آزادی ایک ایسی نعمت ہوتی ہے کہ اس کے بغیر کسی بھی چیز کا جینا موت سے بدتر ہوتا ہے آیا وہ انسان ہو یا جانور ہر ایک کہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ آزاد رہے اپنی طریقے سے جیے اس لیے آزادی کے لیے جنگین لڑی جاتی ہیں اس سے کے لیے مارا بھی جاتا ہے اور مرنے کو بھی تیہ دل سے قبول کیا جاتا ہے۔دنیا میں آزادی کے ساتھ رہنے کے علاوہ اور کوہی بڑی نعمت نہیں ہے ہر ایک آزادی کے ساتھ جینا اور سینہ تان کہ سانس لینا پسند کرے گا۔اس لیے ازل سے یہی سبق دیا جاتا آرہا ہے کہ آزادی کی قدر کرو اگر قدر نہیں کرو گہے تو ایک بار نہیں بار بار مرو گئے وہ بھی ایسا مرو گے کہ جینے سے نفرت ہو گی ہر لمحہ ہر منٹ ہر سیکنڈ آپ کو ستاے گی اور جینے سے ذیادہ موت کو ترجیح دو گہے۔جب آزادی سے محرومی کی بات آتی ہے یا غلام سماج میں جینے کا نام آے تو بلوچ ہی کو یاد کیا جاتا رہا ہے اور یاد کیا جارہا ہے یہ بلوچ ہی ہے جس نے صدیوں سال غلامی کی توک میں گزارے ہیں اور یہ سیکھ لیا ہے کہ غلامی کے ساتھ کس طرح جیا جاتا ہے اور کس حوصلے کے ساتھ جیا جاتا ہے۔یہاں لفظ حوصلے ساتھ جینا اس لیے استعمال کی کہ ہم بلوچ نفسیاتی غلام بن چکے ہیں احساس کمتری کا شکار ہو چکے ہیں۔مسلسل غلامانہ سماج میں جینے کے بعد آج بلوچ کا سوچ بھی غلامانہ ہے وہ دشمن کو اپنے آپ سے بہتر سمجتھا ہے دشمن ہم پے نفسیاتی طور پر حاوی ہو چکا ہے ہماری نفسیاتی مرض اور احساس کمتری کا اس بات سے انداذہ لیا جاسکتا ہے کہ ہم دشمن کو اپنا آہیڈیل مانتے ہیں دشمن ہی کی سوچ کو فالو کر کے اس ہی کے لیے کام کرتے ہیں۔دشمن کی طاقت سے خوف ذدہ ہوکے اس کے خلاف آہ تک نہیں کرتے دشمن کی طاقت سے اتنا خوف ذدہ ہو جاتے ہیں کہ اس کی طاقت پے ایمان تک لے آتے ہیں۔جس طرح فينن کہتاہے کہ “غلام اقوام استعماری قوتوں کے ہتهکنڈوں ميں جکڑنے کے بعد احساس کمتری کا شکارہوجاتے ہيں اور يہ مجرمانہ احساس غلام اقوام کی ذہنی نشوونما کے ليئے زہر قاتل بن جاتاہے کيونکہ يہ احساس عزت نفس کو مجروح کرتاہے اور غلام قوم خود اپنی نظروں ميں گرجاتاہے اور حقيقت بهی يہی ہے کہ جب انسان احساس کمتری ميں مبتلا ہو اور ان کی عزت نفس بهی مجروح ہو تو وہ غلامی کے خلاف کچه کرنے يا متحرک ہونے سے خوف زدہ ہوتی ہے کيونکہ وہ سمجهتی ہے کہ آقا کے سوا ”ميں ” کچھ بهی نہيں ہوں اور ”وہ ” طاقتور ہے ٬ لائق ہے اور اسے شکست نہيں دی جاسکتی ۔اگر آقا کو شکست بهی دوں تو آزادی کے سفر ميں تنہا کيسے زندگی گزار سکوں گا” بلوچ قوم نے طویل غلامی گزارنے کے بعد دشمن کی اس غلامانہ توک کو گلے سے نکالنے اور آزاد فضا میں جینے کے لیے ایک نہی آمید اور حوصلے کے ساتھ دھرتی مان کی سنگلاخ چوٹیون میں رہینے اور دشمن کے خلاف کمربستہ ہونے کا عزم کر کے دشمن سے دو بدو لڑنے مارنے یا مرنے کے لیے گوریلا جنگ شروع کی۔مسلسل غلامی کی زنجیرون میں جھکڑے بلوچ کو غلامی جیسے لعنت سے آزاد کرنے کے لیے کچھ بلوچ نوجوان نےسنگلاخ پہاڈون آگ سے بھی پر تپش ریتیلے میدانون چھاپہ مار گوریلون کی طرح گنجان آبادیون میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور صدیون سے جھکڑے غلامانہ نفسیاتی توک میں بلوچ کو یہی ترغیب دی کہ ہم غلام ہیں غلام کی کوہی حیثیت نہیں ہوتی دشمن جب چاہیے جس وقت چاہیے اس کے ساتھ کچھ میں کر سکتا ہے مار سکتا ہے مسخ کر سکتا ہے عورتون کو اٹھا کہ لے جاسکتا ہے۔ان ہی نوجوانون کی مسلسل تبلیغ سے امید کی کرن ایک دفع پھر بلوچ کی اولاخ تک آن پہنچی اور پھر دیکھتے ہی دیکتھے بلوچ نے دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھا لی اور دشمن کی اینٹ سے بجا دی۔اور ابھی تک بجاتا جارہا ہے اس کی واضح مثال مارگٹ وار شہید درویش کی فداہی حملہ زیارت حملہ ہو یا پھر جیونی میں دشمن پے کامیاب وار اور ساتھ ساتھ بولان میں ریاستی مشینری کا اہم ذریعہ ٹرین جس پے بی ایل اے کی جانثارون نے حملہ کر کے کہی قابض فوجیون کو ہلاک و زخمی کر دیا تھا (مندرجہ بالا تمام کارواہیون کی ویڈیوذ ریلیز بھی ہو چکے ہیں) ۔ بلوچ کی موجودہ آجوہی کی تحریک نے دشمن کو کافی نقصان پہنچایا تھا اور دشمن حواس باختہ ہو چکا تھا لیکن دشمن کے خلاف کمربستہ ہونے گوریلا وار کرنے کے باوجود ہم میں غلامانہ نفسیات کا اثر حد سے ذیادہ ہے۔ہم نے اپنی قوم کو یہ باور کرایا تھا یہ جنگ بلوچ اور قبضہ گیر ریاست کے درمیان ہے اور عام بلوچ کو کوہی نقصان نہیں ہو گا لیکن کچھ تنظیمین عسکری طاقت اور عوامی حمایت کی نشے میں اس حد تک لاپرواہ ہو گے کہ انہون نے دیکھتے ہی دیکھتے یہ جنگ قبضہ گیر ریاست کے بجاہے اپنی عوام کی طرف کر دی۔یہان ہماری نفسیاتی غلامی کی انتہا کو دیکھ لیں کہ وہ جنگجو جن کا کام سرمہی پہاڈون میں بسر کرنا اور اچانک دشمن پے حملہ آوار ہونا تھا وہ اپنی اپنی گھرون میں خواب خرگوش میں مگن ہوے۔اس حد تک نرگسیت کا شکار ہو گے کہ دشمن کی طاقت کو طاقت ہی نہیں سمجھتے تھے اپنی ایک بندوق اور دو میگزین کو کوی ایٹمی بمب سمجھ بھیٹے تھے کہ اگر دشمن وار کرے گا تو اس کو ان دو میگزینون سے نیست و نابود کر دینگے۔ایک تو یہ لاپرواہی ہماری صدیون سے غلام رہنے کا اثر اور دوسرا اور اہم وجہ نرگسیت تھا۔ ایک عام سپاہی جس کو ٹرینگ ہی اسی طرح دی گی ہو پھر اس کا کیا قصور۔جب بات نرگسیت اور اس کی تحریک پے اثرات پے ہو رہا ہے تو چلو ایک واقعہ عرض ہے کہ میرا ایک دوست جس کا تعلق بلوچ مسلح تنظیم بی ایل ایف سے تھا ایک دفعہ اس کے ساتھ بیٹھا گپ شپ ہی لگا رہا ہے تو میں نے پوچھا سنگت۔کوپگ ایک بات تو بتا دو ہم کب آزاد ہوں گے اور کس طرح آزاد ہوں گے تو سنگت نے گولڈ لیف کی ایک لمبی چسکی لینے کے بعد کہا یار کیا ہم نے اپنی علاقے کو آزاد نہیں کیا ہے کھبی آپ نے اپنی سرمہی آنکھون سے یہ دیکھا ہو کہ ایف سی والے سودا لینے بازار آہے ہوں میں نے کہا سنگت ایف سی والے تو بدستور اپنی کیمپ میں موجود ہیں اب یہ ان کی نفسیاتی شکست ہے کہ وہ اپ سے ڈرتے ہیں۔سنگت کو میری یہ بات بہت گران گزری کہ آپ نے کیون اس طرح کہا۔خیر وہ ایک کمانڈر تھا علاقاہی سطح پے تنظیم کو کس طرح چلانا تھا یہ بھی سنگت کی کوپہ پے تھا۔کچھ دیر خاموش رہنے کہ بعد سنگت سے پھر گستاخانہ لہجے میں عرض کر ڈالی کہ سنگت یہ کلاشنکوف اور اس میں ایک میگزمین کے علاوہ اپ کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے آگر خدانخواستہ وہ ابھی اور اسی وقت ہمارا گھیراوا کر کے ہمیں مار دیں پھر اپکا حکمت عملی کیا ہوگا۔تو سنگت نے تکبرانہ لہجے میں کہا ان کو پتہ ہے میں کتنا خطرناک ہوں ان میں اتنی جرات ہی نہیں کہ وہ یہ سوچ لگا سکین۔غیر سنگت سے گپ شپ کے بعد میں اپنے راستے پے چل پڑا اور سنگت نے گولڈ لیف کی سگریٹ پاکٹ سے نکال کے منہ میں ڈالی اور چلتا بنا۔کچھ مہینے بعد میسج کے ذریعے یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ سنگت پے حملہ ہوا ہے اور وہ شہید ہو چکے ہیں بعد میں معلومات ملی کہ سنگت اپنی گھر میں سورہا تھا کہ وہی ایف سی والے جن کو سنگت کچھ میں نہیں سمجھتا تھا سنگت کو مار کے واپس چلے گے۔ اصل بات یہ ہیں کہ اتنی قربانیون کے بعد بھی ہمیں یہ پتہ نہ چل سکا کہ گوریلا جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے۔ایک علاقے میں دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجانے کو آزادی کا نام نہیں دیا جاتا۔موجودہ جنگ میں ہماری سب سے بڑی کمزوری یا ناکامی نرگسیت ہے ہم سب کچھ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں ہمیں اس طاقت پے اتنی ناز ہے جس کو ہماری غلام سماج کی غلام عوام نے دی ہے اس طاقت کو اپنون کے خلاف استعمال کرتے ہوے ہم فخر محسوس کرتے ہیں۔چاہے وہ غلط ہو یا صیح۔مسلح تنظیمون (بی ایل ایف بی ار اے )کو آگر واقعی عوام کی فکر ہے صدیون سے توک غلامی کو توڈنے کی فکر ہے ایک مستقبل اسودہ وطن بنانے کی فکر ہے تو کم از کم ان کو اپنی رویے بدلنے پڑہیں گے یہ بدمعاشی بہت دیر تک نہیں چل سکتی۔اگر ہم کچھ کہیں تو کچھ دوستون کو برا لگتا ہے کہ دیکھین یہ ہم پے تنقید کر رہے ہیں اب ہم تنقید نہ کریں تو کیا کریں کہ کچھ نرگسیت کے مریض خود تو کچھ نہیں کر سکتے ان کام دوسروں کی ٹانگین کھینچنا ہیں۔ بلوچ سرزمین کے لیے ہزارون سنگت مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں ہزارون لاپتہ ہو چکے ہیں اور ہزارون کی تعداد میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں اب یہان ہر ایک کے لیے الگ الگ دن سے پروگرامز سیمینار یا خراج عقیدت پیش کرنا ناممکن ہے اس لیے بلوچ راجی راہشون سنگت حیربیار مری نے ایک قومی فیصلہ کر کے قومی شہیدون کےلیے لیے ایک دن تیرہ نومبر مقرر کی اس دن کی مناسبت سے تمام شہیدون نام و گمنام تمام کو خراج عقیدت پیش کریں۔لیکن ایک قومی فیصلے کو سبوتاز کرنے کے لیے پہاڈون میں بیھٹے کچھ نامونہاد دوستون نے اس دن کو متناضہ بنانے کے لیے پروپکنڈے شروع کی کہ حیر بیار ہوتا کون ہے جو ایک دن مقرر کرے اب یہان ان کی ذہینی غلامی اور نرگسیت کا خود اندازہ لگا لیں کہ وہ خود تو کچھ نہیں کر سکتے اور اگر کوہی دوسرا کرے تو وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اسی طرح بلوچ قومی چارٹر کو دیکھ لیں پہلے ایک محترم نے کہا کہ یہ ایک قومی و اچھی عمل ہے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن بعد میں منہ پھیر لی۔اسی طرح بلوچ قومی بیرک کو متناضہ بنانے کے لیے لاکھ کوشیشن کی لیکن ناکام رہیے۔ایک طرف یہی نامونہاد اپنے اپکو راجی رہبر کہتے ہیں اور دوسری طرف ان کے عمل بچگانہ ہیں۔ان نامونہاد راجی راہشونون کے بارے میں ٹالسٹائی نے اپنی کتاب ’’جنگ اور امن‘‘ میں تاریخ میں عظیم افراد کے کردار پر روشنی ڈالی ہے ۔ وہ اس کو تسلیم نہیں کرتا کہ عظیم افراد تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ اس کے نزدیک کوئی اگر ایسا سمجھتا ہے تو یہ اس کی خودفریبی ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ عظیم افراد یا جنہیں ہم ہیرو کہتے ہیں ، ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے ۔ یہ معمولی اور ناواقف لوگ ہوتے ہیں ، جو یہ دعوی تو ضرور کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہیں کہ تمام ذمہ داریوں کو نبھا سکتے ہیں ، مگر ان میں اتنی سمجھ اور عقل نہیں ہوتی کہ اپنی بے وقعتی کو تسلیم کرلیں اور یہ بھی تسلیم کرلیں کہ بڑا آدمی، فرد یا ہیرو اس جانور کی طرح ہوتے ہے جسے ذبح کرنے یا قربانی کے لیے فربہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے گلے میں جو گھنٹی ہوتی ہے اس کے بجنے سے وہ یہ سمجھتا ہے کہ پورا ریوڑ اس کی آواز پر حرکت کررہا ہے اور وہ ان کا راہنما ہے۔ مگر اس کا کردار راہنمائی یا لیڈر کا نہیں ہوتا ہے بلکہ قربانی کا ہوتا ہے ۔ مگر یہ ہیرو اور عظیم افراد اس راز کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔ آخر میں قربان گاہ تک پہنچ کر وہ خود کو مجبور اور آپاہج پاتے ہیں ۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے کہ جب وقت گذر چکا ہوتا ہے اور کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا ہے ۔اب یہان وہ دوست جن کے پاس عوامی مینڈیٹ ہی نہیں ہے وہ اپنے آپکو راجی راہشون کہلوانے کی تک و دو میں لگے ہیں اور ان کا عمل قومی نہیں بلکے اس کے بر خلاف ہے ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تاریخ کی بے رحم لہریں کسی کو بھی نہیں بخشتے تاریخ اپنے آپ لکھی جاتی ہے آپ کی عمل سے آپ کی سوچ و فکر سے نہ کہ کچھ لکھاری خرید کہ اس کو اپنی حق میں بدل سکو گے۔ آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ ذہن کی بند و تاريک خليے تنقيد کی روشنی سے ہی کهلتے ہيں ليکن شرط يہی ہے کہ تنقيد برائے اصلاح کے پس منظر ميں باعمل کردار ٬ مخلصی ٬ ايمانداری ٬ سچائی اور منطق ہو نہ کہ ذاتیات۔