دمشق (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق دمشق کے اعلان کے بعد کہ اسرائیلی طیاروں نے آج بروز ہفتہ صبح سویرے شام کے دارالحکومت کے ہوائی اڈے اور اس کے جنوب میں بعض دیگر مقامات پر بمباری کی جس میں 5 فوجی ہلاک ہوگئے، نئی معلومات سامنے آئیں۔
شام نے ۔دمشق ائیرپورٹ پر ہفتہ کی صبح اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے 5 فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی تھی۔ اب اس حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے ’’لشکر لبنان کی دمشق شاخ‘‘ کے سپورٹ آفس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ دفتر بظاہر حزب اللہ سمیت ایرانی ملیشیاؤں کو مدد فراہم کر رہا تھا۔
شامی آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اس حملے میں غیر شامی قومتیوں کے متعدد ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
ہوائی اڈوں پر اسرائیلی حملوں کی وجہ
گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل نے شام کے ایئرپورٹس پر حملوں کو تیز کردیا ہے۔ ان حملوں میں اضافہ کی وجہ سے متعلق سفارتی اور انٹیلی جنس ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل کے یہ حملے تہران کی جانب سے اپنے اتحادی ملیشیاؤں کی مدد کیلئے ہتھیاروں کی فضائی سپلائی لائنوں کے استعمال میں اضافہ ہے۔ اسرائیل انہیں سپلائی لائنوں کو توڑنے کیلئے ایئرپورٹس پر حملے کر رہا ہے۔
اسی حوالے سے باخبر ایک مغربی انٹیلی جنس ذریعہ نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں کے مقامات میں تبدیلی کی وجہ ایران کی جانب سے ہتھیاروں اور دیگر سامان کی منتقلی کیلئے زمینی نقل و حمل کی جگہ دمشق اور حلب کے ایئرپورٹس کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس نے بھی معلومات حاصل کی ہے کہ عراق اور شام میں زمینی نقل و حمل کی کارروائیوں میں خلل پڑنے کے بعد ہتھیاروں اور چھوٹے فوجی سازو سامان کو تہران سے منتقل کرنھے کیلئے کمرشل پروازوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔
خیال رہے شام میں جنگ کے آغاز سے اسرائیل نے شام پر سینکڑوں فضائی حملے کئے ہیں، جن میں سے اکثریت کو اسرائیل نے تسلیم بھی نہیں کیا۔ ان حملوں میں حزب اللہ سمیت ایرانی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں اور ہتیھار سمگلنگ اور ذخیرہ کرنے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


