لاس اینجلس(ہمگام نیوز) امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں قائم معذور افراد کے سینٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ نے انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آوروں کے حملہ کرنے کے طریقے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی مشن پر ہوں۔
واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے سینٹر اور اطراف کا محاصرہ کرلیا اور سینٹر میں موجود افراد کو بازیاب کرانے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔
کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد سان برنارڈینو کے پولیس چیف جاروڈ بارگوان نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ آپریشن میں خاتون سمیت 2 حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا جبکہ سینٹر کے قریب سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا جس کے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا اس کا اس حملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
پولیس آپریشن کے دوران معذوروں کے سینٹر سے بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ امریکا میں تین سال قبل ریاست کنیکٹی کٹ کے ایک اسکول میں پیش آنے والے واقعے کے بعد فائرنگ کا سب سے بڑا واقعہ ہے، جس میں طالبعلموں سمیت 26 افراد ہلاک زخمی ہوئے تھے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ہلاک کیے جانے والے حملہ آوروں کی شناخت 28 سالہ سید رضوان فاروق اور 27 سالہ تاشفین ملک کے ناموں سے ہوئی۔
سان برنارڈینو پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سید رضوان فاروق امریکی شہری تھا، جو اِن لینڈ ریجنل سینٹر میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے آیا اور پھر اچانک فائرنگ شروع کردی۔
فائر چیف ٹام ہینیمن کا کہنا تھا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی.


