واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے یکم مئی سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دہائی کے دوران افغانستان میں امریکی مقاصد ’غیر واضح‘ ہو چکے ہیں۔
’یہ کئی نسلوں تک جاری رہنے والا معاملہ نہیں تھا۔ ہم پر حملہ ہوا تھا اور ہم نے واضح اہداف کے ساتھ جنگ شروع کی تھی۔ ہم نے اپنے وہ تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔
انہوں نے القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی 2011 میں امریکی فوجی آپریشن میں ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کو افغانستان میں ’کمزور‘ کر دیا گیا ہے۔ ’اب دائمی جنگ کو ختم کرنے کا وقت آ چکا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم طالبان کو ان کے ان وعدوں پر جواب دہ بنائیں گے کہ وہ ایسے (غیر ملکی) دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر جگہ نہ دیں جو امریکی اور امریکی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اس حوالے سے افغان حکومت نے بھی ہم سے وعدے کیے ہیں۔
صدر بائیڈن بدھ کو آرلنگٹن نیشنل سیمیٹری میں افغان جنگ میں جانبحق ہونے والے امریکی فوجیوں کی قبروں پر گئے۔
انہوں نے کہا ’ہم نے خطے کے دوسرے ممالک سے بھی افغانستان کی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ خاص طور پر پاکستان، روس، چین، بھارت اور ترکی سے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مدد کے لیے پاکستان کو ’مزید اور‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک افغانستان کے مستحکم مستقبل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے باقی 2500 امریکی فوجیوں کی افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن 11 ستمبر مقرر کر دی جو کہ ٹھیک وہی دن ہو گا جب 20 سال قبل القاعدہ نے امریکہ پر حملے کیے تھے اور جس کی وجہ سے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔
اس جنگ میں اب تک 2448 امریکی فوجی جانبحق ہو چکے ہیں جبکہ ایک تخمینے کے مطابق امریکہ کے دو کھرب ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں۔ 2011 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔
واضح فتح کے بغیر انخلا سے امریکہ نے خود پر تنقید کے دروازے کھول دیے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر کو یکم مئی کی ڈیڈلائن اپنے ری پبلکن پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ سے ورثے میں ملی تھی۔
صدرٹرمپ نے بھی جنوری سے قبل افغانستان سے فوجی انخلا کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے لیکن اب صدر بائیڈن نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ انخلا یکم مئی سے شروع ہو کر 11 ستمبر کو مکمل ہو جائے گی۔
انخلا کے ساتھ ہی صدر بائیڈن اپنی صدارت کے آغاز سے ہی ان خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جو ان سے پہلے صدور کے لیے بھی بہت مشکل ثابت ہوا تھا۔ ان میں القاعدہ کے دوبارہ مضبوط ہونے اور طالبان کے کابل حکومت پر قبضہ کرنے کے امکانات شامل ہیں۔
صدر بائیڈن کا کہنا تھا ’میں وہ چوتھا امریکی صدر ہوں جسے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کا سامنا ہے۔ ان چار میں دو ڈیموکریٹ اور دو ری پبلکنز صدور شامل تھے۔ میں یہ ذمہ داری پانچویں صدر کو سونپ کے نہیں جاؤں گا۔‘
انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوجی امن کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔ ’ہم نے ایک دہائی تک اس پر غور کیا لیکن یہ کبھی موثر ثابت نہیں ہوا۔ امریکی فوجیوں کو دوسرے ممالک کے جنگجو گروہوں کے درمیان پیادوں کی طرح استعمال نہیں کر سکتے۔
واضع رہے افغانستان میں اس وقت 2500 امریکی فوجی تعینات ہیں جنہیں 11 ستمبر تک واپس بلا لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں اور امریکی فوجیوں کو ایک غیر ملکی زمین پر چھوڑنے کی ایک بڑی مالی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جس کی کوئی وجہ نہیں۔
’امریکی صدر کے خطاب کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ان کی صدر بائیڈن سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ اس حوالے سے امریکی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ اگلے مرحلے تک منتقلی کو ہموار بنائیں گے اور اپنے امریکی اور نیٹو ساتھیوں کے ساتھ جاری امن عمل کے لیے مل کر کوشش کریں گے۔
افغان طالبان نے ایک بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا میں ستمبر تک تاخیر کے اعلان کو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا کو جاری ایک بیان میں طالبان کا بین الاقوامی برادری سے کہنا تھا کہ وہ امریکہ کو دوحہ معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کا پابند بنائے۔
ان کا مزید کہنا تھا بقول ان کے کہ ’اب جبکہ امریکہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو اصولی طور پر اس سے مجاہدین اسلامی امارت کے لیے ہر ضروری جوابی اقدام کرنے کا راستہ کھل گیا ہے، لہذا امریکہ کو نہ کہ اسلامی امارت کو مستقبل کے تمام نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
طالبان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب جب امریکہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو اصولی طور پر اس سے افغان طالبان کے لیے ہر ضروری جوابی اقدام کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان نے ترکی کے شہر استنبول میں 24 اپریل کے لیے طے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’اسلامی امارات دوحہ معاہدے میں طے شدہ تاریخ تک ہمارے وطن سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلا چاہتی ہے۔ اگر معاہدے پر عمل ہوتا ہے تو باقی مسائل حل کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا جائے گا۔
انہوں نے بدھ کو امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل کرے۔
اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور مقررہ تاریخ تک غیر ملکی افواج ہمارے ملک سے نہیں جاتیں تو مسائل ضرور بڑھ جائیں گے اور جنہوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔


