دوشنبه, مارچ 16, 2026
Homeخبریںبلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کا سانحہ نشتر ہسپتال اور سی ٹی ڈی...

بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کا سانحہ نشتر ہسپتال اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

کیچ (ہمگام نیوز ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سانحہ نشتر ہسپتال ملتان اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مسلسل بلوچ نوجوانوں کی جعلی مقابلوں میں مارنے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی اور سانحہ نشتر ہسپتال میں لاشوں کی بے حرمتی اور انہیں بنا کسی شناخت کے مسئلے کو منظر عام سے غائب کرنے کی سازشوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ان دونوں واقعات میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا گیا احتجاج عطاء شاد ڈگری کالج سے شروع ہو کر مظاہرے کی شکل میں شہید فدا احمد چوک پہنچے جہاں مظاہرین نے بیٹھ کر ان واقعات پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا اور اسپیکر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک جانب بلوچستان میں نام نہاد امن و امان کی پرچار کی جاتی ہے دوسری جانب وفاق میں ایک نام نہاد جمہوری حکومت کا قیام عمل لایا گیا ہے جس میں بلوچستان کے نام نہاد قوم پرست بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان میں مقتدرہ حلقے سیاست میں نیوٹرل ہونے کی بات کر رہے ہیں پاکستان میں ہر چیز بدل رہی ہے لیکن بلوچستان میں جاری نسل کشی میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے اور سی ٹی ڈی کے بننے کے بعد بلوچستان میں مارو اور پھینکو کی پالیسی کو باقاعدہ مین اسٹریم کر دیا گیا ہے اور اس کو قانونی طور طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے جو اس بات کی ثبوت ہے کہ بلوچستان میں جاری نسل کشی کا تعلق کسی ایک ادارے یا فوج کی پالیسی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام ادارے بطور ریاست اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں سب کو اس بات کا علم ہے کہ سی ٹی ڈی جعلی مقابلوں میں لاپتہ افراد کو قتل کر رہی ہے لیکن عدلیہ سے لیکر صحافی حضرات تک سب کے لبوں پر مہر لگی ہوئی ہے اور کوئی بھی ان جرائم پر بات کرنے کو تیار نہیں جبکہ صوبائی اور نام نہاد وفاقی حکومت ان قتل وغارت کو بلوچستان کے حالات سے جوڑ کر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں جو کسی المیے سے کم نہیں آج بلوچستان میں جو نسل کشی ہو رہی ہے وہ باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت جاری ہے اور اس کو گزرتے وقت کے ساتھ وسعت دیا جا رہا ہے زیارت میں 9 افراد کا قتل ہو یا 50 دنوں کا احتجاج اور وفاقی وزیر داخلہ کی یقین دہانی کے باوجود ایک ہی مہینے کے اندر مزید لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنا ہو یہ سب ثابت کر رہے ہیں کہ بلوچستان کو ایک سازش کے تحت مزید قتل وغارت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جبکہ مقررین نے سانحہ نشتر پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ریاست کی ذمہ داری ہر ایک شہری کی حفاظت اور اس کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے وہی 500 لاشوں پر اتنی خاموشی اور میڈیا کا اس کو نظرانداز کرنا سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی نے کئی خدشات جنم دیے ہیں پنجاب میں جب کو کتا مرتا ہے تو اس پر بھی کئی دنوں تک واویلا کیا جاتا ہے لیکن 500 لاشوں پر مکمل خاموشی ہے جو ہمارے تحفظات کو مزید تقویت دے رہے ہیں کہ یہ لاشیں لاپتہ افراد کی ہوسکتی ہیں اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے

یہ بھی پڑھیں

فیچرز