سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںامریکہ ویورپ ایران کو گزشتہ چالیس سال سے اپنےلیئےخطرہ محسوس کرتےہے،؛ہمگام ،؛...

امریکہ ویورپ ایران کو گزشتہ چالیس سال سے اپنےلیئےخطرہ محسوس کرتےہے،؛ہمگام ،؛ ڈیسک رپورٹ

ہمگام رپورٹ
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھال لیا ہے اسی وقت سے دنیا کے حالات کو بدلنے کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں کوئی نہ کوئی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے تو دوسری طرف چین و پاکستان کے تعلقات میں گہرائی بڑھتی جارہی ہے اور ساتھ ساتھ ایران کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ سعودی اسرائیل امریکہ کی اندرونی طور کچھ منصوبوں کا گمان ہوتا نظر آرہا ہے پچھلے مہینے شام میں اسرائیل کے جنگی جہاز کو گرایا گیا جس پر اسرائیل و امریکہ کا سخت ردعمل سامنے آیا حالیہ چین کی پاکستان کو ایڈوانس میزائل کی فروخت اس طرف اشارہ دے رہی ہیں کہ عنقریب سی پیک منصوبہ اور اس خطے میں تبدیلی خارج ازامکان نہیں. گزشتہ دنوں ساوتھ ایشن سائٹ پر ڈاکٹر لائرنس سیلن کا مضمون اس بات کی طرف اشارہ دے رہا ہے کہ ایران پاکستان اپنے بیچ باڈر سیکورٹی پر معاہدہ کر چکے ہیں اور پاکستان جیش العدل کو ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے جبکہ ایران بلوچ مسلح تنظیم بی ایل ایف کو، ساتھ ساتھ وہ امریکہ اور یورپی یونین کو اس بات پر تلقین کر رہا ہے کہ چین ایران اور پاکستان اپنی دفاع اسٹریٹجی کے تحت چلا رہے ہیں جبکہ دیگر کی طرف کوئی خاص عمل دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے اور اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ٹرمپ کی انتظامیہ میں تبدیلی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے اور ٹرمپ کی ٹیم میں ایک اور ایران مخالف جان بولٹن کو اپنا نیا سیکورٹی ایڈوائزر منتخب کیا ہے اب اس منظر نامے کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکہ و اس کے اتحادی عنقریب ایران کے حوالے سے سخت اقدام اٹھانے کی طرف پیش قدمی کرینگے کیونکہ ایران کو گزشتہ چالیس سالوں امریکہ و یورپ اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے ہے اور سنی مسلم ممالک و اسرائیل بھی ایران کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے میں امریکہ کی پشت پناہی کرنے پر نہیں ہچکچائیں گے . اور اگر کوئی حتمی فیصلہ جلد یا بدیر ہونے کا گمان ہے جبکہ بلوچ جو کہ اپنے مفادات کے تحت کھبی کسی طاقت کے پہلو میں پناہ لینے کی جہد میں ہے تو کبھی کسی اور کی، حالیہ لہر خصوصا بلوچ تحریک کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگی اگر ایرانی رجیم پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی کمزور طاقت کے ساتھ اپنی وجود کو برقرار رکھیں تو اس خطے میں بلوچ کے لیے دروازے کھلیں گے جبکہ دیکھا جائے تو بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں ڈاکٹر نظر و براہمدغ ایران کے حوالے سے اپنا موقف نرم رکھے ہوئے ہیں جبکہ حیر بیار مری نے اس حوالے سے اپنے سخت موقف کے ساتھ سب کے لیے خطرہ اور چیلنج بنا ہوا ہے جبکہ حالات حیر بیار مری کے موقف کو سچ ثابت کر رہے ہیں کہ اس خطے میں نہ ایران و نہ پاکستان والی موقف پر شروع سے لے کر اب تک اس پر قائم ہیں ۔ اب یہ وقت پر منحصر ہے کہ ایران و پاکستان کے حوالے سے امریکہ و ان کے اتحادیوں کا آخری فیصلہ کیا ہوگا لیکن وقتی فائدے کے لیئے بعض آزادی پسندوں نے قومی تحریک کے لیے مشکلات پیدا کرکے بلوچ قومی آزادی کی موقف کو کمزور کر چکے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان حالات میں کیا حکمت عملی اپنائیں گے جو بلوچ کو اسکی سابقہ ریاست کی بحالی دلا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز