جوبا (ہمگام نیوز)جنوبی سوڈان میں صدر اور نائب صدر کی حامی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں کا آغاز ہو گیا ہے۔دارالحکومت جوبا سے ایک صحافی نے کہا کہ شہر بھر سے گولیاں چلنے اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس تازہ لڑائی میں بھاری اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق جمعے سے اب تک ان جھڑپوں میں دو سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب اقوام متحدہ کی جانب سے چند گھنٹے قبل ہی خبردار کیا گیا تھا کہ لڑائی بند کی جائے اور تشدد کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جنوبی سوڈان میں جاری جنگ کی سختی سے مذمت کی گئی تھی۔اتوار کو کونسل کے مشترکہ اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔کونسل نے جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے کمپلیکسز پر حملوں پر حیرت کا اظہار کیا اس کے علاوہ ملک کی سیاسی جماعتوں سے کہا گیا کہ وہ فوسرز کو کنٹرول کرے۔یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ امن فوج کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ سینکڑوں افراد نے ان کے احاطے میں پناہ چاہی ہے جبکہ امن بحال کرنے والے ایک چینی اہلکار کی موت ہو گئی ہے جبکہ چین اور روانڈا کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ پانچ سال قبل آزاد ہونے والے جنوبی سوڈان میں صدر اور نائب صدر کی حامی افواج میں ہونے والی اس تازہ لڑائی میں شدت پچھلے کچھ دنوں سے جاری جھڑپوں کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔
دنیا کی اس سب سے کم عمر ریاست نے سنیچر کو اپنا پانچواں یومِ آزادی منایا تھا۔
ان حالیہ جھڑپوں سے ایک بار پھر اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ سنہ 2015 کا امن معاہدہ ناکام ہوتا دیکھائی دے رہا ہے جس کے باعث ملک میں عدم استحکام میں اضافے کا خطرہ ہے۔


