طرح بلوچ قوم کے لیے  بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کی تحریک آزادی کے لیے بلوچ خواتین کو سپیس دیکر انصاف و برابری کے ساتھ اعتماد کرکےان کے شانہ بشانہ بلوچ قومی تحریک کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے اصولی اتحاد سے پاکستان اور ایران کو مقبوضہ بلوچستان سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، بلوچ خواتیں کی حوصلہ افزائی کے لیے بلوچ آزادی پسند حلقے  موقع فراہم کرنے کی کوشش کریں تاکہ بلوچ معاشرے کی نصف آبادی سے زیادہ عورتوں کے کردار کو جھٹلایا نہیں جا سکتا اور وطن کی آزادی ہمیں اس وقت نصیب ہو گی جب ہم بلوچ خواتین کو سیاسی عمل میں حصہ دار بنائیں اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی مثال دینے کی بجائے خود مثال بن جائیں۔

ویسے اگر بلوچ قوم کی تاریخ کو دیکھیں تو بلوچ تاریخ میں بانڑی بلوچ، گل بی بی بلوچ، بی بی مہتاب بلوچ، کریمہ بلوچ ، لمہ ڈاڈی بلوچ اور دوسرے بلوچ خواتین کا کردار ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ بلوچ قوم بلوچ خواتین کے شانہ بشانہ مزاحمت کرنے کا ہنر رکھتی ہے مگر اس کے لیے ہمیں اور بھی کوششیں  کرنے کی اشد  ضرورت ہے تاکہ ہر بلوچ گھر کے مرد و زن شانہ بشانہ انقلاب کے لیے اٹھ کھڑے ہو جائیں اور بلوچ مرد و زن ایک ساتھ مزاحمت کی علامت بن جاہیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان اور ایران مقبوضہ بلوچستان سے بے دخل ہو جاہیں گے اور بلوچ قوم آزادی کے ساتھ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا ۔

سنکارا کی سیاست اور سیاسی قیادت نے اس خیال کو چیلنج کیا کہ صرف مرد ہی اس سرزمین کے مالک ہیں کیونکہ سنکارا کا قول ہے کہ آدھے آسمان کے مالک عورت ہیں، برکینا فاسو کے صدر کی حیثیت سے چار سالوں کے دوران ، انہوں نے لوگوں کے ساتھ انسانی ، معاشرتی ، ماحولیاتی اور عورتوں کے حقوق   سے آگاہی اور قبضہ گیر کے خلاف  نجات بخش سیاست کی تعمیر کے لئے کام کیا۔ عوامی مراکز انقلاب براعظم میں نئے معاشرتی ترقی کی طرف منتقل ہونے کا ایک اہم پیش رفت تھا ہمیں برکینبی انقلاب سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے بلوچ معاشرہ ایک روشن خیال معاشرہ رہا ہے جہاں عورتوں کے شانہ بشانہ ہر کام کو انجام دیا جاتا رہا ہے چاہے وہ گھریلوں میدان ہو یا دشمن سے اپنے قومی دفاع کا جنگ ہو بلوچ قوم کے عورتوں نے بلوچ مردوں کے شانہ بشانہ مزاحمت کرتے ہوئے سرزمین کا قرض چکانے کی بھر پور کوشش کی ہے اور ہمیں امید رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں بھی بلوچ بھائی اپنے بلوچ ماں بہنوں کے ساتھ ساتھ اپنا کردار ادا کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے ۔

کیمرون کے اینٹیولوجینئل مورخ مونگو بیٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے سنکارا نے کہا ، کہ ہم مرد و خواتین کی مساوات کے لئے لڑ رہے ہیں۔کیونکہ سرزمین ماں کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں سمجھنا چاہیے  کہ دیکھنے میں مرد عورت پر حکمرانی کرتی ہے مگر نفسیاتی طور پر عورت کا مقام مرد سے اعلی ہے  بلکہ  فطری طور پر قوانین بننے سے پہلے خواتین کو مردوں کا مساوی بناتے ہیں خواتین کی آزادی سے ان کی تعلیم اور ان کی معاشی طاقت کے حصول کی ضرورت ہے۔اس طرح مردوں کے ساتھ ہر سطح پر مساویانہ جدوجہد کرنے کی مشقت ایک ہی ذمہ داریوں اور ایک جیسے حقوق اور ذمہ داریوں کا حامل ہونا انقلاب سے پہلے انقلاب کی نشانی ہے ۔

سنکارا کی طرح دنیا کے دیگر خواتین کی مثال کو لیکر دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ خواتین و مرد ایک ساتھ مل کر اس دنیا کی ترقی میں اہم کردار ادا کیے ہیں اگر خواتین کو گھر کی چاردیواری سے باہر اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت نہ دی جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وہ سماج بھانج ہی رہے گا کیونکہ بچوں کی تربیت کا دارومدار خواتین پر ہوتا ہے اگر خواتین باعلم باشعور ہوں تو نئی پیڑی باشعور و باعلم ہوگی اور اپنے حقوق و معاشرے کی ترقی میں منصفانہ انداز میں اپنا کردار ادا کرے گی. بلوچ معاشرے کی تاریخی روایات کو لیکر جدید دنیا کے ساتھ ہم قدم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ سیاسی پارٹیاں اس حوالے سے اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ بلوچ معاشرہ مرد و زن ایک ساتھ بلوچ قوم کی ترقی و آزادی میں اپنا یکساں کردار ادا کریں. تب یہ امید کی جاسکے گی کہ بلوچ اپنے منزل مقصود کو پانے میں کامیاب ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز