جب کسی نے آپ کو چھوڑنا ہوگا تو سب سے پہلے اُس کا انداز بیان بدل جائے گا ۔۔ ایک پُرانی حقیقت بلوچ تحاریک میں دو دائمی ا مراض ہمیشہ رہی ہیں پہلہ لالچ دوسراعدم برداشت جس کا نتیجہ ہمیشہ قائدین کی بات چیت کے نام پر سلامی و شکست کی صورت نمودار ہوئی ہیں ۔لالچ کے آثار کسی لیڈر کی سیاست میں اس طرح نمایاں ہوتے ہیں کہ لیڈر اپنے موقف کے سیدھے سادھے باتوں کو تجریدی جملوں میں لپیٹ کر لوگوں کو دعوت سرگردانی اور اپنے طور پر معنٰی نکالنے کا کہتا ہے ۔یعنی اگرمعاملہ طے پاگیا اُن کے الفاظ سے ایک مطلب نکالا جاسکے اور اگر بات نہیں بنی تودوسرا !بلوچ قیادت میں ایک دوسرے کاعدم برداشت بھی تحریک کوختم کرنے کسی زہر سے کم نہیں رہی ہے۔ ماضی میں بھی ایک ہی مقصد کیلئے ایک ہی دشمن کے خلاف جنگ لڑنے باوجود ایک لیڈر نے دوسرے لیڈرکے زیرکمان لڑنے والوں کو اپنے علاقوں سے دوررکھنے سخت ا قدام تک اُٹھائے ہیں۔ متاسفانہ آج یہ دونوں بیماریاں پھر سے نمودار ہوکر شدت پکڑ رہی ہیں جن کا سدباب مخلص قیادت اور بلوچ قوم کو ہی کرنی ہے کیونکہ مخلص کارکن اور مخلص لیڈر نہ کل کسی سازش کا حصہ نہیں بنے ہیں اورنہ آج کسی کے یوٹرن کا یرغمال بننا چاہتے ہیں لیکن ایسی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں سب سے پہلے متاثربھی وہی ہوتے ہیں ۔ قائدجو قیادت کرنے کی صفت سے قائد کہلاتا ہے کاکام ہی یہی ہوتاہے جو اپنے لوگوں کو صحیح و غلط کے درمیان لکیر کھینچنے کی زمہ داری نبھائے تمام آپشنز اُن کے سامنے رکھے پھر اپنی پارٹی کی رائے کا اظہار کرکے اُس کے حق میں ٹھوس دلیل دے کرکہ جنکی بنیاد پر وہ خود قائل ہوا ہے اُنھیں ساتھ چلنے آمادہ کرے۔ مگر جب قائد کو بہکنا ہوتا ہے تو وہ عوامی رائے کا بہانا بنا کر پٹڑی سے اُتر جاتا ہے اور اپنی بے راہ روی کو عوامی رائے کہہ کے سارا ملبہ عوام پر ڈالتا ہے جب کہ غریب عوام سے کبھی بھی کوئی مشورہ نہیں لیا جاتا ہے۔ براہمدغ خان بگٹی کے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لئے آمادگی کو بھی اِسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے جہاں آپ نے پہلے سے موجود سسٹم میں خود کو ’’ہم ‘‘کے دائرے سے نکال کر’’میں ‘‘کی تشکیل پر زور لگا دیا جو عدم برداشت کااظہار تھا۔ڈاکٹر اللہ نذر بھی بی ایل ایف بنا کرشعوری یا لا شعوری طور پراِسی مرض میں مبتلا رہے جس کے نتیجے میں سب الگ الگ رہ کر دشمن کا آسان ہدف بنے اور پاکستانی پُرانے ٹٹوؤں کو پھر تحریک کے اندر داخل ہونے اور حق خودارادیت کے خوش کن نعرے کے زریعے سب کو بھٹکا نے یااندرداخل ہوکر اہم لوگوں کو مرواکر تحریک کو اندر سے کھوکھلا کرکے طفیلی بنانے کاریاستی کام آسان کیا۔ زیر نظر تحریر میں آپ کے انٹرویو کے چند اہم نکات کا احاطہ کرنے اوراُنھیں سمجھنے کی کو شش کرتے ہیں کہ آپ کی باتوں سے کیا مطلب لیا جا سکتا ہے اور ایک قومی رہنما (جو اپنے آپ کو سمجھتے ہیں ) کا ایسا اظہاریہ تحریک پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں ’’بلوچستان کے معاملے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ایک لحاظ سے شکست ہوئی ہے اور اُنھیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا طریقہ غلط تھا اور پُرامن بات چیت کیلئے آنا ہوگا ‘‘پہلے یہ کہ آپ سے اسٹبلشمنٹ نے اپنے کام بارے کب مشورہ مانگا یا اپنے حکمت عملی پر عدم اطمنان کا اظہار کیا جو آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کا طریقہ کار درست یا غلط ہے۔دوسرا یہ کہ آپ کے نیک مشوروں سے یہی گماں ہوتا ہے کہ شکست اُنھیں نہیں بلکہ آپ کو ہوئی ہے جو پہلے آپ کہتے تھے ہم آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں اور یہ جنگ آزادی تک جاری رہے گی ۔آپ یہ بھی بارہا یہ دہرا چکے ہیں کہ پاکستان کے دائرے میں رہنے کا سوچنایا اُس کے انتخابات میں حصہ لینا بلوچ شہداء کے خون سے غداری ہے اب دوسال میں کیا تبدیلی آئی جو آپ کو اُسکی شکست بھی نظر آئی جس سے آپ اپنے موقف سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہے ہیں ۔اگر آپ کے موجودہ موقف کے حوالے سے دیکھا جائے توسٹبلشمنٹ ہی سہی اُس کی بھی ناکامی کہیں نظر نہیں آتی ۔آپ کے اور اُس کے دو طریقہ ہائے کار رہے ہیں آپ نے آزادی کی بات کی ہے اُس کیلئے سیاسی و عسکری جد وجہد کو در ست سمجھاہے اُس کے مقابلے میں ریاست نے ظلم ،لالچ اوربکھیر دو کی پالیسی اپنائی ہے جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت کاروائیاں جاری ہیں ۔اگر اُس کی حکمت عملی ناکام ہے تو آپ کیوں اپنے ایجنڈے (آزادی ) کا اظہار پورے انٹرویو میں صرف اُس وقت کرتے ہیں جب آپ عوام کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اُس سے دستبرداری کا عندیہ دیتے ہیں ۔ ریاست (بقول آپ کے اسٹبلشمنٹ ) اپنی حکمت عملی سے ایک ملی میٹر بھی پیچھے نہیں ہٹاہے ۔گذشتہ دس بارہ برسوں سے دونوں فریق اپنی اپنی بات پر ڈٹے ہوئے تھے اب آپ آزادی کی بات سے جھجک محسوس کر رہے ہیں تو بجا سوال اُٹھتا ہے کہ کون خوشی منائے کہ اُس کی حکمت عملی کامیاب ہے؟ جب کوئی جنگ کرتا ہے تو وہ مدمقابل سے یہ فرمائش نہیں کرسکتا کہ آپ جسم کے کن کن حصوں پر وار کریں جہاں تکلیف کم ہوتی ہے۔تاہم اگر ایک فریق دنیا میں مروجہ جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو بین القوامی قوتوں کو متوجہ کرنے اور مدمقابل کو انہی قوانین کے تحت کاروائی کرنے کہا اور مجبور کرنے کی کوشش ضرورکی جاتی ہے۔تیسرا آپ کی جماعت نے جوموقف اپنایاتھا اس کے مطابق بلوچ وطن مقبوضہ ہے اور آپ آزادی چاہتے ہیں ۔لیکن مذکورہ بیان میں آپ قابض ریاست سے نہیں اس کے اسٹبلشمنٹ سے نالاں ہیں جو بذات خود اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے کیونکہ اسٹبلشمنٹ ریاستی پالسیوں کے تابع ہوتی ہے ۔آپ اصل فریق (پاکستان ) سے گفتگوکرنے بجائے اسکے ہرکارہ سے مخاطب ہوکر یہ ثابت کررہے ہیں کہ آپ برابری کے قابل نہیں رہے جس کے لئے ہزاروں جانیں نچھاور ہو چکی ہیں بلکہ آپ اُسی قافلے کے بھٹکے ہوئے گروہ کے سربراہ ہیں جو سترکی دھائی میں آزادی کا نعرہ لگا کربالا آخر ایک چیف سیکریڑی کے تبادلے پر آکر دھڑام تختہ ہوا تھا ۔ ’’اگرہمارے دوست ،ساتھی ،سیاسی حلیف اورعوام کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ تو ہم بالکل پاکستان کے ساتھ رہنے کو تیار ہیں ‘‘ سوال پیدا ہوتاہے کہ آپ کس کو سیاسی دوست و حلیف سمجھتے ہیں ؟ اور عوام کی اکثریتی رائے جاننے آپ کے پاس کون سا میکانزم موجود ہے؟ کیا آپ نے بلوچ قوم کو آزادی کا نعرہ دیتے ہوئے اور سیاسی و عسکری محاذوں پرجدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے عوامی رائے لینے ریفرنڈم یارائے جاننے کا کوئی اور طریقہ اپنایا تھا؟اگر آپ سیاسی دوست اُن قوتوں کو کہتے ہیں جو آزادی کی بات کرتے ہیں اُن میں سے کسی نے تاحال عوامی سطع پر پاکستان میں جاکر سلامی کا عندیہ نہیں دیاہے۔آپ کامذکورہ اظہاریہ آپ کے تمام سابقہ بیانوں کے بر خلاف ہے جن میں آپ نے اس ملک سے آزادی کیلئے لوگوں کو گھروں سے نکال کر پہاڑوں اور شہروں میں مزاحمت کی راہ دکھا کر جانیں قربان کرنے آمادہ کیا تھا۔کیا جو لوگ جان سے گئے ہیں اُنھیں آمادہ کرنے آپ نے کسی عوامی رائے کا حوالہ دیا تھا یا سیاسی حلیفوں سے رائے لی تھی ؟۔یہاں یہ بات زیر بحث نہیں کہ سیاسی حلیفوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے بڑے نواب بگٹی سے ایک گولی کے بدلے دس گولیاں چلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب جنگ شروع ہوئی تو اُن کے غباروں سے ہوائیں نکل گئیں اور شہید نواب نے اُنھیں کیسے کیسے بلوچی ’’شغان ‘‘ سے نوازہ وہ تاریخ کا انمٹ حصہ ہے ۔ہاں اگر آپ کے سیاسی حلیفوں نے درپردہ ہار مان کر ریاستی ایجنڈے پر بات شروع کی ہے جس کاصرف آپ کو علم ہے اوروہ اُس کا کھل کر اظہار نہیں کرسکتے تو یہ الگ بات ہے ۔ اُس صورت میں بھی بقول بی بی سی والے کے آپ حیر بیار مری کی طرح اپنا موقف واضع کردیں تاکہ کوئی ابہام نہ رہے ۔آپ کہتے ہیں ’’اگر قتل و غارت جاری ہو تو ایسے ماحول میں مذاکرات کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اِسی لئے ہمارا کہنا ہے کہ آپریشن بند کیا جائے ،تمام فورسز کو واپس بلایا جائے تو اس کے بعد ہی بات چیت کیلئے ماحول ساز گار ہو سکتاہے۔‘‘ براہمدغ بگٹی سے بہتر شائد ہی کوئی دوسرا جانتا ہے کہ فورسز کو بلانا اور قتل و غارت گری اصل مسلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسلہ (غلامی )ہے باقی سب اس سے گلو خلاصی کی کوشش کی سزا ہیں جو پاکستان پوری قوم کو بلا امتیاز دے رہی ہے ۔جب بھی بلوچ قوم نے آزادی کی بات کی ہے اُسے کچلنے فورسز روانہ کی گئی ہیں اورجب اس سے دستبردار ہوکر غلامی پر رضامندہوا ہے تو فورسز واپس اور قتل کا سلسلہ بند ہوا ہے اس تناظر میں بلا جھجک کہا جاسکتا ہے کہ بی آر پی قیادت جہد سے دستبرداری کی قیمت پر سمجھوتہ کرنے جارہی ہے یا ایسے سوچ کی طرف مائل ہے جس کا انجام کسی بھی بہانے ہتھیارپھینکنے پر منتج ہوگا ۔ ویسے تویہ ماحول ساز گار ی بی این پی مینگل کابجایا ہوا راگ ہے جسے الیکشن 2013 میں حصہ لینے سے پہلے شرط کے طور رکھ کر اخترمینگل اور ثنا بلوچ نے ملکربجایاتھا جنہیں کسی نے گھاس نہیں ڈالاتو بی این پی نے قیادت کی بے توقیری چھپانے پارٹی سینٹرل کمیٹی کے فیصلے کو ڈھال بنایا ۔ ایک سوال کے جواب میں آپ گویا ہیں کہ ’’ہم تو مظلوم قوم ہیں اور نو سال سے آپریشن کا شکار ہیں ۔طاقتور وہی ہیں وہ کیا دینے کو تیار ہوں گے ؟وہ کیا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ اگر وہ آتے ہیں تو ہم انھیں وہی ایجنڈا پیش کریں گے جو ہماری اکثریت کو منظور ہو گا‘‘ میری ناقص رائے میں ایک پارٹی سربراہ اور وہ بھی آزادی کامطالبہ کرنے والے لیڈر کی ایسی بات کسی بھی صورت درست نہیں جو اس کے پارٹی لائن سے بھی متضاد ہو یاجس سے نہ صرف یہ مطلب نکلتا ہو کہ آپ اب تک کے رواں جہد ،اسکے پس منظراوراس کے مقاصد سے نابلد ہیں بلکہ ایک بھکاری کی مانند اس انتظار میں چشم براہ ہیں کہ کب ظالم مہربان بن کر آئے اور کشکول میں چند سکے ڈال دے۔آپ کا پارٹی لائن شروع سے قومی آزادی کاحصول رہاہے ۔ اگر بات ایسی ہے اور وہ درست بھی ہے تو گذشتہ نودس سال کا جد وجہد1839ء سے شروع جہد آزادی کا تسلسل ہے اُس سے الگ کوئی اور چیز نہیں ۔دوسرا اُن کے طاقتور ہونے کا اعتراف و اپنی کمزوری ومظلومیت کا رونا رونابھی کسی کسوٹی پر درست موقف نہیں ۔کیا پاکستان آج اچانک اتنا طاقتور ہوگیا یا آپ اچانک مظلوم و کمزور ہوگئے جو اپنی آزادی کیلئے لڑنے سے دستبردار ہونے اس رشتے کو جواز بنا رہے ہیں۔ان سے بھی مضحکہ خیز یہ بات کہ’’ وہ کیا ایجنڈا رکھتے ہیں۔۔اگر وہ آتے ہیں توہم انھیں وہی ایجنڈا پیش کریں گے جو ہماری اکثریت کو منظور ہو گا‘‘۔اتنا معصوم بننے کی بھی ضرورت نہیں کم از کم دس سال آپ اس جہد کا حصہ ہیں ابھی تک آپکو علم نہیں کہ اُن کا ایجنڈا کیا اور آپ کے ہزاروں لوگ کس ایجنڈے کی تکمیل کیلئے جانیں نچھاور کئے جارہے ہیں۔اُن کا ایجنڈا پاکستان کے فریم ورک میں حقوق کے نام پرایک مخصوص طبقے کو مراعات دے کردوسروں کو اطاعت پر مجبور کرناہے تاکہ اُنھیں بلوچ ساحل و وسائل کو کسی مزاحمت کے بغیر لوٹنے کوئی امر مانع نہ ہو ۔ جہاں تک عوامی رائے کے اظہار کاسوال ہے تو 2013ء کے الیکشن میں چار یا پانچ فیصدووٹ پڑنے پر آپ نے خود اِسے پاکستانی ریاست سے بیزاری اور بلوچ تحریک آزادی کے حق میں خاموش ریفرنڈم سے تعبیر کیا تھا اب اس درمیان میں بلوچ قتل و بیزاری میں اضافہ کے سوا کیا ہوگیا جوآپ کووہ عوامی بائیکاٹ درست رائے شماری نہیں لگتی ؟بندوقوں کے سائے تلے خوف و لالچ کے باوجود لوگوں نے آپ آزادی پسندوں کا ساتھ دے کر ووٹ و الیکشن سے بائیکاٹ کیا۔اب بقول آپ کے انہی جعلی ووٹوں اور خفیہ اداروں کے منتخب کردہ لوگوں سے بات چیت میں آپ کو کوئی قباعت محسوس نہیں ہورہی بلکہ آپ عوامی رائے جاننے کا کوئی میکانزم نہ رکھنے باوجود عوامی رائے کی باتیں کرتے ہیں ریاست کی شکست نہیں بلکہ آپکی ذاتی ( تحریک کی نہیں ) پسپائی کاگماں چھوڑتا ہے۔ آپ آگے کہتے ہیں’’ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن دس پندرہ برس بیت چکے ہیں ۔آپ نے ان برسوں میں کب کوشش کی ۔بات صرف اخبارات اور حکومتی اجلاسوں تک محدود رہتی ہے ۔اسٹبلشمنٹ اپنے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرے کیونکہ طاقتور وہی ہیں‘‘۔پاکستان سے بات چیت کیلئے اتنی بیقراری اور اُنھیں اپنا سمجھ کر گلہ شکوہ کرنا کسی بھی زاویے سے دیکھنے میں قابل نفرت ہی نظر آتی ہے کیونکہ تاحال جو بات ریاست اور بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان رکاوٹ رہی ہے وہ یہ کہ پاکستان نے اپنی جغرافیہ کے اندر رہ کر بات چیت کا ایجنڈا رکھاہے جبکہ بلوچ آزادی پسندوں نے اُسے قابض کہکر اُس کے مکمل انخلا پر بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ کرکے اُس سے براہ راست بات چیت سے انکار کیا ہے اِسی لئے تو سب فریقین نے بین القوامی ثالثوں کو درمیان میں بٹھانے کو بات چیت کے شروعات کیلئے اولین شرط رکھا ہے۔اس سے کم کسی لیڈر نے کسی بھی گفت و شنید کے کوشش کواپنی بے توقیری و وقت کا ذیاں قرار دیا ہے ۔ اب اچانک یہ پینترا کہ دس پندرہ سال اسٹبلشمنٹ کے مائنڈ سیٹ کی وجہ سے ضائع ہوچکے ہیں گویا ہم آپ کے ایجنڈے پر ابتداء سے بات چیت کیلئے تیار بیٹھے ہیں یہ آپ ہی ہیں جو ہمیں نظر انداز کرتے آئے ہو۔ یہاں آپ جس بات کا انکشاف کرتے ہیں اُسے بلوچ قوم سے دھوکہ یا سیاسی نابالغی کے سوا کچھ اور نہیں کہا جاسکتا ۔آپ نواب اسلم رئیسانی ،رحمن ملک اور آصف زرداری سے رابطوں کی بات کرتے ہیں یہ وہی بات ہے جس پر حیر بیار مری پر طعنوں کے نشتر چلاکر جملے کسے گئے حالانکہ حیر بیار مری نے اُسی وقت اس بات سے قوم کو آگاہ کیا کہ رحمٰن ملک آپ کے ہاں جان سلُیکی کی رہائی کے سلسلے میں درخواست لیکر آیا تھا۔جبکہ اس سے قبل اس سوال پر کہ کیا پاکستانی حکام نے آپ سے رابطہ کیاہے ۔آپ نے تومطلق نہیں میں جواب دیا تھا جبکہ شیر محمد بگٹی نے ایک جملہ کے اضافے کے ساتھ کہا تھا کہ ہمارا کسی سے کوئی رابطہ نہیں تاہم حیر بیار مری کے رابطوں کے متعلق اطلاعات ہیں۔لیکن آپ کی اس بات کے بعدکہ نواب رئیسانی اور رحمن ملک سے بات آگے بڑھانے آپ نے آصف زرداری سے ان کے قابل اعتبار ہونے کی تصدیق یا تردید کیلئے رابطہ کیا ۔یہ بات کتنا معصومانہ یا احمقانہ ہے کہ کوئی قومی آزادی کی بات کرے اوراُس کیلئے رحمٰن ملک یا نواب رئیسانی کو اتنا معتبر سمجھے کہ اُن کے بارے ایک اور بے اختیار لیڈر سے رابطہ کرے اور بعد میں اُس رابطے کو اُس قوم سے بھی چھپائے جس کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔ “آرمی والوں نے حالات خراب کئے تھے اور اِسے صحیح بھی وہی کریں گے ۔ہمارے پاس نہ طاقت ہے اور نہ اتنی بڑی فوج کا ہم مقابلہ کرسکیں”۔ کیا آپ کو علم نہیں کہ پاکستانی فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے جو ریاستی پالیسیوں کا پابند ہے لیکن آج تک اس نے اِسی ریاست کی پالیسیوں کی پابندی نہیں کی ہے جب چاہا اسکی دھجیاں اُڑائیں۔بلوچوں کے ساتھ بھی اس کے معاہدات کی تاریخ شرمناک ہے پے در پے آپریشنز اس کی گواہ ہیں ۔فوج جس ریاست کی کھاتی اور جس ریاست کی مرعون منت ہے اُسی کے حصے بخرے کرنے اور جب جی چاہے اُسکے آئین کی پائمالی سے نہیں کتراتی اُس سے کس کی گارنٹی پر بات کرنے جارہے ہیں؟ کیا نواب نوروز خان،نواب اکبر خان بگٹی و دیگر بلوچ لیڈروں سے فوج کے “کامیاب گفت و شنید “و اُنکے ” المناک “نتائج سے آپ بے خبر ہیں یا جان بوجھ کر بے خبر رہنا چاہتے ہیں جو فوج سے ایسی توقع رکھتے ہیں۔اس سے قبل بارہا اِسی سوال کے جواب میں آپ نے یہی موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ ہم پاکستان میں کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتے لہذا بین القوامی گارنٹر درمیان میں بیٹھیں وہی ہمیں ضمانت دیں تب ہم جاکر کوئی بات کرسکیں گے اور اُن کے نتائج بارے مطمین ہوں گے ۔اب اس اچانک اعتبار کی بھی کوئی وجہ ہوگی جسے جاننا بلوچ قوم کا حق ہے۔ بی ایل ایف کا ردعمل ،بی این ایم کی خاموشی اور ڈاکٹر اللہ کے مبینہ شہادت کی افوائیں : براہمدغ خان بگٹی ایک عرصے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اُس کے ممکنہ اتحادی بی این ایم اور بی این پی مینگل ہوسکتے ہیں لیکن بی این ایم نے اس اہم انکشاف پر کبھی کھل کر بات نہیں کی ہے اورنہ براہمدغ کو اُس کا مقام یاد دلایا ہے جس طرح اُس نے اللہ نذر کوبی ایل ایف کے ردعمل کے بعد اُس کی اوقات یاد دلائی ۔دلچسپ بات یہ کہ بی این پی سے ممکنہ اتحاد کے بیان کے بعدبی ایل ایف نے بھی اُس وقت خاموشی اختیار کرلی تاہم اب جب براہمدغ خان نے پاکستان کیساتھ بات چیت پر رضامندی اور آزادی کے جہد سے دستبرداری کا اشارہ دیا تو بی ایل ایف نے فوراً اسکی مذمت کی جبکہ بی این ایم اور بی ایس او آزادبدستور خاموش رہے جن جن نظریاتی لوگوں نے بی آر پی لیڈر کے ایسی سیاسی بے راہ روی پر لب کشائی کی کوشش کی اُنھیں منع کیا گیا۔یہاں جو چیز سب سے تشویشناک ہے اور جس پر لوگ رائے دینے سے کتراتے ہیں وہ یہ کہ بی آر پی کے سربراہ کے بیان پر بی این ایم جیسے سیاسی تنظیم کو بیان دینا چائیے تھا نہ کہ بی ایل ایف کو جسے تاحال لوگ بی این ایم کا اتحادی سمجھتے ہیں ۔اس کا مطلب کہیں یہ تو نہیں کہ ڈاکٹر اللہ نذر نے پاکستان سے بات چیت سے انکار کیا ہے جو اُس کے اتحادیوں کو یقیناً پسند نہیں آیا ہوگا ۔ اب جب ڈاکٹر اللہ نذرکے قریبی عزیز، وفادار اور اہم کمانڈروں کی شہادت کے بعد اُس کی اپنی شہادت کی غیر مصدقہ افوائیں گردش کررہی ہیں تب جاکر براہمدغ خان کا ایسا بیان آیا ۔کہیں درون خانہ ایسا تو نہیں کہ بی این ایم اور پی آر پی بی ایس او آزاد سمیت ایک صفحہ پر ہیں اور بی ایل ایف الگ رائے رکھتی ہے جس کی سزا سب نے ملکر ڈاکٹر اللہ نذرکو ہر طرف سے تنہا کرنے کی صورت میں دے دی تاکہ وہ ان کے پاکستان کے ساتھ گفت و شنید کے بعد اُن قوتوں کا اتحادی نہ بن سکے جنہوں نے اُسے ایک عام بلوچ سے گوریلہ کمانڈر بنانے قدم قدم پر رہنمائی و مدد کی۔ بی این ایم اور بی ایس آزادکی خاموشی ہر لحاظ سے پُر اسرار اور تشویشناک ہے کیونکہ بحیثیت سیاسی جماعت بی آر پی لیڈر کے بیان پر اُنھیں اپنا موقف دینا تھا۔حالانکہ وہ اس سے قبل اس سے بہت کم اہمیت رکھنے والے واقعات پر اپنا ردعمل دینے میں پس و پیش کا شکار نہیں رہے ہیں۔اب کے بار اُن کی خاموشی سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ درون خانہ بی ایل ایف اور اُنکی راہیں الگ ہو چکی ہیں اور بی ایل ایف اُن سے یہ توقع نہیں رکھتی تھی اس لئے ایک عسکری ونگ ہونے باوجود براہمدغ کی بے وجہ پسپائی کے آثار پر بیان دینے مجبور ہوئی ہے۔بی آر پی قیادت کی طرف ایسے مصلحت پسندانہ بیان اور بی این ایم کی طرف سے مہر بہ لب کیفیت اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ بلوچ قوم کو فوری طور ایک ایسے سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو آزادی بارے دوٹھوک موقف رکھنے کیساتھ شخصیات بارے کسی مصلحت کا شکار نہ ہو اور بلوچ قومی جد و جہد کو نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق آگے لے جانے کی اہلیت و صلاحیت رکھتی ہو۔ ان تمام باتوں کے باوجود بی آر پی قیادت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ نہ صرف اپنے سابقہ پالیسی جس کے تحت بات چیت بین القوامی گارنٹرز کی موجودگی میں بلوچستان کے آزادی کے ایجنڈے پر ہوں کسی تذبذب کا شکار نہ ہوں ۔کیونکہ ان دو لازمی شرائط بغیر اُن کی طرف سے ناقابل قبول فیصلہ بلوچ تحریک آزادی پراُس ناکام خود کُش حملہ سے زیادہ کچھ نہیں جوہدف سے پہلے پھٹ جائے۔بلکہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ریاستی نئی حکمت عملی جس کے تحت بلوچ کے لاشوں سے گذر کر گوادر کو فعال کرکے چین کے حوالے کرکے یہاں انسانوں کا وہ سونامی لے آئے جو بلوچ کے وجود کو بھی مٹائے کے مقابلے میں ایک ایسے اشتراک عمل کی طرف بڑھے جہاں تمام آزادی پسند قوتیں ایک دوسرے کیلئے معاون ثابت ہوں ۔ بی این ایم اور بی ایس او آزادبھی بی آرپی کے اتحادی کے نعروں اور پھر پاکستان سے اصل موضوع سے ہٹ کر بات چیت پر رضامندی پر اپنی خاموشی توڑ دیں کیونکہ وہ بی ایل ایف کے ذیلی شاخ نہیں جو لوگ اس عسکری تنظیم کے بیان کو اُن کی نمائندگی تصور کریں ۔ ؂ نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے ۔۔۔ جوشخص ساتھ نہیں اس کا عکس باقی ہے (ختم شُد)

Back to Conversion Tool