بلوچ قوم تاریخ کی بدترین دور سے گزر رہا ہے اور اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے بلوچ کا خواہش ہے کہ میں اپنے بقا اور آزادی کی جنگ میں دنیا سے سپورٹ حاصل کرسکوں. کیونکہ قوم سے چندہ لے کر ہم ایک رسالہ چھاپ سکتے ہیں تحریک چلا نہیں سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان 15سالوں کی جنگ مسلسل سے ہم بحثیت قوم اُس حد تک کامیاب نہیں ہوئے جو ہمیں ہونا چاہیے تھا بلوچ نے کم آبادی میں بہت سے سروں کو قربان کیا ہے شاید وہ ایک آزادی کے لیے کم ہیں لیکن خوش کے ناخن لینے کے لیے بہت ہیں لیکن کیا کریں ہم جذباتی زیادہ ہوتے ہیں ہمارے پاس ادارے تو نہیں جہان ہم حالات کا تجزیہ کرکے حکمت عملی بنائیں لیکن ہمارے پارٹی اورتنظیم کے کامریڈوں نے جلسوں کی صورت میں چند لوگوں کو اکھٹا کرکے ہواؤں میں بہت تیر چلایا اور اسکا لا حاصل زیرہ رہا ہے. خطہ کی بدلتا ہوا صورتحال کے پیش نظر بلوچ قومی تحریک منظم کرنا تھا وسائل پیدا کرنے تھے آزاد بلوچستان کے نعرہ کو تنگ گلی کوچوں سے نکل کر دنیا کے کانوں میں ایک گونج پیدا کرنا تھا یہ کام بدقسمتی سے ہمارے نام نہاد ادارے اور ماس پارٹی نہ کرسکے اور خیر بیار مری نے یہ گناہ کر ڈالا لندن کے گلی کوچوں سے امریکی ایوانوں تک بلوچ کے حق میں آوازوں کی باز گشت خیر بیار کا گناہ عظیم تھا ….. یا کہ کوئی ایسا جواز اور ثبوت یہ دوست پیش نہ کرسکے جس کی بنیاد پر سنگت خیر بیار کے حلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا. کیا خیر بیار مری کا گناہ یہ تھا کہ اُس نے بلوچ قومی تحریک کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرکے پہلی مرتبہ قبائلیت سے نکال کر بلوچ نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع دیا کہ وہ اپنے تحلیقی صلاحیتوں سے تحریک آگے بڑھائیں. کیا سنگت خیر بیار مری کا گناہ یہ تھا کہ اُس نے شوق لیڈری میں تنظمیوں پارٹیوں پر قبصہ نہیں کیا؟ کیا سنگت خیر بیار مری کا گناہ یہ تھا کہ اُس نے تحریک کے لیے دوست ہمدرد پیدا کیے وسائل پیدا کیے کیا سنگت خیر بیار مری کا گناہ عظیم یہ تھا کہ اس نے آنے والے بلوچستان کا نقشہ چارٹر آف لبریشن کے شکل میں قوم کو دکھا دیا کہ کل کوئی سردار نواب یا ڈاکڑ مالک کی شکل میں کوئی مڈل کلاس کا دعواے دار شھیدوں کے خون کا سودا نہ کرسکے بلوچ قومی جدوجہد جو خالصتا نشنلزم کی جدوجہد ہے اسُے نجم سیٹھی والوں کی طرح طارق فتح جیسا سرخا کسی اور ازم کے نام پر کیش نہ کرسکے. کیا سنگت خیر بیار مری کا گناہ یہی تھا کہ اُس نے گھریلو رشتوں کو پس پشت ڈال کر نظریاتی فکری رشتوں کو ترجیح دیا کیا سنگت خیر بیار مری کا گناہ یہی تھا کہ اُس نے سرداری نظام کا خاتمہ کیا اور جہد آزادی میں مری بگٹی مینگل مکرانی پلانی کو بلوچ کے شکل میں آگے لایا؟ کیا سنگت خیر بیار مری کا گناہ یہی تھا کہ اُس نے تحریک آزادی کے لیے اللہ نذر براھمدگ حتی کہ اختر کو بھی دعوت دے کر یکجہتی کے لیے کوششیں کیے بلوچ تحریک آزادی کو گروہیت قابلیت پارٹیوں سے نکال کر ایک قومی دائرے میں لانے کی کوشش کیا ایک بلوچ جہدکار کی حثیت سے دنیا کو بلوچستان کی طرف متوجہ کروایا اور کیا ہوا پاکستان کی خیر بیار مری سے پریشانی سمج میں آتا ہے لیکن جن کے ہاتھوں پکڑ کر چلنا سکھایا وہ کیوں پریشان ہیں؟ انسانی فطرت ہے کہ دو بندے آپس میں لڑیں اور شگان بازی کریں وہ مرتے دم تک نہیں بھول پائینگے یہ تو قومی تحریک ہے ہر بات تاریح کے اوراق میں لکھی جارہی ہے تاریح نے اس بات کو قلم بند کیا کہ ایک مسلح تنظیم خیر بیار مری کو جہد آزادی کے لیے نقصان دہ قرار دیتا ہے اور تاریح یہ بھی دکھائے گا تحریک آزادی کے لیے کون نقصان دہ ہوگا یا ہورہا ہے؟ تاریح کے بے رحم قلم سے جو خدشات قلم بند ہوئے جن کی وجہ سے بلوچ قلمکاروں نے ننگی گالیاں سہ لیے غداری کے لیپل لگائے گئے آج وہی خدشات درست ثابت ہوئے کل ایک دوسرے کے گناہوں پر پردہ ٍڈالنے والے آج خود ایک دوسرے کو ننگا کررہے ہیں جہد آزادی کے نام بے لگام کمانڈروں نے اکرم بلوچ اصضر بلوچ ماسٹر حاصل عطااللہ فقیر ایوب نثار بشیر جیسے کئی گھروں کے چراغ بُجا دیے ان پر سوال اٹھایا گیا تو دوسری جانب ننگی گالیوں کے ساتھ گرج دار آواز میں کہا گیا کہ خبردار آزادی کے مقدس بندوق کبھی کسی بے گناہ کا جان نہیں لیتا ہے اور پھر یہ بات تاریح کا حصہ بن گیا کہ یہی مقدس آزادی کا بندوق قلاتی الطاف زھیر باسط جیسے کمانڈروں سمیت دشمن ریاست کے سامنے سرنڈر ہوئے. بلوچ قوم کے سامنے گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا کہ بی ایل اے بکھر چُکا ہے اب یہ وہ بی ایل اے نہ رہا ہم نے کہا قوم لفاظیت نہیں عمل دیکھتا ہے اور قوم نے دیکھ لیا بازاروں گلیوں میں موٹر سائیکل سواروں کی حکمرانی سے کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور بکھرے ہوئے بی ایل اے نے ریاست کو وہان ضرب لگا دیا جو اُسکے وہم گمان تک نہیں تھا یہان تک پروپیگنڈہ ہوا کہ خیر بیار مری ملٹی نشنل کمپیوں کا ایجنٹ ہے قوم اور سرزمیں کو سودا کررہا ہے اب آپ لوگ فکر نہیں کریں حمل حیدر براھمدگ جاوید اور مہران کے ساتھ ملکر اُس کے عزائم ناکام بنا دیں گے حتی کہ بی این ایم کے کونسل سیشن میں اول تا آخر ایجنڈا ملٹی نشنل کمپنی اور خیر بیار تھے. قوم نے دیکھ لیا کہ انہوں کونسا تیر مارا ابھی تک جینوا اتحاد کے خوشیاں تازہ تھے کہ براھمدگ نے ایسا گلاٹی مارا کہ حمل حیدر کا ہاتھ چھوٹ گیا اور شدت درد سے نڈھال انڈیا میں منعقدہ سمینار سے ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ دنیا بی این ایم کو سپورٹ کرے دنیا کو پاگل سمجھا ہے کہ وہ ایک قوم نظر انداز کے ایک غیر فعال بی این ایم کو سپورٹ کرے گا جبکہ وہان خیر بیار مری کے دو صفحوں پر مشتمل ایک پیغام پڑھا گیا پیغام نے انڈیا اور پاکستان میں ھلچل مچا دیا ہے خیر بیار وہان موجود نہیں تھا لیکن اسُکے الفاظوں کی سچائی ایمانداری اور لیڈر شپ صلاحیت سے وہ بہت اثر کر گئے. ایک مخلص ایماندار سنجیدہ شخص کے خلاف آپ جتنا پروپیگنڈہ کریں اسکی جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن ایک مصنوعی لیڈر کے خلاف کوئی چار الفاظ لکھے تو اسُکا خلیہ بگڑ جاتا ہے
اور براھمدگ ہمارے سامنے زندہ مثال ہے اور 4اکتوبر سے لے کر آج تک خیر بیار کو لے کر پاکستان پریشانی میں مبتلا ہے اور دشمن ریاست کے ساتھ اپنے نادان دوست بھی پریشانی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ خیر بیار مری کا راستہ کیسے روکیں لیکن سچائی کو روکنا مشکل اور سورج کو انگلی سے چھپانے کا مترداف ہے. آج بھی وقت ہے اس سے پہلے کہ گوادر میں لاکھوں پنچابی آباد ہوں گوادر کاشغر منصوبہ کے تحت بلوچ آبادیوں کو ملیا میٹ کیا جائے خوش کا ناخن لے کر اپنے حکمت عملیوں پر نظر ثانی کریں پارٹی پرستش سے نکل کر قومی سوچ کے تحت اپنے دوست اور دشمن کو پہچان لیں آج سے 15سال پہلے جب تحریک کے لیے لوگوں کو شعور دیا جارہا تھا تو سب یہی سوال پوچھ رہے تھے اب اس مرتبہ دھوکہ تو نہیں دوگے؟ آج 15سال بعد تحریک آزادی کے لیے ہزاروں ماؤں کے لحت جگر قربان ہوئے ہزاروں زندان میں ہیں پھر کیا ہوا کل کی بات ہے کہ دشت میں ہزاروں لوگ سرمچاروں کے حلاف روڈوں پر نکل آئے اور پہلی مرتبہ بی ایل ایف کے حمایتی دوستوں نے لکھا کہ یہ بی آر اے کے بربریت کے حلاف سراپا احتجاج ہیں خدانحوستہ کل کو یہی نوبت نہیں آجائے یہ تحریک گزشتہ جنگوں کی طرح بلا مقصد ختم ہوجائے پھر قوم یہ بھی نہیں پوچھے گا اس مرتبہ دھوکہ تو نہیں دوگے بلکہ یہی کہیں گے ہم آپ سے دھوکہ نہیں کھائیں گے.















