تربت (ہمگام نیوز) بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل زامران کے علاقے نوانو میں بارڈر کراس کرنے کے لیے طویل انتظار میں ایک گاڑی ڈرائیور بھوک اور پیاس کی شدت سے شہید ہوگیا۔
تاہم آج ایک بار پھر ایک تصویر گردش میں ہے کہ بھوک اور پیاس سے بارڈر پر ایک ڈرائیور کی شہادت ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نوانو بارڈر پر تیل بردار گاڑی کے ڈرائیور استاد فضل بھوک اور پیاس شدت برداشت نہ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی دشت سے تعلق رکھنے والے تین افراد وابض پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر طویل قطار اور انتظار کی وجہ سے بھوک اور پیاس سے شہید ہوگئے تھے۔
اس وقت ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں قابض پاکستانی فوج نے روک رکھی ہیں اور ان سے زبردستی مشقت کروائی جا رہی ہے۔
شدید گرمی میں ہزاروں ڈرائیور اس وقت ایف سی کی نگرانی میں مشرقی اور مغربی سرحد پر باڑ کے لیے کھڈے کھود رہے ہیں۔
لوگوں کے پاس پانی اور خوراک ختم ہوچکے ہیں لیکن قابض فوج کے اہلکار انہیں نہ آگے جانے دے رہے ہیں اور نہ واپس گھر کی طرف جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ بارڈر بندش کیخلاف گذشتہ دنوں پنجگور اور تربت میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے جہاں گوادر سوراب شاہراہ کو بھی کئی گھنٹوں تک بند کردیا گیا تھا تاہم ڈپٹی کمشنر کیچ کی یقین دھانیوں کی وجہ سے مظاہرین نے سڑک ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے کھول دی تھی۔


