دنیا میں چند ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کچھ ہی پل میں اپنا مقام بناتے ہیں اور ان سے بھی کم یہ ہوتے ہیں جو ہمیشہ دل و دماغ پے اپنی یادوں کی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں سے ایک پہلی ملاقات میں اپناہیت سی بن جاتی ہیں۔ جو ہمیشہ ان سے جڑے رہنے کی مانگ کرتی ہیں۔ کبھی کہی دل میں اک خیال آتا ہیں کہ یہ اتنا بہتر کیسے ہیں ہم اس جیسے کیوں نہیں۔ اک آس ہوتی ہیں کہ ہم بھی ان جیسے ہوں۔ شاید ایسے لوگ جو ہنر پالتے ہیں چند ایک میں ہی ملے ایسا جو موت کی کو بھی مسکرا کر قبول کرے جن کے حوصلے سے موت بھی کھبرا جائے۔جو مرنے کے بعد ابدی زندگی جینے کا ٹھان لے۔یا شاید یہ جیتے ہی موت کی خاطر اور موت کو گلے لگاتے ہمیشہ زندہ رئنے کی خاطر اس خود پسندانہ خودغرض لالچ زدہ دنیا میں اور مفادپرست زاتی عیاش گرو پسندانہ جہد کاروں کے درمیاں میں نے ایک مخلص ایماندار سنگت کو بھی دیکھا جس کا معصومانہ مسکراہٹ۔ دہمی آواز۔ بلند حوصلے نے اسے باقی دوستوں سے الگ رکھا تھا۔ اس سنگت سے پہلی ملاقات میں ہی معلوم ہوا کے یہ سنگت کرم خان مری ہیں۔ 2009 میں جب میں اپنے دوست کے ساتھ ایک سنگت کے یہان کام کے سلسلے میں ملنے گیا تووہاں میرا ملاقات سنگت شہید کرم خان مری سے ہوا۔ یہ اس دوست کے ساتھ آیا ہوا تھا جس سے مجھے ملنا تھا۔ سنگت کو دیکھ تے ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انتہاہی سلجا سنجیدہ سمجدار سنگت ہیں۔ خیر میرا اس سے پہلا ملاقات تھا تو رسمی حال حوال کے بعداپنے دوست سے کچھ کام کے متعلق بات چیت ہوئی۔ ہم ایک ڈہابہ نما ہوٹل پے بیٹے تھے تو سنگت نے ہمارے لیے چائے منگوا کر خود ضروری کام سے ہوکر آتا ہوں کئے کر چلا گیا۔ اب سنگت کرم خان مجھ سے مخاطب ہوا اور پوچھنے لگا کے شہر کے حالات کیسے ہیں۔ میں نے حسب روایت کہا۔ سنگت حالات اب یہی ہیں دشمن اپنا زور لگا رہا ہیں۔سنگت اپنے کوشش کر رئے ہیں۔ اس کے بعد سنگت کرم خان کے باتوں کا سلسلہ شروع ہوا شہر سے اتنے دور بیٹے اس شخص کے اتنے معلومات ہونگے اس وقت تک تو میں نے سوچا نہیں تھا۔ اس کے اکثر باتین یہاں آکر ختم ہوجاتی تھی کہ اس سے خیال کرنا ہیں۔ وہ اس طرح کا ہیں اس سے بھی خیال کرنا ہیں۔ اس متعلق دوستوں کو آگا کردووہ بھی احتیات برتے۔ میں میرے ساتھ آئے دوست اسے غور سے سن نے لگے میں اپنے زات کا کہو تو اس وقت میں حیرت میں تھا۔ کیوںکہ کرم خان ان میں سے تھا جنہے شہر آنےمیں بہت مشکلات تھی ان کا علاقہ شہر سے کافی دور اور اکثر دشمن کے ٹارگٹ آپریشن کا نشانہ تھا۔اس سب کے بعوجود بھی سنگت کو کتنا کچھ انفارمیشن ہیں۔
خیر کچھ دیر بعد وہ دوست واپس آگیا اور ہم نکل گئے۔راستے مین میں اسی متعلق سوچ رہا تھا تب ہی موٹرسائیکل چلاتے دوست نے مجھ سے مخاتب ہوکر کہا۔یار بڑا کمال شخص تھا۔ دل کر رہا تھا بس مجلس کرتے جایئں۔ اس کے بعد ایک دو مختصر ملاقاتیں ہوئی پر سنگت کے مجلس کا لطف نہ اٹھا سکے۔ پھر کچھ مصروفیات وقت و حالات کے وجہ سے میں کہیں اور چلاگیا مگر سنگت کرم خان اپنے مشن پے لگا ہوا تھا۔یہ میری بد بختی تھی یا وقت کا تقعضہ مگر اس بیچ میں سنگت سے نہیں مل سکا۔ ہاں اس کے اسی ایک ملاقات کے یادیں تھی۔ میرے زندگی میں ایسے کٗہی کردار ہیں جن کی کمی ان کے موت کے بعد ہوتی ہیں مگر سنگت کرم خان ان میں سے تھا جن کی کمی ان کے حیات میں محسوس ہواکرتا تھا۔ اکثر دوست سے اس کے متعلق بات ہوا کرتا تھا۔ وقت یو ہی رفتار سے کٹ تی رہی اور2012 میں ایک بار پھر سے اسی جانب رخ ہوا یہاں پھر سے سنگت کرم خان سے ملاقات ہوا وہی مسکراہٹ۔ وہی معصومیت۔ وہی اپنا پن۔ وہی محبت اتنے سالوں میں اگر کچھ بدلا تھا تو وہ یہ کے اب کا کرم خان پہلے سے زیادہ نڈر محنتی اور لائق ہوا تھا۔ اس بیج ان کے گھروں کو دشمن کے ایف سی اہلکاروں نے لوٹا تھا ان کے مال مویشیوں کو لے گے تھے ان پر آئے روز چاپے پڑتے تھے مگر مجال کے اس کا زرہ برابر ہوصلہ ٹوٹا ہو ہان اب وہ مسکراتے ہوئے کہتا تھا کہ یار اب یہان سکون کی شام کبھی نہیں ہوتی۔ اور دن اس بے رحم شام کے انتظار میں گزر جاتا ہیں۔ دشمن نے اتنے سالوں میں بہت کچھ لوٹا پر اس کے چلتن جیسے حوصلے کو چہو بھی نہ سکا۔ یہاں شام تو سکون کی نہ ہوتی ہوگی مگر سنگت کرم خان کے آنکھوں میں اتمنان بخوبی دیکھا جا سکتا تھا۔ میرے ساتھ جو سنگت تھا یہ اکثر کہتا تھا درد۔مصیبت غم زخم کو دل میں ہی مارڈالنے والوں میں سے ہیں یہ سنگت کرم خان جس کے ھونٹون سے کبھی مسکراہٹ جاتی تک نہیں۔ تھا ہی ایسا سنگت کرم خان ہر صف میں اول تھا کام محنت زمہداری خواری ہر بار اپنے زمہ لینے والوں میں سے تھا۔دوستوں کے لاکھ منع کرنے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا۔۔۔۔ مہے فکرا مہ کن۔۔ بس کار کنہ گی انت۔۔ مجھے یاد ہیں سنگت کرم خان کے اسرار پے میں رات دیر تک ان کے یہاں ٹہرا ہم ایک باغ کے اس حصہ میں چلے گے جو باقی جگہوں سے نیچھے تھا۔ سنگت کرم خان ہمیں اور اس کے ساتھ آئے دوستوں کوبیٹا کرخود قریب باغ میں چکر لگا کر آگیا۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رئے۔ سنگت نے ان اختلافات کے متعلق سوال کیا جتنا کچھ میں جانتا تھا بتانے لگا پھر سنگت کرم خان جگہ بناتے ہوئے اپنے گفتگو کی شروعات کرتے ہوئے کہیں نے لگا کے اچھا ہیں یہ سارے قصہ سامنے آجائے تعکے جو جتنا گند ہیں نکل جائینگے۔کرم خان مری قبیلہ سے تعلق رکھنے کے بعوجود اس بات پے متمعین تھا کہ یہ سارا سسٹم نواب صاحب کے جگہ سنگت حیربیار کے ہاتھ آجائے تو ہی ہم ایک بہتر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑ سکتے ہیں۔ اس کا اسرار تھا کے نواب صاحب پرانے خٰالات کا ہیں۔ یہاں سے میں بعزات خود اس سوچ میں پڑ گیا کے سنگت کرم خان ان میں سے ہیں جو کسی سردار کے کہنے پے نہیں بلکے ایک نظریہ کے تحت کاروان کا حصہ بنا ہیں۔تب ہی یہاں موجود باقی سنگتوں میں سے الگ مقام رکھتا ہیں۔اس مجلس میں بیٹے کچھ اور سنگت بھی مادر وطن پے قربان ہوگئے جن کے ارمان اور یادیں ہی ہیں۔ اس شام کرم خان ہی ہمارے توجہ کا مرکز ٹہرا۔ کافی دیر تک ہنسی مزاق ہوا واپس جاتے ہوئے دوست نے سرد آہ بہرتے ہوئے کہا۔ (یار دا یخاک دا شام گرمنگا چاہ و دا ڈولا سنگتا تا مجلس نصیب مرو؟؟؟؟؟؟) یار یہ سرد رات گرم چائے اور اس طرح کے دوستوں کا دیوان نصیب ہوگا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اور آج میں اس سرد رات میں تنہا بیٹے چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے سوچتا ہوں کے اس وقت میں غلط تھا جو سوچا تھا کہ اس طرح کا دیوان پھر کبھی ہوگا۔ کیونکہ سنگت کرم خان نے راستہ ہی ایسا چنا تھا جس کا راستہ منزل تک پونچنے کے لیے خود کی قربانی تھی یا دشمن کی موت ۔ ایک وسعی زہن انسان کے ہاتھ کچھ بھی تو نہیں آتا، وہ سوجتا اور جیتا دوسروں کے لیے ہی ہیں۔ اس زندگی میں اسکا اپنا کچھ نہیں ہوتا۔سنگت کرم خان نے بھی یہی کیا اس نے اپنا سودا قوم کے آسودگی کی خاطر موت سے لگاہی۔ اور مجھے یقین ہیں کے موت بھی اس جیسوں کو آتے ہوئے خود کو لاچار پائے گی۔ دیکھنے والوں کے مطابق شہید کرم خان اپنے علاج کے سلسلے میں شہر آیا تھا جہاں دشمن ایلکاروں کے تھالی چٹ مخبروں نے انکا گیرا کیا۔ سنگت کرم خان کے ہاتھ میں پکڑ کر اسے میڈیکل سے باہر لایا گیا۔اب تک یہ انکے ساتھ چپ چاپ چلا جا رہا تھا میڈیکل سے نکلتے ہی اس نے ان دو ایلکاروں پے وار کیا ہاتھا پاہی میں ان سے نکل کر بھاگنے لگا کے پیچھے گلی سے اس پر فاہر کھول دیا اور پیر پے گولی لگنے کی وجہ سے گر پڑٓ۔ سنگت کرم خان دشمن کے ہاتھوں عزیتیں سہ سہ کر مادر وطن کے آغوش میں آسودہ خاک ہوا اب بھی کبھی کہیں اس سرد رات میں اس ڈہابے کے تڑے پے وہاں باغ میں ٹھلتی کبھی شہر کے کسی گلی محلے میں اس سرمچارکے بندوق کی آواز میں سنائی دیتی ہیں۔ جو کرم خان کے ادھورے مشن کو انجام تک لیجانے کی خاطر اپنا حصہ نبا رہا ہیں۔ جب تک یہ سرد رات اور اور یہ سانسے ہیں یوں ہی سنگت کرم خان کی یادیں اور سنگت خود اس جہاں میں زندہ ہیں۔ مجھ پے بہت گران گزرتی ہیں یہ لمحے جب کسی دوست کے یادوں پے سفر کروں اس لیے بھی ان کی خاطر قلم نہیں اٹھا تا کہ کتنا انصاف کر سکوں گا ان کے ساتھ جو جان سے بھی گزر کر دیکھائے اور شاید اسی لیے قلم اٹھا تے اٹھاتے اتنے وقت لگ گئے مگر حقیقت یہی ہیں کے ہر بار لکھ نا چاہا ہربار لکھتے لکھتے محسوس ہوا سامنے بیٹے یوئے ہو مگر حاضر کچھ دیکھاہی نہ دیا۔














