کوئٹہ (ہمگام نیوز)سول سوسائٹی بلوچستان کراچی سے اغواء کی گئی لڑکیوں کی بازیابی کا مطالبہ کرتی ہےجیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ 7ستمبر 2015ء کو کراچی عزیز آباد کے علاقے بھنگوریا گوٹھ سے 3 کم عمر لڑکیوں کو اغواء کیا گیا تھا۔ جس میں 14 سالہ صورت بی بی, 10 سالہ نگینہ بی بی اور 8سالہ سبینہ بی بی شامل ہیں۔ مغوی بچیوں کے خاندانوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع آواران سے ہے۔ انکے والدین نے معاشی مشکلات کی وجہ سے چند سال پہلے آواران سے کراچی نقل مکانی کی تھی۔ انکی اغواء کی خبر ایک مہینے بعد ذرائع ابلاغ تک پہنچگئی تھی کیونکہ انکے خاندان غربت اور لاشعوری کی وجہ سے میڈیا تک رسائی حاصل نہیں کر سکی تھی۔لڑکیوں کو اغواء کرنے کے بعد لاڑکانہ منتقل کیا گیا۔ سول سوسائٹی اور مغوی بچیوں کی والدین کے دباؤ میں آکر سندھ پولیس نے لاڑکانہ میں چھاپہ مارا۔ اس چھاپے کے دوران لڑکیوں کو اغواء کرنے والے دو ملزمان صدام جاکھرانی اور سلیم جتوئی گرفتار کر لئے گئے۔ گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مغوی لڑکیوں کو شکارپور میں ایک اور پارٹی کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔ اور اس وقت مغوی بچیاں مبینہ طور پر شکارپور میں ایک اثررسوخ رکھنے والے شخص ڈاکٹر ابراہیم جتوئی یا اسکے حواریوں کی تحویل میں ہیں۔
بچیوں کو اغواء ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ لیکن حکومت سندھ نے انکی بازیابی کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے ہیں۔مغوی بچیوں کے والدین شدید زہنی کوفت میں مبتلا ہیں کہ انکی بچیاں ایک مہینے سے کس حال میں ہیں۔متاثرہ خاندان نے حکومتی رویے سے نالاں ہو کر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کیا ہے اور ان سے مدد کی اپیلی کی ہے۔سول سوسائٹی نے 15اکتوبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا اور مغوی بچیوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔اس تناظر میں آج مورخہ17اکتوبر2015 کو سول سوسائٹی بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک بڑے احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرد شریک ہیں۔ احتجاج کے شرکاء چیف جسٹس آف پاکستان جناب انور ظہیر جمالی سے اس معاملے پر ’’سوموٹو نوٹس‘‘ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اسکے علاوہ احتجاجی شرکاء حکومت بلوچستان ، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز، ایم این ایز اور وفاقی وزراء سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سندھ حکومت پر مغوی بچیوں کی بازیابی کیلئے دباؤ ڈالے ـ


