تحریر : علی جان بلوچ
ھمگام آرٹیکل
ویسے اگر دیکھا جائے تو بلوچستان میں بلوچ طلبا کو لاپتہ کرنے میں ریاست کی طرف سے سن 2013 کے بعد تیزی لائی گئ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بلوچ سن 1948 سے اس وقت جبری طور پر لاپتہ ہورے ہیں جب نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان نے بزور طاقت بلوچستان پر قبضہ کر لیا۔
بلوچستان چونکہ ایسی سرزمیں رہی ہے جو کہ وقتا بہ وقتا کسی بیرونی طاقت کے زیر تسلط مقبوضہ رہی ہے ۔ مگر بلوچ قوم نے ہر دور میں کسی نہ کسی طرح سے ان بیرونی قبضہ گیروں کے خلاف مزاہمت کی ہے جو کہ اج تک جاری ہے۔
قابض پاکستان کے وفاق کی طرف سے ہمیشہ بلوچوں کو نچلے طبقے کی مخلوق کرار دی گئی ہے اور اپنے نام نہاد ترقیاتی و تعمراتی پروجیکٹس کی مد میں بلوچوں پر نسل کُشی اور جنگ مسلط کی ہے۔ بقول نواب خیربخش مری ” پاکستان نے ہر دور میں روڈ اور دوسرے تعمیراتی کاموں کو جواز بنا کر بلوچستان میں فوجی کلچر کو پروان چڑایا ہے اور بلوچوں کی نسل کشی عام کی ہے”۔
ایک طرف تو بلوچون کی ابتدا ہی کی محکومی اور دوسری طرف بلوچ وانندہ نوجْوانوں کی ریاست کی طرف سے نہ رکھنے والا یہ جبری لاپتہ کرنے کا سلسلہ بلوچ قوم کے لئے بڑی تباہی کا پیش خیمہ ظاہر کر رہی ہے ۔ جو کہ ہر گھر اور ہر وانندہ نوجْوان کو اپنے لپٹ میں لے رہی ہے۔
ریاستی ادارے اسی جبری تسلسل کو جاری کرتے ہوئے کل شام سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اردو بازار سے “علم و ادب ” پبلشرز کے مینیجر لالا فہیم کو بھی اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے جس کا تاحال کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ اور نہ اس سے پہلے لاپتہ کئے گئے افراد کا کوئی سراغ مل گیا ہے۔
یہ واضع کرنا چاہوں کہ کہ لالا فہیم اک پر امن شہری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کتاب دوست اور وانندہ انسان ہیں انکو اس طرح سے ریاستی اداروں کی طرف سے جبری طور پر لاپتہ کرنا نہ صرف بلوچ قوم کو علم، ادب اور کتاب سے دور کرنے کے مترادف ہے بلکہ بلوچ نوجْوانوں کو زہنی طور پر مفلوج کرنا بھی ہے۔
یاد رہے کہ لالا فہیم سمیت ہزاروں کی تعداد میں ایسے بے گناہ بلوچ اسیران ہیں جنکو ریاستی مسلح اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے جن کو اب تو کوئی خبر نہیں ہے۔ اور اس جبری گمشدگی کے تسلسل کو روکنے کے لئے لاپتہ افراد کے لوحقین پچھلے کہی سالوں سے احتجاج بھی کر رہی ہیں ۔















