ماسکو(ہمگام نیوز)روس نے افغانستان میں قائم ہونے والی عبوری حکومت میں طالبان کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق
روس نے جمعہ کے روز کہا کہ افغانستان میں آئندہ کی عبوری حکومت میں طالبان کے انضمام کی حمایت کرتے ہے ۔
ماسکو18 مارچ کو افغانستان کے بارے میں ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے والا ہے اور اس نے طالبان کے نمائندوں سمیت متعدد علاقائی کھلاڑیوں کو بھی مدعو کیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ماسکو میں آئندہ ہفتے مذاکرات سے قبل نامہ نگاروں کو بتایا کہ عبوری جامع انتظامیہ کا قیام طالبان کو افغانستان کی پرامن سیاسی زندگی میں ضم کرنے سے مسئلے کا منطقی حل ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ فیصلہ خود افغانوں کو کرنا چاہئے اپنے قومی مفاہمت کے خاطر اسی بات چیت کے دوران حل کرنا چاہیے اور مزید یہ بھی کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک عبوری جامع انتظامیہ کا قیام اور اس میں طالبان کی شمولیت افغانستان کے مسئلے کا منطقی حل ہوگا۔
افغانستان کے حوالے سے اس پیشرفت کو یکم مئی کو غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے تمام فریقین پر مشتمل عبوری حکومت کے قیام کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا ہے۔


