پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںحکومت جامعات کو مالی بحران سے نکالنے میں سنجیدہ نہیں، جوائنٹ ایکشن...

حکومت جامعات کو مالی بحران سے نکالنے میں سنجیدہ نہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

 

کوئٹہ ( ہمگام نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان کے زیراہتمام بروز سوموار کو جامعہ بلوچستان میں جامعہ کے اساتذہ کرام ، آفیسران کو دو مہینوں کی مکمل تنخواہوں کی تاحال عدم ادائیگی ، جامعات کے گرانٹ ان ایڈز میں اضافہ ، عرصہ دراز سے زیر التوا پروموشنز پر نام نہاد آڈٹ پیرا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے منظور شدہ پے رویژن اور 15 فیصد بجٹ میں اضافہ کیلئے زبردست احتجاجی ریلی آرٹس بلاک سے نکالی گئی جو مختلف شعبہ جات سے ھوتے ھوے وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا میں تبدیل ھوا ۔ احتجاجی دھرنے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ ، شاہ علی بگٹی ، نعمت اللہ کاکڑ ، فرید خان اچکزئی ، پروفیسر ارسلان شاہ ، اور گل جان کاکڑ نے خطاب کیا ۔
مقررین نے کہا کہ جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین کو پچھلے دو مہینوں کی تنخواہیں اب تک ادا نہیں کی گئی اور جون کے مہینے کی نامکمل تنخواہ جبکہ ڈسپریٹی الائونس کے بھی چار مہینے کی ادائیکی بھی نہیں کی گئی ۔

مقررین نے کہا که انتہائی افسوسناک بات ہے کہ جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین اپنی ماہانہ تنخواہ کی بروقت ادائیگی کے لئے ہر مہینے احتجاج کرنا پڑتا ہے ، مقررین نے کہا کہ گزشتہ 15 دنوں سے مکمل تنخواہ کی بروقت ادائیگی کے لئے احتجاج جاری ہے لیکن صوبائی حکومت جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے سنجیدہ نہیں مقررین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر دس ارب روپے جاری کرے اور مرکزی حکومت ملک بھر کی سرکاری جامعات کیلئے 150 ارب روپے مختص کریں ـ
بیان میں اعلان کیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ ، آفیسران و ملازمین کو مکمل تنخواہ کی فراہمی بقایا جات سمیت اور جامعات کو در پیش مالی بحران کے مستقل حل تک احتجاجی تحریک اور تمام دفاتر اور ، کلاسوں کی تالا بندی جاری رکھتے ہوئے بروز منگل کو بھی جامعہ بلوچستان میں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیگی جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان نے وائس چانسلر ، پرووائس چانسلر ، ٹریڈار اور رجسٹرار جامعہ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ کے ملازمین کو بروقت اور مکمل تنخواہوں کی ادائیگی کا مستقل حل نکالے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز