بلوچ قومی تحریک نے بہت سے عروج و زوال دیکھے ہیں اور بہت سی ناکامیوں کو اپنے سینے سے لگانے کے بعد موجودہ جنگ جب بلوچ دھرتی نے شروع کی تو اس امید کے ساتھ اپنی سپوتوں کو کمربستہ کروایا کہ اب کی بار ہم لے کہ رہیں گے آزادی اور جیسے جیسے بلوچ فرزند ایک فکر و نظریے کے تابع قومی تحریک میں شامل ہوتے گے ویسے ہی دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا گیا آتاکہ ایک وقت ایسا بھی آگیا کہ بلوچ قوم کی شاعروں نے یہ گانے گاتے رہے کہ “آزادی نا سالے بلوچ” اور دشمن ریاست کی ہواس باختگی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی کیمپوں سے بھی باہر نکل نہیں سکتے تھے دن گزرتے گئے جنگ چلتا رہا۔دشمن ریاست کو جب شدید قسم کی دھچکا لگا تو اس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی اور یہ سوچا کیوں نہ بلوچ کو بلوچ سے مروایا جائے اور اس کا آغاز اس نے مختلف علاقوں میں بے ضمیر بلوچوں کو لالچ اور مراعات دے کہ کر ان کو مسلح کرویا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اپنوں نے اپنوں کا خون بہایا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم ریاست کی اس چال کو ناکام کرنے کے لیے کوئی اور چال چلا لیتے تاکہ اس کی اس عمل کا ایک اچھا ردعمل ہوتا لیکن بس وہی پرانی روایتی طریقہ اپنائے مگر وہ کامیاب ہونے کے بجاے ناکام تدابیر ثابت ہوتے گئے۔دشمن کی مختلف تدابیر کام کرتے گئے اور ہم منہ تھکتے گئے بس اخباروں میں جھوٹ بولنے کے سوا ہمارے پاس اور کچھ نہ رہا۔ موجودہ جنگ ضرور کامیاب ہوگا یہ ہمارا ایمان ہے اور پختہ یقین بھی اور اگر خدانخواستہ ناکام ہوا بھی تو اس کا ذمہدار قابض ریاست نہیں بلکہ ہم آزادی پسند بلوچ ہی ہوں گے۔ ناکامی ہی سے سبق سیکھ کہ کامیابی ملتا ہے بلوچ کی پرانی تحریکیں جو ناکام ہوہیں ان ہی سے تو بلوچ نے کچھ سیکھ کہ اس بار اور منظم طور پر ابھرا ہے مشکلات اور ناکامیاں تو کامیابی کی نوید ہوتی ہیں۔ سختی آتی ہے تو ہی نرمی آتی ہے۔ سختی کی بھٹی سے گزرا ہوا انسان ہی کامیابی اور عظمت پاتا ہے لیکن بار بار کی قربانیوں کو زاہل کرنا بھی تو دانشمندی نہیں ابھی موجودہ وقت میں جو مایوسی کی ایک لہر آئی ہے اس کا بھی تو ذمہ دار ہم ہی ہیں اس کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ بلوچ کا خون بلوچ ہی کی بندوق سے ہوا کسی کو ناجاہز غدار قرار دیکر قتل کرواہا تو کسی کو قتل کر کے اپنی ذاتی دشمنی پوری کی تو کسی غدار سے پیسے لیکر اس کو بخش دی حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے صحیح معنوں میں مسلح جدوجہد کا مطلب سمجھا ہی نہیں بس کسی کو شوق سرمچاری ہواتو وہ سرمچار بن گیا کوئی اپنے پرانی دشمنی کی کسر پوری کرنے کے لیے بندوق تھاما کسی کو کاروبار کا شوق تھا وہ سرمچار اگر کسی کو چوری کرنی تھی تو وہ بھی سرمچار اگر ایمانداری کے ساتھ دیکھا جاہے تو ہم نے لفظ سرمچار کو ہی ایک داغ دار نما شے بنا دیا۔اگر تنظیموں کی ہائی کمان پہلے ہی دن سے ایک صاف اور شفاف طریقے سے لوگوں کو مسلح تنظیموں میں جگہ دیتے تو آج یقیناََ نوبت یہاں تک نہ آتی کوئی کسی کو جوابدہ نہیں بس جس کا دل جو چاہا وہ وہی کرتا گیا۔اور پھر بات نوک جوک سے آگے نکل کر خون بہانے تک آ پہنچا جس نے مارا وہ سرمچار اور جو مر گیا وہ بھی سرمچار۔ کوئی بھی مقصد کو پورا کرنے لیے پختہ عزم کے ساتھ ساتھ مخلصی ایمانداری اور نیک نیتی بہت ہی اہم اور لازمی جز ہوتے ہیں اگر ہمارا مقصد آزادی ہے لیکن ہم مخلص نہیں ہیں تحریک کے ساتھ ہم مذاق کر رہے ہیں یہاں لفظ مخلصی سے مجھے ایک اور بات یاد آیا کہ اکثر دوست جو شہید ہوتے ہیں تو لوگ ان کے نام کے آگے گوریلا لکھتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کیا واقعی وہ گوریلا تھا گوریلا جنگجو تو ہمیشہ لوگوں سے دور ہوتا ہے یہاں یک کہ اس کا پہچان ناممکن ہوتا ہے اس کی اپنی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی اس کو نہ پہچانے اس کی پہچان اس کی موت ہوتی ہے لیکن یہان تو یار گھر میں سوتے ہیں بازار گھومنے جاتے ہیں فٹ بال کھیلتے ہیں دوستوں کے ساتھ پکنک مناتے ہیں ایک عجیب کچڑی پک چکا ہے ہر لفظ کو ہر ایک اپنے مطابق تشریح کرتا ہے۔بدبختی وہی کہ پوچھنے والا ہی کوئی نہیں تو پھر وہی بات چھوٹے میاں چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ۔ اب چھوٹے کا کیا قصور جو بڑے کرتے ہیں تو لازمی چھوٹا بھی وہی کرے گا۔ ایک اچھا رہبر ہی صحیح کمان کر کے لشکر کو کامیابی کی آخری کنارے تک پہنچاتا ہے اور ایک مخلص نڈر ایماندار رہبر ہی اپنی لشکر کا صیح رہنمائی کرتا ہے اور ایک مقصد کو حاصل کر سکتا ہے اب یہاں پھر بلوچ قوم کو دیکھیں کیا کمال کرتے ہیں کارکن کوہی نہیں سب لیڈر بن چکے ہیں ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ یانچ کی مسجد و مندر بنا کہ کارکن ڈھونڈ رہے ہیں کسی میں یہ سکت ہی نہیں کہ وہ دوسرے کی بات کو سنے اس کو کنوینس کئے ہر ایک یہ کہتا ہے میں ایک باب ہوں مجھ میں کوئی کمی نہیں۔حقیقت تو یہ ہیں یہاں اکثر لیڈر و کارکنوں نے تحریک کو کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے بس ہر ایک کا دال روٹی لگا ہوا ہے جو جدوجہد کر رہے ہیں جو مخلص تھے شہید ہو گئے وہ جانے ان کا خدا جانے۔ لیڈر و کارکن کا ذکر کرتے کرتے مجھے ایک اور شہزادے کا نام یاد آیا محترم براہمداغ بگٹی۔محترم براہمداغ صاحب شہید نواب اکبر کا نواسا ہے اور نواب صاحب کا سب سے لاڈلا تھا ہر وقت نواب صاحب اس کو اپنے ساتھ رکھتا کوئی قبائلی فیصلہ ہوتا یا دعوت ہر جگہ محترم نواب صاحب کے ساتھ ہوتا۔نواب اکبر خان کی شہادت کے بعد براہمدغ پہاڑوں میں ریاست کے خلاف شہید انقلاب شہید بالاچ مری کی سربراہی میں جدوجہد شروع کی مگر ایک شہزادہ جس کو دیکھنے کے لیے دھوپ بھی ترسا ہو بھلا وہ کہاں ان سنگلاخ پہاڑوں میں تپتی دھوپ کے سامنے ٹھہر سکتا تھا کچھ مہنے بعد نواب صاحب افغانستان چلے گئے پھر وہاں سے سوئیزرلینڈ۔ نواب صاحب کی سوئیزرلینڈ جانے اور وہاں جدوجہد کرنے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی کوئی بغض لیکن نواب صاحب وہاں عیاش والی زندگی پہ ضرور اعتراض ہے اور ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بلوچ کہ نام پے وہاں تک پہنچے وہاں اپنے اپ کو بلوچ کا رہنما ظاہر کرے لیکن اس کا سوچ ایک شہزادہ نما ہوا وہ سب کو اپنا غلام سمجھے اور وہاں مجبور بلوچوں کو اپنا غلام بنا لے۔ بلوچ قومی بیرک کو اپنی پارٹی کا بیرک ظاہر کر کے وہاں سے اپنی ذاتی مفادات حاصل کرے اس پہ ہمیں اعتراض ہے اور رہے گا بھی۔ نواب صاحب اپنے آپکو بلوچ قوم کا رہنما ظاہر کرتا ہے لیکن اندرونی تعلقات فوج کے سربراہ راحیل شریف سے ہیں یہ دعوی میں نہیں ایک انگریزی ذمہ دار روزنامہ نے کیا ہے۔اور مزے کی بات کہ اس کا تردید نواب صاحب نے ابھی تک نہیں کیا ہے اس لیے یہ لکھتے ہوئے میں حق بجانب ہوں۔ نواب براہمداغ اپنے آپکو بلوچ قوم کا رہبر کہتا ہے لیکن ابھی تک اس کو یہ پتہ نہیں کہ بلوچ چاہتا کیا ہے یہ جنگ کس مقصد کے لیے لڑا جارہا ہے ہزاروں شہداء کس مقصد کے لیے شہید ہو چکے ہیں۔آخر میں بس یہی کہوں گا کہ بلوچ قوم کی نواب جیسے رہنما ہوں تو بلوچ قوم کو اور کیا چاہیے؟؟؟















