چهارشنبه, مارچ 18, 2026
Homeخبریںایک بار پھر مغربی بلوچستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش

ایک بار پھر مغربی بلوچستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش

زاہدان (ہمگام نیوز) رسانک نیوز کے مطابق گزشتہ روز 16 اگست کو ایران کے داخلی امور اور کونسل کے کمیشن کے رکن ابو الفضل ترابی نے صوبوں میں انتظامی بیوروکریسی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا بلوچستان ، کرمان اور اصفہان صوبے تقسیم ہونے جارہے ہیں۔ انتظامی نمائندوں کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لیے یہ منصوبہ دو سال پہلے بھی نمائندوں نے پیش کیا تھا۔

ابوالفضل ابو ترابی نے ملکی تقسیم کے قانون کے بارے میں کہا اس قانون کو متعدد بار اپ ڈیٹ کیا گیا ہے لیکن اس میں اب بھی کوتاہیاں ہیں، حکومت اس میدان میں ایک جامع بل تیار کر رہی ہے، اور پارلیمنٹ اس بل کو حکومت کی طرف سے بھیجنے کا انتظار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا اس کے علاوہ، ایجنڈے میں ایک اہم منصوبہ ہے جو ملک کے انتظامی اور حکمرانی کے نظام میں بنیادی تبدیلی لائے گا، جسے گورننس کی مقبولیت یا جامع شہری اور دیہی انتظام کہا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ 260 آرٹیکلز میں تیار کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر مقامی امور کا تعلق مقامی پارلیمان سے ہے۔ یہ منصوبہ ان ممالک کی طرح ہے جو ڈی سنٹرلائیزیشن پر مبنی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا صوبہ بلوچستان ایران کی 11 فیصد سرزمین پر محیط ہے اور درحقیقت اس صوبے کا گورنر ایک ایسے صوبے کا انتظام سنبھالے گا جو چابہار سے صوبے کے مرکز تک 800 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر ہے، یعنی زاہدان، اصفہان اور کاشان تک ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ کاشان کو انتظامی کام کے لیے اصفہان شہر تک پہنچنے کے لیے 250 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرنا ہوگا۔

ابو ترابی نے غیر مقامی گورنر کی نا اہلی کا اعتراف کیا جب کہ کسی بلوچ شہری کو اپنے ہی صوبے کا گورنر مقرر نہیں کیا گیا۔

واضح رہے بلوچستان کے عوام کی اکثریت صوبے کو تقسیم کرنے کے منصوبے کے خلاف ہے اور اسے بلوچ برادری کو کمزور کرنے کی پالیسی سمجھتی ہے قابض ایران اس سے پہلے بھی اس طرح کی کوششیں کرتے رہے ہیں جسے بلوچ عوام کی طرف سے نامنظور کیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز