دہلی(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو آٹھ چیتے جن میں پانچ نر اور تین مادہ شامل ہیں، رواں برس نومبر میں جنوبی افریقہ سے 8405 کلومیٹر (5222 میل) کا سفر طے کر کے انڈیا کے ایک وسیع و عریض نیشنل پارک میں اپنے نئے گھر پہنچیں گے۔
دنیا کا یہ تیز ترین زمینی جانور انڈیا میں ناپید ہونے کے تقریباً 60 سال بعد دوبارہ یہاں واپس لوٹ رہا ہے۔
وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ڈین یادوندردیوہ جھالا کا کہنا ہے کہ ’آخر کار ہمارے پاس اس بلی کو دوبارہ رکھنے کے لیے وسائل اور رہائش موجود ہے‘۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں یہ پہلا موقع ہے جب ایک بڑے گوشت خور جانور کو تحفظ کے لیے ایک سے دوسرے براعظم میں منتقل کیا جائے گا۔
چیتا ایک ایسا جانور ہے جو گھاس والے میدانوں میں شکار پر قبضہ کرنے کے لیے 70 میل (112 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا ہے۔
دنیا میں ان کی لگ بھگ 7000 کی آبادی میں سے اکثریت اب جنوبی افریقہ، نامیبیا اور بوتسوانا میں پائی جاتی ہے۔ بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے معدومیت کا شکار اس جانور کو مبینہ طور پر آخری بار 1967-68 میں انڈیا میں دیکھا گیا تھا، لیکن 1900 تک ویسے ہی ان کی تعداد بہت کم ہوچکی تھی۔
ڈاکٹر جھالا نے بتایا کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان کی ریاستوں میں ایک قومی پارک اور دو جنگلی حیات کے محفوظ ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پہلے آٹھ چیتوں کو مدھیہ پردیش کے کونو نینشل پارک میں رکھا جائے گا جہاں ہرن اور جنگلی سؤر کی صورت میں انھیں اپنا شکار مل جائے گا۔ وائلڈ لائف کے ماہرین راجستھان کی مکندرا پہاڑیوں میں بھی ایک رہائش گاہ کے لیے پُرامید ہیں۔


