مردِ مکران گلزار امام صاحب آپ کی تحریر ” میر ہزار سے لیکر استاد درخان بگٹی تک” پڑھنے کو ملا. آپ کی تحریر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ کتنے مایوس اور سراسیمگی کا شکار ہیں. اول یہ کہ آج آپ کو علم ہوا ہے کہ طالبان پاکستان کے نظریاتی اثاثے ہیں حالانکہ اگر غور کیا جائے یا کسی بچے سے پوچھ لیں تو وہ بھی آپ کو بتادے گا کہ طالبان کون ہیں اور کس کی ایما پر کس کی جنگ لڑ رہے ہیں. جس وقت میں آپ کی تحریر پڑھ رہا تھا عین اسی وقت ہمگام کی اس خبر پر نظر پڑی کہ قندوز میں افغان فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اکثر دہشتگردوں کا تعلق پنجاب سے ہے. کیا آپ نے ایک سپاہی سے کمانڈر بننے تک( شاید ڈائریکٹ حوالدار والا قصہ ہو ) کبھی یہ سوچا کہ شفیق مینگل کون ہے؟ سراج رئیسانی کس نظریے کے تحت بلوچ نوجوانوں کی لاشیں مسخ کر کے ویرانوں میں پھینک رہا ہے؟ جھنگی مینگل، مزار کا قریبی رشتہ دار رحیم ساسولی، ملا نورو، حافظ قیوم وغیرہ یہ کون ہیں،جو بلوچ تحریک کے آگے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟ اگر آپ کو علم نہیں تو سادہ الفاظ میں آپ کو سمجھا سکتا ہوں کہ ان طالبانوں کے بنانے اور مضبوط کرنے کا پاکستانی اصل مقصد کیا ہے. پاکستانی ملا ملٹری آئی ایس آئی نے انہیں صرف اس لیے پال رکھا ہے تاکہ کسی بھی مصیبت کے منہ میں دھکیل کر خود کو محفوظ بنا سکے. انہی دہشت گردوں کی مدد سے نیٹو ٹرالروں پر حملہ کرتا ہے یا نیٹو کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے پھر انہی دہشتگردوں کو برائے نام مٹانے کے لیے بیرونی دنیا سے فنڈ حاصل کرتا ہے. یہی طالبان افغان قوم و سرزمین پر خون کی ہولی صرف پاکستان، سعودی اور ایران کے فاشسٹ حکومتوں اور حکمرانوں کے ایما پر ہی کھیلتے ہیں اور جب ضرورت ہوتی ہے تو حق نواز و مزار جیسے جہد کاروں کے لہو کا سودا بھی کرتے ہیں. یعنی چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری۔ آپ جنھیں افغان طالبان کہتے ہو وہ پورے بلوچستان کے مدرسوں میں پلے بڑھے بلوچ ہیں یا پھر پنجابی ہیں جو سرلٹھ میں بیٹھ کر صرف اور صرف بلوچ کا راستہ روکے ہوئے ہیں. دوسری طرف آپ شْور کے سرمئی پہاڑوں پر بیٹھے چرواہے کے دل کی بات جذبات کی چادر میں اوڑھ کر پیش تو کرتے ہیں کہ وہ سوچ رہا ہو گا کہ میرا لیڈر میرے مستقبل کے بارے میں کیا سوچ رکھتا ہے لیکن اس زمہداری سے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے صرف لیڈر شپ کی نا اتفاقی کا رونا رونا حیرت انگیز ہے. کیا آپ کا لیڈر، سپریم کمانڈ، شاہ شہیداں کے ہردلعزیز پوتے اور نوابوں کے نواب براھمدغ بگٹی اس بات کا ادراک رکھتا ہے؟ کیا براھمدغ کے حالیہ مایوس کن انٹرویو کے بعد آپ بھی نالاں سے ہیں؟ براھمدغ بگٹی کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے بعد آپ کی پوزیشن کیا ہوگی؟ سب سے اہم یہ کہ کیا آپ اپنی بے ربط تحریر کی مدد سے بلوچ کو کسی اور جنگ میں جھونکنے کی سازش تو نہیں کر رہے؟ اور اس جنگ کے لیے بطور بندوق بردار آپ کس حد تک تیار ہو؟ جہاں تک پنجابی اور اسکے اثاثوں کا تعلق ہے تو بلوچ اسی بے سرو سامانی کی حالت میں بھی اپنے دشمن کے ساتھ لڑ بھی رہا ہے اور اس کے تمام عزائم کا ادراک بھی رکھتا ہے. لیکن آپ کو آج پتہ چلا کہ ان طالبانوں کے ریوڑ کو سنبھالنے والا ملا عمر و ملا اختر منصور نہیں بلکہ حمید گل و شجاع پاشا ہیں. چلو خیر کوئی بات نہیں دیر آید درست آید.گلزار امام صاحب یقین جانو آپ کی اس تحریر سے مجھے زرہ برابر بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ آپ وثوق سے کہہ سکو مزار و میرو کو طالبان نے سرکار کے حوالے کیا ہے. یہ اور بات ہے کہ پہلے دن ہی ان کو گرفتار کرنے کا مقصد واضح تھا. آپ کا یہ کہنا کہ پچھلے ایک سال سے جس عاجزانہ انداز میں مفتیؤں اور حاجیوں کے دروازے کھٹ کھٹائے وہ سب بے سود ثابت ہوا تب آپ نے تْکہ مار کر ایک آرٹیکل لکھ ڈالا کہ مزار کو طالبان نے آئی ایس آئی پر فروخت کیا ہے. اگر پنجابی کے حوالے کئے بھی جا چکے ہیں تو ایک ہوش و فہم کا مالک اپنے کسی دوست کی گرفتاری کا ازخود اعتراف نہیں کرتا بلکہ آپ کی تحریر سے انھیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا. سات اپریل کو شْور پارود پر دشمن کی یلغار اور اس خونی آپریشن میں بی ایل اے کے تین جانباز ساتھیوں کی شہادت کا واقعہ سنا کر آپ کس کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہو . آپ کا یہ کہنا کہ تمام تنظیموں کے لیے یکساں ہمدردی و اتحاد و اتفاق کا جذبہ رکھنے والا سنگت مزار جب شھید امیر الملک کو مادر وطن کی آغوش میں آسودہ خاک کر کے کیمپ آیا تو گلو گیر انداز میں مجھ سے کہنے لگا کہ ابھی تک شھید کی قبر کی مٹی خشک نہیں ہوئی اور بی ایل اے کے ترجمان نے بیان داغ دیا کہ ہمارا کسی تنظیم سے کوئی کوآرڈینیشن نہیں. جھوٹ بولنے کی حد دیکھو. شمبے جان آپ کو یاد دلا دوں جس دن بی ایل اے کے سنگت شْور کے پہاڑوں میں تاریخ رقم کر رہے تھے اس دن آپ افغانستان میں سبز چائے کی چسکیاں لے رہے تھے. جناب جب آپ پنجگور زون کے صدر تھے اس وقت سنگت مزار شْور کے پہاڑوں میں دشمن سے برسرِ پیکار تھا ایک بہادر انسان اتنی جلدی گلو گیر نہیں ہو سکتا. میرک بلوچ کو اپنے بیان میں دیگر تنظیموں کے ساتھ کوآرڈینیشن بابت وضاحت کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آپ کے ترجمان سرباز بلوچ نے ایک جھوٹا بیان داغ دیا کہ ہم نے میدان جنگ میں گھس کر بی ایل اے والوں کو بحفاظت نکالا ہے. میں آج حقیقت قوم کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ اس وقت آپ کے بی آر اے کیمپ میں صرف دو سرمچار تھے جن میں سے ایک کا نام لاغری ہے جسے آپ کے سپریم لیڈر نے بطور کمانڈر بٹھایا تھا.( جو بعد میں رودینجو سے ویگن کی چھت پر بیٹھ کر سلامی ٹھوکنے کے لیے کوئٹہ کا رخ کر بیٹھا) سات اپریل کو صبح سے شام تک میں ہی وہ شخص تھا جو آپ سے رابطے میں تھا کیونکہ ہمارا دوستوں سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا اور سارا دن ہر بار آپ نے یہی کہا کہ میرا لاغری سے رابطہ ہوا ہے، وہ بحفاظت نکل گئے ہیں اور بی ایل اے کے کچھ دوستوں کو بھی راہ گزرتے ہوئے دیکھا ہے. اس دن لاغری کو اپنی جان کے لالے پڑے تھے، وہ کیا میدان کارزار میں کْودے گا. ویسے آپ کا سپریم کمانڈر محل سے سیدھا سوئٹزرلینڈ پہنچا لیکن آپ تو اسی میدان کے نئے نئے کھلاڑی ہو آپ تو انصاف کرو. البتہ یہ حقیقت ہے کہ مزار جیسے سنگت کی وجہ سے ہی جب کبھی آپ شْور آتے تھے، تو دہ شکہ اور کالا کوف کی تیریں حاصل کرلیتے تھے. لیکن آپ لوگوں کی وجہ سے بنگْل جیسے مخبر آپ کی صفوں میں گھس گئے جس کی وجہ سے قوم کو سنگت امیر الملک جیسے بہادر سپوت کا نقصان برداشت کرنا پڑا. اور آپ اتحاد و اتفاق کی بات کرتے وقت اپنے لیڈر کا موقف کیوں بھول جاتے ہو جن کا کہنا ہے کہ سنگت حیربیار کی کوئی پارٹی نہیں اس لئے ان کے قریب جانا شجرِ ممنوعہ ہے ؟ اگر بات در خان بگٹی کی کروں تو اور بھی شرم آئے گی.( آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ درخان بگٹی نہیں مری ہے )در خان وہ مخلص سنگت ہے جسے تمھارے چہیتے نواب کے ارد گرد منڈلانے والے ریاض گل اور شیر محمد بگٹی جیسے آستین کے سانپوں کی وجہ سے افغانستان میں کئی بار آئی ایس آئی اور طالبان کے دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا. آپ کمسن بیبگر کی معصومیت کا زکر تو کرتے ہو لیکن بیبگر کے چچا اور چچا زادوں کی افغانستان میں شہادت کے بعد درخان کی بے بسی اور اپنے لیڈر کی بے حسی کا زکر کرنا کیوں بھول جاتے ہو؟.(ستار بگٹی کی لاچارگی زیرِ بحث نہیں ) میرو ایک ان پڑھ ضرور تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ ایک پڑھا لکھا جاہل نہیں تھا. وہ اپنے فرض اور زمین کے قرض سے بخوبی آشنا تھا. وہ بہت کچھ سیکھ چکا تھا اور بہت کچھ اب بھی سیکھ رہا ہوگا لیکن خدا کا شکر ادا کرو شمبے جان کہ وہ مکران نہ آ سکا اور وہاں کے پڑھے لکھے چوروں اور منشیات فروشوں کو قریب سے نہ دیکھ سکا ورنہ بہت کچھ اور بھی سیکھ لیتا. مکران آکر آپ کے سرمچار وں کا وہ چہرہ ضرور دیکھ لیتا جسے مردِ آہن اور مردِ مکران ہر ایک مخلص سنگت سے چھپانا چاہتے ہیں. اور آپ کے لاڈلے شمبیزئیوں کے بابت آپ کا موقف بھی جان لیتا. ایک تازہ مثال آپ کو یاد دلا دوں ابھی چند ماہ قبل آپ کے تعلیم یافتہ سرمچاروں کے بیچ میں ایک سال سے زائد کا عرصہ گزار کر آنے والا میرا ایک ساسولی ننگی حقیقت بڑے شرف کے ساتھ بیان کرتا ہے ، وہ بھی بہت کچھ سیکھ کر آیا ہے.