یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبی ایچ آر او کی جانب سے کر اچی پر یس کلب...

بی ایچ آر او کی جانب سے کر اچی پر یس کلب کے سامنے احتجا جی مظاہر ہ

کراچی ( ہمگام نیوز )بلو چ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے بلوچستان کے علاقوں سبی، نصیر آباد، مشکے، جھاؤ، دشت، پنجگور سمیت بلوچستان بھر میں جاری فورسز کی کاروائیوں کے دوران نہتے لوگوں کو اغواء و لاپتہ کرنے ، گھروں میں لوٹ مار کے بعد جلانے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں بی ایچ آر او کے کارکنان سمیت سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ارکان اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر بلوچستان میں نہتے لوگوں کی کاروائیوں کے دوران اغواء نماگرفتاریوں اور ہلاکتوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرین نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے آپریشن کی فوری بندش کا مطالبہ کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بی ایچ آر او کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک عرصے سے جاری طاقت کا استعمال سنگین صورت حال اختیار کرچکا ہے۔ طاقت کا نہتے لوگوں پر استعمال روزانہ کئی بے گناہوں کی ہلاکت و زخمی کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جبکہ فورسز کے اہلکار دورانِ آپریشن جنگی قوانین و انسانی حقوق کا احترام کیے بغیر نہتے لوگوں و خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ زمینی و فضائی نفری کے ذریعے آبادیوں پر بلا تفریق گولہ بھاری کی وجہ سے مشکے، دشت ، پنجگور و بلوچستان کے دیگر علاقو ں میں کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ان کاروائیوں میں نہتے لوگوں کی نقصان کا خدشہ ہے۔ دو دن سے جاری حالیہ کاروائیوں میں مشکے کے علاقے منجو، راواٹ، گوْنی، کوہِ سفیداور ہارونی کی آبادیوں کو زمینی و فضائی فورسز نے شدید شیلنگ کا نشانہ بنایا، علاقوں کا تاحال محاصرہ ہونے اور مواصلاتی نظام منقطع ہونے کی وجہ سے نقصانات کی تفصیلات تک تاحال رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے علاوہ دشت کے مختلف علاقوں سے کئی نہتے لوگوں کو آپریشن کے دوران فورسز نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا۔ بی ایچ آراو کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو چھپا کر میڈیا بھی خود کو شریکِ جرم کررہی ہے۔ کیوں کہ ذمہ دار شعبے کی حیثیت سے میڈیا اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آپریشن زدہ علاقوں کا دورہ کرکے مقامی لوگوں کی مشکلات دنیا کے سامنے لائیں۔ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے اقوام متحدہ و انسانی حقوق کے دوسرے اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال کو روکنے اور ہزاروں لاپتہ سیاسی کارکنوں و عام لوگوں کی بازیابی کے لئے اپنا فوری کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز