لیبزک(ہمگام نیوز) بلوچ ری پبلکن پارٹی جرمنی چیپٹر کے جنرل سیکرٹری جواد محمد بلوچ نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی آر پی جرمنی چیپٹر کی جانب سے جرمنی کے شہر لیبزک میں ہفتہ کے روز ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد بلوچستان میں ریاستی مظالم اور وسیع تر انسانی حقوق کی پامالیوں اور بلوچستان حوالے جرمن سول سوسائٹی کو آگاہی دینا تھا۔کانفرنس میں لوکل جر من ایسوسی ایشن کلب کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔جبکہ بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے پروجیکٹر کے ذریعے شرکاء کوجرمن زبان میں ڈاکیومینٹری بھی دکھائی گئی۔کانفرنس سے بی آر پی جر منی چیپٹر کے جنرل سیکرٹری جواد محمد بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1947 ء میں ہندوستان کے بھٹوارے کے بعد پاکستان نے بلوچستان پر حملہ کرتے ہوئے اس کی آزادی کو سلب کیا تب سے بلوچ قوم اپنے وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔بلوچوں کی سیاسی جدوجہد کو کچلنے کے لیے پاکستانی آرمی کی طرف سے 4فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں جبکہ پانچواں فوجی آپریشن 2002ء سے تاحال جاری ہے۔ عام آبادیوں پر پاکستانی فضائیہ کی طرف سے بمباری، عام بلوچ فرزندوں کا قتلِ عام، معصوم بچوں، عورتوں ، طلبا ، اساتذہ اور دانشوروں کو اغواء بعد شہید کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔پانچوا ں فوجی آپریشن جوآمر جنرل پریز مشرف کے دور میں شروع ہواتھا جس میں 20000کے قریب بلوچ سیاسی ورکروں ، طلبااور مختلف آزادی پسند جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اغواء کیا گیاجبکہ 3000 سے زائداغواء شدہ افراد کو شدید تشدد بعد شہید کرکے انکی لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا گیا۔جبکہ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔80سالہ بلوچ بزرگ رہنماء نواب اکبر خان بگٹی جو بلوچ قومی آزادی اور بلوچ قوم کے خلاف نا انصافیوں پر آواز بلند کرتے ہوئے سیاسی طریقوں سے جدوجہد کر رہے تھے جنہیں پاکستانی آرمی نے 26اگست 2006ء کوتراتانی کے پہاڑوں میں انکی پناء گاہ پر شدید بمباری اور کیمیکل ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے انہیں ساتھیوں سمیت شہید کر دیاآآپاکستانی آرمی نے اس خونی آپریشن کا پیمانہ بڑھاتے ہوئے اسے بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلا دیا تاکہ بلوچ قومی آزادی کی اس تحریک کو کچل کر ہمیشہ کے لیے بلوچ سرزمین پر اپنے قبضے کو قائم رکھ سکیں۔چین کی طرف سے گوادر تا کاشغر کوریڈور جس میں بلین آف ڈالرز خرچ کیے جارہے ہیں کی کامیابی کے لیے ایک بار پھر فوجی آپریشن میں کافی تیزی لائی گئی ہے تاکہ چینی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر پاکستان اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سہارہ دے سکے جبکہ یہ تمام معاہدے بلوچ قوم کی مرضی و منشاء کے برخلاف ہیں۔بلوچ قوم کو بلوچستان میں چینی مداخلت قبو ل ہے نہ ہی چین کی طرف سے بلین آف ڈالرز کی سرمایہ کاری، یہ تمام منصوبے بلوچ قومی دولت کو لوٹنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔جواد محمذ بلوچ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ بلوچ قومی آزادی کو کچلنے کے لیے اسے مذہبی رنگ دیکر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر سکے اسی لیے بلوچستان میں مذہبی انتہاء پسندی کو فروغ دیکر بلوچ سیکولر معاشرے کو تباء کیا جا رہا ہے۔پاکستانی آرمی نے مذہبی انتہاء پسندوں کو تربیت دیکر انہیں بلوچستان میں اقلیتی مذاہب کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا ہے۔جس میں اہلِ تشیع، زکری اور ہندوں شامل ہیں تاکہ وہ سیکولر بلوچ معاشرے کو مذہبی رنگ دیکر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر سکیں۔جواد بلوچ نے مزید کہا کہ آزاد بلوچ قومی ریاست ہی پورے خطے میں امن کا ضامن ثابت ہوسکتی ہے۔ جواد بلوچ نے اقوام متحدہ سمیت تمام انسانی حقوق کے تنظیموں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی ریاستی ظلم و جبر پر آواز بلند کر تے ہوئے بلوچ قوم کی نسل کشی کو رکھوانے میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔


