چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںامریکی سینیٹرزنے افغانستان و شام سے امریکی فورسز کی مجوزہ انخلاء کی...

امریکی سینیٹرزنے افغانستان و شام سے امریکی فورسز کی مجوزہ انخلاء کی مخالفت میں 1ایک قرارداد منظور کی

واشنگٹن(ہمگام نیوز ڈیسک) مشرق وسطی میں شام اور وسطی ایشیائی ملک افغانستان کے بارے میں امریکی سینیٹ نے امریکی فورسز کی مجوزہ واپسی کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کی ہیں۔ جس میں امریکی سینیٹرز کے مطابق شام اور افغانستان سے امریکی فورسز کے تیزی سے انخلا کی وجہ سے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو یہ خطے عدم استحکام کا شکار ہونگے اور وہاں خلا پیدا ہو سکتا ہے جسے روس یا ایران پر کر سکتے ہیں۔یہ قرارداد ایسے وقت منظور کی گئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان اور شام سے امریکی فورسز کو واپس بلانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے اکثریتی رہنما مچ مکونیل کی طرف سے سوموار کو پیش کی جانے والی قرار داد 26 کے مقابلے میں 70 ووٹوں سے منظور کی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ داعش اور القاعدہ کے عسکریت پسند اب بھی امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک ٹویٹ میں شام سے امریکی فوج کے انخلا کے منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش کو شکست دی جا چکی ہے۔

لیکن ٹرمپ حکومت کے اپنی انٹیلی جنس ادارے یہ کہہ چکے ہیں کہ داعش بدستور خطرہ ہے۔

صدر ٹرمپ پینٹاگون کو افغانستان میں تعینات 14 ہزار فوجیوں کی نصف تعداد کی واپسی کا منصوبہ بنانے کا بھی حکم دے چکے ہیں۔ جس پر کئی قانون سازوں کو تحفظات ہیں۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کی حمایت سے یہ قرارداد ایسے وقت منظور کی گئی ہے جب کانگریس کے ارکان میں صدر ٹرمپ کی شام اور افغانستان سے متعلق پالیسی پر تحفظات بڑھ رہے ہیں۔

مچ مکونیل نے گزشتہ ہفتے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ “داعش اور القاعدہ کو شکست دینا ابھی باقی ہے۔”

سینیٹ کی جانب سے پیر کو منظور کی جانے والی قرارداد پر امریکی حکومت عمل کرنے کی پابند نہیں۔ لیکن اس قرارداد کے نتیجے میں شام اور افغانستان سے متعلق طویل المدت حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان مشاورت کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

ایڈاہو سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ جم رش نے کہا ہے کہ یہ قرارداد ٹرمپ کے لیے تنبیہ نہیں بلکہ ان کے بقول “ہم وہاں (شام اور افغانستان) میں ایسی چیزیں کر سکتے ہیں جو ہمیں وہاں محفوظ رکھیں گی۔ـ”
کینٹکی سے ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال نے قرارداد پر ووٹنگ سے پہلے کہا کہ “بس بہت ہو گیا۔ اب جنگوں پر خرچ ہونے والی رقم کو ملک کے اندر خرچ کرنے کی ضروت ہے۔”مچ مکونیل کی طرف سے پیش کی گئی یہ قرارداد ترمیم کی صورت میں خارجہ پالیسی سے متعلق ایک بل میں شامل کر دی گئی ہے جو سینیٹ میں زیرِ التوا ہے اور جس پر رواں ہفتے ووٹنگ ہو سکتی ہے۔اگرچہ سینیٹ کے ارکان کی اکثریت نے اس قرارداد کی حمایت کی ہے لیکن چند ری پبلکن ارکان نے اس کی مخالفت بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز