بالاکوٹ(ہمگام نیوزڈیسک) انڈیا کی جانب سے گذشتہ شب پاکستانی فضائی حدود کو کراس کرنے کے بعد سے لائن آف کنٹرول (LOC) پر حالات سخت کشیدہ ہیں اور گزشتہ شام سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ کے مطابق کوٹلی سیکٹر میں انڈین آرمی کی شدید گولہ باری سے تین خواتین اور ایک بچہ ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق ایل او سی پر راولاکوٹ، بھمبر، چکوٹھی اور کوٹلی میں انڈین فوج نے شام سے آبادیوں پر گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں نکیال سیکٹر میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی تین خواتین اور کھوئی رٹہ سیکٹر میں ایک بچے کی ہلاکت ہوئی جبکہ اب تک 11 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں. مزکورہ علاقوں میں اس وقت غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔انڈین فوج کی گولی بھاری سے پاکستان کے کئی فوج ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔پاکستانی فوج کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی پاکستانی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہیں۔ اس جنگ زدہ علاقے میں تمام سرکاری عملے کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں جبکہ ہسپتالوں اور امدادی عملہ ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔کوٹلی کے مختلف مقامات پر انڈین فوج کی جانب سے شدید گولہ باری کے علاوہ کنٹرول لائن کے دیگر علاقوں میں بھی انڈین فوج نے فائرنگ کی ہے۔جبکہ انڈیا کی جانب سے بھی پاکستان پر ایل او سی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ شام پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر 12 سے 15 مقامات پر بھاری گولہ باری کی جس کے جواب میں انڈین فوج نے کاروائی کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو جانی ومالی نقصان کے علاوہ پانچ چوکیوں کو بھی نقصان پہنچا۔عالمی سطح پر اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کاروائی کرنے کے حق کو بالکل تسلیم اور حمایت کرتے ہیں اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ شدت پسند عناصر کو ختم کریں۔آسٹریلیا کے وزارت خارجہ نے بھی انڈین موقف کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کو ختم کردے۔ جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے آنے تک دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری ہیں۔


