ایرانیشہر(ھمگام نیوز) تفتان میں جانبحق ہونے والے بلوچ شہری کے خاندان کو ایک اور صدمہ، دونوں بھائیوں کی گرفتاری کے بعد اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں
ذرائع کے مطابق، جمعرات 9 جولائی 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں قابض سکیورٹی فورسز نے ایک بلوچ شہری کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ گرفتار ہونے والا شہری تفتان میں جانبحق ہونے والے بلوچ شہری بلال راستاروش (ہاشم زہی) کا بھائی ہے۔
گرفتار کیے گئے بلوچ شہری کی شناخت ابراہیم راستاروش (ہاشم زہی)، ولد عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں، تفتان کے علاقے بیدک گاؤں کے رہائشی اور ایرانشہر میں مقیم تھے ۔
ذرائع کے ذرائع کے مطابق، ابراہیم راستاروش نے تقریباً دو ماہ قبل شادی کی تھی اور ایرانشہر میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ انہیں جمعرات 9 جولائی 2026 کو قابض ایرانی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ابراہیم راستاروش کے اہل خانہ کو تاحال ان کی حراست کی جگہ، جسمانی حالت اور گرفتاری کی وجہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ اہل خانہ کی جانب سے کی جانے والی کوششیں بھی اب تک بے نتیجہ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ اس خاندان کے ایک اور بھائی محمد راستاروش (ہاشم زہی) کو بھی اس سے قبل جمعرات 2 جولائی 2026 کی رات تفتان میں قابض ایرانی سکیورٹی اور فوجی فورسز کے ہاتھوں ان کے بھائی بلال راستاروش (ہاشم زہی) کی ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد ایرانشہر سے خاش جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد راستاروش کے بارے میں بھی تاحال ان کے مقام حراست اور حالت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
بلال راستاروش (ہاشم زہی)، جن کی عمر 27 سال تھی، کو جمعرات 2 جولائی 2026 کو تفتان کے علاقے کہنوک گاؤں کے قریب سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں اقبال ریگی کے ہمراہ جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
ایک مارے گئے بلوچ شہری کے دو بھائیوں کی گرفتاری اور ان کے بارے میں مسلسل معلومات نہ ملنے پر خاندان اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ زیر حراست افراد کے مقام حراست کو واضح کیا جائے، انہیں قانونی حقوق تک رسائی دی جائے اور ان کے اہل خانہ کو شفاف معلومات فراہم کی جائیں۔


