تہران (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اس کا امریکا کے ساتھ توانائی سمیت صنعتی شعبے پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر سمجھوتے پر اتفاق ہوگیا ہے۔البتہ اس نے خبردار کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے پاس 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے سوموار کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں امریکا کے ساتھ اس سمجھوتے پر اتفاق رائے ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے کہ امریکا ایران کے خلاف عائد کردہ کون سی پابندیاں ختم کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری سمجھوتے کی بحالی اور امریکی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق بعض امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
خطیب زادہ نے کہا کہ بعض ٹیکنیکل، سیاسی، قانونی اور عملی امورابھی تک حل طلب ہیں۔مذاکرات کاروں کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں اور اس وقت ویانا مذاکرات میں کوئی تعطل نہیں ہے۔
تاہم ویانا میں جاری مذاکرات میں دونوں ملکوں کے درمیان فوری طور پر کسی سمجھوتے کا امکان نہیں۔ویانامیں امریکا کے ساتھ بات چیت میں شریک ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی نے بھی گذشتہ ہفتے کے روز اس امر کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ایران میں آیندہ جمعہ کو صدارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل کسی ڈیل کا امکان نہیں۔


