کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچستان کے سکولوں میں تین لاکھ بچوں کے بوگس اندراج کے ساتھ ساتھ نو سو گھوسٹ سکولوں کا انکشاف ہوا ہے۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق کھٹ پتلی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے یہ انکشاف محکمہ تعلیم اور یونیسیف کے اشتراک سے سکولوں کے نظام کی نگرانی کے پروگرام کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں نو سو سکول ایسے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں لیکن ان کے اخراجات کی مد میں بلوچستان حکومت سے رقم حاصل کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ دو برس قبل بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال پر مرتب کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں چھ سے 16 سال کی عمر کے چونتیس اعشاریہ ایک فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔
سکول نہ جانے والوں میں بچوں میں سے 21 فیصد لڑکیاں اور 13 فیصد لڑکے تھے۔


