یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںبلوچ خواتین اغواءء کرنے میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکارشامل ہیں۔ بی این...

بلوچ خواتین اغواءء کرنے میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکارشامل ہیں۔ بی این ایف

کراچی( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے کراچی کے علاقے عزیز آباد سے اغواء ہونے والے تین بلوچ کمسن بچیوں کی اغوا و عدم بازیابی کے خلاف کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے بی این ایف کے رہنماؤں نے خطاب کیا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت بلوچ خواتین کے اغواء و قتل کے لئے ادارے راہ ہموار کررہے ہیں۔ بلوچ آزادی کی تحریک میں خواتین کی بھر پور شرکت کو کم کرنے اور انہیں سیاست سے دور رکھنے کے لئے خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایک عرصے سے جاری بلوچستان میں مظالم کے خلاف بلوچ خواتین کی متحرک کردار کو ملک کے ادارے بلوچستان میں اپنے وجود کے خلاف خطرہ جان کر انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مغویوں کو سیاسی پارٹی و تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ان کو اغواء کرنے میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکارشامل ہیں۔ کیوں کہ ایک مہینے سے زائد کا عرصہ گزرنے اور اغواء کاروں کی نشاندہی کے باوجود ان کی عدم بازیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ایک منصوبے کے تحت اغواء کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی خواتین کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، 2012کی جنوری کے مہینے میں کراچی میں دو بلوچ خواتین و بچیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ پسنی میں کمسن ازگل اور یاسمین بلوچ فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے، 2012کی دسمبر کو مشکے میں ایک ہی خاندان کے 5 خواتین فورسز کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے شہید ہو گئے، خاران میں بھی آپریشن کے دوران فورسز نے گھر کے اندر فائزنگ کا نشانہ بنا کر بلوچ خاتون حلیمہ بلوچ شہید کردیا۔گزشتہ سال تمپ میں سترہ سالہ شہناز اور مشکے میں چھ سالہ گلناز فورسز کی بمباری سے شہید ہوگئیں ۔ ان سب کے علاوہ بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں اغواء ہونے والے فرزندان میں بلوچ خواتین بھی شامل ہیں، رواں سال کی جولائی کے مہینے میں فورسز نے ایک آپریشن کے دوران آواران کے علاقے سے تین خواتین کو گھروں سے اُٹھا کر اپنے کیمپ منتقل کردیا، چند دنوں بعد انہیں رہا کردیا گیا، ڈیرہ بگٹی سے فورسز کے ہاتھوں اغواء ہونے والے حنیفہ بگٹی و دیگر کئی خواتین تاحال فورسز کی غیر قانونی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کو ایک معتبر مقام حاصل ہے، لیکن جس طرح بلوچ دوسرے بلوچ فرزندان پر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے، اسی طرح بلوچ خواتین بھی جبر سے محفوظ نہیں۔ بی این ایف کے رہنماؤں نے کہا کہ کراچی سے اغواء ہونے والے تین کمسن بلوچ بچیوں کی اغواء جیسے سنگین مسئلے پر سندھی ترقی پسند جماعتوں و دیگر انسانیت دوست تنظیموں کو بھرپور آواز اُٹھانا چاہیے، کیوں کہ قبضہ گیر اس طرح کے واقعات میں مزید شدت لانے کے لئے اپنے گماشتوں کے ذریعے راہ ہموار کررہا ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں و ذرائع ابلاغ کے عالمی اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ بلوچ قوم کی نسل کُشی و جرائم کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان اداروں کی خاموشی سے ادارے شہہ پاکر اس طرح کی کاروائیوں میں شدت لا سکتے ہیں۔ جس سے بلوچستان میں بہت بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز