کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار مووومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں سنجاول ہرنائی اور بارکھان میں میں بلوچ سول آبادیوں پر حملہ اور ان کے مال مویشیوں کا نقصان بلوچ فرزندوں کی اغوا نما گرفتاری شہادتوں کا سلسلہ اور آواران میں بلوچ سیاسی دیوان پر حملہ اور تین بلوچ نوجوانوں کی شہادت جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سفاکانہ ریاستی کاروائیاں سول آبادیوں پر حملہ اور قومی آزادی کے سیاست سے وابسطہ نوجوانوں کو نشانہ بنانے کا عمل اور نسل کش کاروائیوں کا سلسلہ شدت سے جاری ہے ریاست عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈھٹائی کے ساتھ بلوچ فرزندوں کو شہید کررہاہے عالمی قوتوں کی زبان بندی سے ریاست کو نہ صرف بلوچ نسل کشی کے لئے شہہ مل رہی ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو انٹر نیشنل کمیونٹی کے سامنے جوابدہ نہ سمجھتے ہوئے انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی اپنی کاروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر رہاہے بلوچ قوم مکمل جنگی کیفیت کا شکار اور بلوچستان ایک جنگ زدہ علاقہ ہے جس کی صورتحال شام اور لیبیا سے بلکل مختلف نہیں جو عالمی توجہ کی بھر پور متقاضی ہے لیکن اقوام متحدہ سمیت انسان دوست ممالک میں بلوچستان میں جاری ریاستی جارحیت پر خاموش ہے حالانکہ جس ملک میں بھی ایسے حالات پیدا ہو تو اقوام متحدہ کو غیر جانبداری کے ساتھ اپنی زمہ داریاں ادا کرنا چاہیے جو ان کے فرائض اور زمہ داریوں میں شامل ہے آج ایسے کئی ممالک ہے جہان جنگی حالات کی صورت ہے وہان اقوام متحدہ اور عالمی دنیا سرگرمی کے ساتھ کام کررہے ہیں لیکن بلوچستان میں جاری ریاستی دہشت گردی پر اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے پاسدار ممالک کے سرگرمیوں میں سرد مہری پائی جاتی ہے یہ دوہرا معیار بلوچ قوم کے لئے کیوں حالانکہ اقوام متحدہ کے اپنے منشور میں قومی آزادی کے حوالہ سے واضح پالیسی موجو د ہے لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ بلوچ نسل کشی پر لب کشائی سے گریزان ہیں ترجمان نے کہاکہ بلوچ قوم کی جانب سے با رہا اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی توجہ مبذول کرائی گئی کہ بلوچستان ایک آزاد وخود مختیا ر ریاست ہے بلوچ قوم کا ریاست کے ساتھ کسی قسم کا رضاکارانہ الحاق نہیں بلکہ ریاست بزور طاقت بلوچ وطن کو اپنی نوآبادی بنایا ہے اور1948سے بلوچ قوم پر ظلم ڈھارہی ہے ریاست اور ان کے کاسہ لیس مقامی گماشتوں کا دعوی کہ بلوچستان ریاست کا اٹوٹ انگ ہے جھوٹ پر مبنی ہے بلوچ قوم جبری الحاق کے پہلے دن سے اس نوآبادیاتی تسلط کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کردیا بلوچ قوم اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کریگی یہ تمام حقائق شوائد اور آزادی کے جدوجہد کا اٹوٹ تسلسل اس بات کی عکاس ہے کہ بلوچ قوم اپنی آزاد و خود مختیار حیثیت پر کسی قسم کی سمجھوتہ کا متحمل نہیں ہوسکتا


