یکشنبه, سپتمبر 29, 2024
Homeخبریںبھارت میں سمندری طوفان کے سبب 16 افراد ہلاک، درجنوں کشتیاں غائب

بھارت میں سمندری طوفان کے سبب 16 افراد ہلاک، درجنوں کشتیاں غائب

دہلی(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق سمندری طوفان ”تاؤتے“ بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا۔ بھارت کی مغربی ریاستوں میں اس طوفان کے سبب اب تک سولہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور درجنوں کشتیاں غائب ہیں۔

مغربی ریاستوں مہارشٹر، گوا اور کرناٹکا اور گجرات سے، طوفان سے پہلے 2 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

مہارشٹر، گوا اور کرناٹکا کی ریاستوں میں اب تک اس طوفان کے سبب کم از کم سولہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایک خبر رساں ادارے کے مطابق پچیس سے زیادہ کشتیوں کا پتا نہیں چل رہا ہے۔

ماہرین ’تاؤتے‘ کو گزشتہ 20 برسوں میں آنے والا سب سے طاقتور طوفان قرار دے رہے ہیں۔

طوفان سے متاثرہ بھارتی ریاست کیرالا، کرناٹک اور مہاراشٹرا کے ساحلی علاقوں میں، حکام کے مطابق، جہاں جہاں سے یہ طوفان گزرا ہے، تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔

تیز بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی ترسیل معطل ہے۔ ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں میں بجلی کے کھمبے اور درخت اکھڑ گئے ہیں اور کئی عمارتیں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

210 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواوں کے ساتھ اس سمندری طوفان کو کیٹگری 3 کی طاقت کے برابر قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق، پیر کو طوفان کے پیشِ نظر بھارتی ریاست گجرات سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ حکام نے مرکزی ہوائی اڈے کو بھی پروازوں کے لیے بند کردیا ہے۔

اس سے قبل گجرات کے سیکریٹری ریونیو پنکج کمار نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ گزشتہ 20 برسوں میں شدید ترین طوفان ہے جو گجرات سے ٹکرائے گا۔

ان کے بقول، اس طوفان کا موازنہ 1998 میں آنے والے سمندری طوفان سے کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں بھاری نقصان ہوا تھا۔

سن 1998 میں آنے والے سمندری طوفان میں لگ بھگ چار ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں جب کہ کروڑوں ڈالر کی املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

خیال رہے کہ اس وقت بھارت کرونا وائرس کے باعث پھیلنے والی وبا کی شدید لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ پر پہلے ہی شدید دبائو ہے۔

عالمی ریڈ کراس کے بین الاقوامی وفد کے سربراہ اُدے ریگمی کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کروڑوں بھارتیوں کے لیے دگنی مصیبت کا باعث ہے کیوں کہ کرونا کے ریکارڈ کیسز اور اس کے باعث ہونے والی اموات نے پہلے ہی بھارتی خاندانوں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو بھارت میں کرونا کے دو لاکھ 81 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے جب کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 41 سو سے تجاوز کرچکی ہے۔

ہنگامی صورت حال کے باعث گجرات کی ریاستی حکومت نے دو دن کے لیے کرونا وائرس کی ویکسی نیشن معطل کردی ہے۔

ایک حکومتی بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ گجرات وجے روپانی نے حکام سے کہا ہے کہ کرونا کے متاثرین کا علاج کرنے والے اسپتالوں اور دیگر طبی سہولتوں کو بجلی اور آکسیجن کی فراہمی برقرار رکھی جائے۔

مہاراشٹرا میں طوفان کے پیش نظر حکومت نے ممبئی میں کرونا کے مریضوں کو عارضی مراکز میں منتقل کردیا ہے۔

بھارت کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق بحیرہ عرب میں بننے والے اس طوفان کو پہلے ’بہت شدید‘ قرار دیا گیا تھا جب کہ اب اسے ’انتہائی شدید‘ کے زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔

’تاؤتے‘ طوفان کی شمال کی جانب بڑنے سے بھارت کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں تیز بارشیں ہوئیں اور طوفانی ہوائیں بھی چلی ہیں۔ ممبئی میں طوفانی بارشوں کے باعث شہر کا ہوائی اڈہ بند کردیا گیا ہے جب کہ کئی سڑکیں بھی زیر آب آگئی ہیں۔

سمندری طوفان اپنے ساتھ 210 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کی ہوائیں بھی لایا ہے اس لیے بھارت کے محکمہ موسمیات نے اسے شدت کے اعبتار سے تیسرے درجے کا طوفان قرار دیا ہے۔ یہ محکمہ? موسمیات کے ’سپر سائیکلون‘ کے زمرے سے ایک درجہ کم ہے۔

ریاست گجرات کی انتظامیہ اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو ساحلی علاقوں سے منتقل کر چکی ہے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 50 سے زائد ٹیمیں تشکیل دی جاچکی ہیں۔

حکومت کے زیر انتظام گجرات کی سب سے بڑی بندرگاہ کنڈلا کے حکام کے مطابق نشیبی علاقوں سے پانچ ہزار افراد کو منتقل کردیا گیا ہے۔

گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی کا کہنا ہے کہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کیے جاچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خصوصی صورت حال کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کرونا کا سامنا کرنے میں مصروف ہے اور اب سمندری طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہورہی ہے۔

ریاست گجرات کے حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث یہاں پائے جانے والے ایشیائی شیروں کی معدوم ہوتی نسل کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

یہ شیر ریاست گجرات کے سوراشٹرا کے علاقے میں پائے جاتے ہیں جہاں طوفان کے باعث بڑی تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

گجرات کے جنگلات کے چیف کنزرویٹر شیمل ٹکادار کا کہنا ہے کہ سوارشٹرا کے ساحلی علاقے میں لگ بھگ 40 شیر موجود ہیں اور ہم مسلسل ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض شہری پہلے ہی بلند مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ ہم ان شیروں کے محفوظ رہنے کی امید کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان بھارت کے مغربی اور جنوبی حصوں سے ٹکرا چکا ہے۔

بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق ممکنہ طور پر آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اس طوفان کی شدت میں اضافہ ہوگا اور یہ شمال و شمال مغربی سے ہوتا ہوا 17 مئی کی شام تک گجرات پہنچ جائے گا۔

دوسری جانب بھارت کے محکمہ موسمیات کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ طوفان کے گجرات پہنچنے پر 175 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی تیز ہوائیں چلنے کا خدشہ ہے۔

قبل ازیں سرکاری تفصیلات کے مطابق ساحل کے شمال کی جانب منتقل ہونے کے بعد گووا اور کرناٹک میں چھ افراد کی موت کی اطلاع آئی تھی۔

رائٹرز کے مطابق تمل ناڈو ریاست میں رجسٹرڈ 31 کشتیاں لاپتا ہوچکی ہیں۔

اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کی جانب سے خبردار کردیا گیا ہے کہ طوفان کے بعد کئی علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جس کے باعث 21 مئی تک ریلوے سروس متاثر رہنے کا امکان ہے۔

اتوار کو بھارت میں نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مختلف ریاستوں کے حکومتی نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی 80 ٹیمیں مختلف ریاستوں میں تعینات کی گئیں۔

طوفان کی زد میں آں ے والی ریاست گجرات میں بھارت کی سب سے زیادہ تیل صاف کرنے والی ریفائنریز بھی ہیں۔

ترجمان کے مطابق گجرات کے جام نگر میں ریلائنس انڈسٹریز کے دنیا کے سب سے بڑے آئل ریفائنری کمپلیکس کے لیے ضروری اقدامات کیے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز