کوئٹہ ( ہمگام نیوز )لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2264دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں کوئٹہ سے سیاسی و سماجی کارکن چوران بلوچ وحشی بلوچ، نے لاپتہ ابلوچ سیران ، شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ بلوچ عورت کی حالت پورے بلوچ معاشرے کی طرح کسی بہت بڑی صورت میں تبدیل نہ ہوئی عورتوں کی سماجی حالت میں تبدیلی ہوتی ہے بڑے پیمانے پر تعلیم اور بحث و مباحثہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ سب باتیں بھرپور انداز میں کبھی مسیر نہ ہوئے چنانچہ سماجی ڈھانچہ نہ بدلا وہی ما قبل فیوڈل رشتے جاری و ساری رہے اگر مواقع ملتے اور ہماری عورت کو زبان تو یہ اپنی پسماندگی در بدری اور بے چارگی کی در پھری لمبی کتھائیں ضرور بیان کرتی جن سے دنیا ہل کر رہ جاتی ۔ ہمارے ہاں فرد کی مانند عورت تمام انسانی حقوق سے محروم ہے آج گلوبل گاوں والی اس دنیا میں بھی ہمارے فیڈل سماج ایک بند اور خفیہ سماج کی شکل میں موجود ہے اور زندگانی کے فطری سخت حالات اس کے اوپر کنکریٹ کی سخت تہیں جماتے رہتے ہیں انسانی آزادی کا راستہ بنالینا بہت محنت کاکام ہے قبائلی فرد خود کو قبیلہ سے جدا نہیں کر سکتا یہ سماج عروت کی آزادی اور برابری کی شاہراہ کی سب سے بڑی رکاوٹ کو خود اپنی ما تحتی والی عادت اپنے جمود کی حالت اور پرانے سماج کے مردہ بوجھ کو اٹھانے رکھنے کی وجہ سے بلند کرتا چلا جا تاہے بانک حوران بلوچ نے مزید کہاکہ ہمیں معلوم کہ جب کوئٹہ کے مضافات اور مستونگ میں سودا سلف خریدنے والی عورتوں پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے تو معاشرہ بہت بڑا ردعمل نہیں کرتا ہمیں فیوڈل سوچ نے اتنی چالاکی سے آزادی نامی یک نکاتی ایجنڈہ میں دال دیا کہ ہمارے عوام اپنے داخلی سماج تضادات سے عورت کی نجات کے بغیر اس شعوری تعاون کے بغیر ہمارا معاشرہ کس طرح آگے بڑھ سکے گا۔ ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ خاتون دوسری مظلوم اور دکھی مخلوق کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے لئے جد وجہد کر سکتی ہے ۔


