لیڈر بنائے نہیں بلکہ اپنے عمل جدوجہد ثابت قدمی اور صلاحیتوں سے بن جاتے ہیں . ہمارے معاشرے میں سچ بات کہنا بہت مشکل کام ہے لیکن کچھ لوگ کسی سنگتی دوستی کا پروا کیے بغیر یہ کام کرجاتے ہیں اور اسی سچ کی پرچار نے وقت سے پہلے کئی چہروں اور خود ساختہ لیڈروں کو بے نقاب کیا دراصل وہ لیڈر تھے ہی نہیں بلکہ مصنوعی لیڈر تھے. بلوچ قومی تحریک میں شامل کئی ایسے لوگ تھے اور اب تک ہیں جب شوق لیڈری پیدا ہوا تو ایک پارٹی بناؤ چند لوگوں کو اکھٹا کرو اپنے بڑے بڑے پوسٹر اور فوٹو آویزان کراؤاور دل ہی دل میں خوش ہوجاؤ کہ میں لیڈر بن گیا میرے پیچھے ایک قوم ہے لیکن ایک قوم جب غلامی کے خلاف اٹھ کھڑا ہو خالات جنگ میں ہو تو وہان خود ساختہ لیڈری کے دعوا کرنے والوں کے دن بھی کم ہوتے ہیں کیونکہ انکا صبر و تحمل جواب دیتا ہے وہ تھک جاتے ہیں اور اپنے مقصد اور میدان سے پسپا ہوجاتے ہیں. بلوچ قومی تحریک نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں عروج اور زوال بھی دیکھے ہیں اور مختلف لیڈروں کو بھی پسپا ہونے کا نظارہ دیکھ چُکا ہے. ہم نے بحثیت ایک سیاسی کارکن کے قلات اسمبلی میں میر غوث بزنجو کا تاریخی خطاب بھی پڑھا ہے اور پھر اسی بے رحم تاریخ میں اسکی پسپائی کے قصہ بھی پڑھنے کو ملے ہیں.عطااللہ خان مینگل کی آزاد بلوچستان اخبار کے قصہ کہانیاں گرج دار تقریر بھی سنُے ہیں اور بدلتا موقف بھی کہ بلوچوں میں پٹاخہ پھوٹنے کی صلاحیت نہیں ہےدوسری طرف تحت جھلاون سے اختر مینگل وہ تقریر کہ ڈیرہ بگٹی میں ایک گولی چلے تو یہان سے دس گولیاں فائر ہونگے ڈیرہ بگٹی میں ہزار گولیاں اور بم برسے لیکن وڈھ سے ایک پٹاخہ کی آواز نہیں آیا اور لوگوں نے مفت میں تالیاں بچائے اکبر خان بگٹی نے آخری ایام میں بلاچ سے سنگتی کیا اپنے عہد پر قائم رہا 80 سالہ بزرگ نے ایک سپاہی کی حثیت سے جنگ کو ترجیح دی لیکن دوسری جانب اختر مینگل نے کوئٹہ میں دن دیہاڑے ہزاروں کی مجمع میں پاکستان کو طلاق دے دیا رشتہ ختم کیا اور خوب تالیاں بچائے گئے اور پھر نا جانے کہان رات کی تاریکی میں خلالہ کروایا اور 6نقاط لیے پاکستانی عدالتوں میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا اور آج اسی طرح خالیہ بلوچ قومی جنگ جو بغیر کسی وقفہ کے 15سالوں سے جاری ہے اکبر خان بگٹی کے شھادت کے بعد براھمدگ نے تحریک میں قدم رکھا تکلیف اٹھائے جلاوطن بلوچ رہنما کی حثیت سے زندگی گزار رہا ہے بی ایل اے اور بی ایل ایف کی موجودگی میں بی آر اے بنایا دوستوں نے سپورٹ کیا ‘ بی این ایم کی موجودگی میں بی آر پی بنایا پھر بی ایس او آزاد کے ہوتے ہوئے بی آر ایس او بنوایا اسی طرح آزادی پسندوں کی اتحاد فرنٹ سے پھر چلانگ لگایا لیکن ان تمام گزرتے صورتحال میں براھمدگ کا یہی کوشش رہا ہے کہ میں لیڈر بن جاؤں جرمنی سے سویزر لینڈ تک کارکنوں نے اسکے بڑے بڑے فوٹو ہاتھوں میں لیے مظاہرہ تک کیے اسکے زیر تسلط تنظمیوں سے وابستہ سنکڑوں کارکن ریاست کے ہاتھوں شھید ہوئے جیل او زندان گئے خاندان کے کئی لوگ شھید ہوئے ان سختیوں میں ہم یہی امید کررہے تھے کہ اب براھمدگ یا اسکے اتحادی خوش کے ناخن لینگے پارٹی پرستش سے نکل کر قومی مفادات کو ترجیخ دینگے لیکن وہی ہوا جس کا خدشہ دوستوں نے پہلے کیا تھا اور اپنے انٹریو میں کہتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایجنڈا نہیں؟ ہم ریاست سے مزکرات کے لیے تیار ہیں جب بی بی سی کے نمائندہ ان سے پوچھتا ہے کہ مزکرات کے لیے آپکا ایجنڈا کیا ہوگا تو براھمدگ کہتا ہے ھم مظلوم ہیں ہمارے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے ایجنڈا وہ رکھیں اب بگٹی بردران دوست ناراض ہیں براھمدگ نے جو کہا اس میں حکمت عملی چھپا ہے. سبخان اللہ یہ کونسا حکمت عملی ہے کہ صاف صاف الفاظوں میں پسپا ہوتا دکھائی دے رہا ہے اگر چہ اسکے آڈیو انٹریو میں یہ باتیں نہیں ہوتی تو کم از کم ھم اسکو بی بی سی کی بدنیتی سمجھتے جس طرح گزشتہ روز سنگت خیر بیار مری کے آڈیو انٹریو کے برعکس بی بی سی نے وہ ہیڈ لائن دی جس کا ذکر آڈیو انٹریو میں نھیں تھا لیکن پھر بی بی سی نے اپنا غلطی درست کرلیا. جس دن براھمدگ بگٹی نے تھکاؤٹ محسوس کرکے بی بی سی کو انٹریو دیا اس دن سے لے کر آج تک اسکے دانشور اسکے پسپائی کو مختلف انداز میں تشریخ کررہے ہیں ایک کہتا ہے کہ صلح حدبیبہ ہونے جارہا ہے ایک لکھتا ہے کہ پلان سن پلان جنگ میں چے گویرا کے جب گولی ختم ہوا تو اس نے اس طرح کیا؟ ایک لکھتا ہے عمر مختار بنے جارہا ہے کل تو ایک دوست مرید بگٹی نے لکھا تھا کہ اگر براھمدگ اپنے دادا کی شروع کرنے والے جنگ سے مزکرات کی طرف جائے تو کونسا غداری ہے ؟ اور اس نے دبے الفاظوں نواب مری کو بھی غدار قرار دے دیا کہ افغانستان جلا وطنی میں انکو اتنا امداد اور اسلحہ ملا کہ ایک ملک کو ملتا ہے کیا اسکے پاکستان واپسی پر ہم اسے غدار کہیں؟ نواب نوروز یا آغا عبدالکریم کو واپس آنے پر غدار کہیں؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ تحریک کو سرد خانہ میں رکھ کر واپس آے تھے تو یہی دلیل منطق لے کر براھمدگ اسی سنت کو زندہ کرنے جارہے ہیں تو اچھا ہے یہی بلوچ تحریک آزادی پر ایک احسان ہوگا ان 15سالوں میں بلوچ کا یہ نسل اپنے آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ لیڈراور کمنٹمنٹ کسے کہتے ہیں وہ خود بن جاتے ہیں بنائے نہیں جاتے ہیں میں اور آپ خیر بیار مری اور براھمدگ بگٹی کے انٹریوں کو لے کر جتنا تشریخ کریں انکا حکمت بیان کریں انکی فضلیت قوم کو بتائیں کچھ ہونا والا نہیں کیونکہ دونوں کے آڈیو انٹریو بی بی سی کے ویب سائٹ پر موجود ہیں اور دونوں کے انٹریو عبرانی اور لاطینی زبان میں نہیں بلکہ اردو میں ہیں قوم نے دونوں کے انٹریو سُنے ایک طرف ایک پسپا ہوا سیاستدان کے الفاظ ہیں تو دوسری طرف ایک لیڈر کا دو ٹوک موقف ہے کچھ چیزین خود اپنے رخ کا تعین کرتے ہیں اب اگر میں اور آپ بیٹھ کر سارا دن ان دونوں انٹریوں کا تشریخ کریں قوم ہمارا نہیں سنے گا وہ ان باتوں کو سنے گا جو بلوچ تاریخ کے حصہ بن گے اور یہان تک خیر بیار کا دو ٹوک موقف مضبوط ہے کہ بی بی سی کو اپنا ہیڈ لائن تبدیل کرنا پڑا. آپ اور آپکے پرانے اتحادیوں خوب زور لگایا کہ خیر بیار مری کو متنازعہ بنائیں لیکن دل کہ ارمان اس وقت آنسو میں بھ گئے جب بی بی سی نے خود اپنے غلطی کا اعتراف کیا آپ دوستوں نے براھمدگ بگٹی کے پسپا ہونے والے انٹریو کے بعد سے آج تک سنکڑوں آرٹیکل لکھے ہیں براھمدگ بگٹی کے دفاع اور سنگت خیر بیار مری کے خلاف لیکن آپ لوگوں کا موقف اتنا کمزور ہے آرٹیکل کے شروعات خیر بیار کے خلاف قلم اٹھ جاتے ہی دوسرے پیراف گراف سے آخر تک براھمدگ کو زبردستی لیڈر بنانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہو اور اس تحریک میں واحد لیڈر خیر بیار مری ہیں جس کے خلاف اسکے مخالفیں کے پاس لکھنے کے لیے کوئی دلیل اور منطقی جواز نہیں تو مزاحیہ جھوٹ لکھتے ہو کہ میرے بھائی ایک دوست کو ٹرانسفر کی ضرورت تھی تو خیر بیار مری نے 30ہزار مانگے 30ہزار میں تو ایک کونسلر کسی کام نہیں کرتا کم از کم 3 لاکھ لکھتے تو 5منٹ تک کوئی سوچ کر پھر آپکا جھوٹ اپکے منہ میں مارتا مجھے افسوس صرف اتنا ہے کہ ان 15سالوں میں ایک پارٹی ایک ڈھنگ کا لکھاری پیدا نہ کرسکا لیڈر تو دور کی بات ہے.