کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2292دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سول سوسائٹی وکلاء برادری نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے ااظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعان کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستا ن میں اعتماد کی فضاء بنانے کیلئے بلوچستان کو فوری طورپر سرکاری عسکری قوتوں سے پاک کیاجائے تاکہ تمام سیاسی قوتوں سے مذاکرات کا آغاز کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ کمیشن تنبیہ کرتا ہے کہ اگر بلوچستان کے لوگوں کی منشیات اور اطمینان کے مطابق اضلاع کے اقدامات نہ کئے گئے تو ملک کو اس کی بھاری قیمت چکا نا پڑے گی انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے حالا ت کو ایک مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پرپہنچا ہے کہ وفاق کی سب سے بڑی اکائی ایک ایسا آتش فشا ن بن چکا ہے جوکہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور اسکے نتائج بہت برے ہوں گے بلوچستان کی صورتحال سنگین ہے اور روز بروز خراب تر ہوتی جارہی ہے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورز یوں کے واقعات عام ہیں اور رونگٹے کھڑے کردینے والے ہیں ان کے خلاف روزیوں کے روک تھام نہیں کر رہی ہے آفسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا دباؤ کے نتیجے میں یا اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے حقائق کی تفشیش کرنے اور انہیں فوری طرح سے رپورٹ کرنے میں ناکام ہوچکا ہے انسانی حقوق کی خلاف روزیوں میں سب سے دل دہلادینے والے واقعات لوگوں کو جبری غائب کردینے سے متعلق ہیں جو 2009کے دوران ایک بار پھر بڑھتے جارہے ہیں وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں بلوچ سیاسی رہنماوں کا رکنوں کے اغواء اور ان کے تشددزدہ لاشوں کی برآمدگی پر انسانی حقوق کی بین القوامی تنظیم انے سخت تشویش کا ا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سالوں سے ہزاروں بلوچ رہنماون و کارکنوں کو اغواء اور قتل کیا گیا ہے کارکنوں اور طلباء کو زبردستی اغواء اور قانونی تقاضے پورے کئے بغیر گرفتارکیا گیا ہے اور ٹارگٹ کلنگ بنا کر غیر قانونی طورپر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا یہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور آپریشن کے بعد شروع ہوئی ۔
***


