سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںایرانی انٹیلی جینس کے ہاتھوں ایک بلوچ فرزند جبری طور پر اغوا

ایرانی انٹیلی جینس کے ہاتھوں ایک بلوچ فرزند جبری طور پر اغوا

زاھدان ( ہمگــام نیوز) با خبر ذرائع کے مطابق گزشتہ روز اطلاع ملی ہے محمد عثمان دامنی ولد مولانا محمد ابراھیم دامنی قابض ایرانی خفیہ اداروں نے ایک میڈیکل ٹرپ کے دروان زاھدان جاتے ہوئے اغوا کر لیا ہے ان کے فیملی زرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں ہمارے گھر میں ایرانی خفیہ ایجنسی نے چھاپہ مارا اور خواتین و بچوں کو زدوکوب کر کے عثمان کے بارے میں بار،بار پوچھتے رہے ،تب انہیں عثمان نہیں ملا تو یہاں سے چلے گئے ـ
یاد رہے کہ عثمان دامنی کا ایک آنکھ بچپن ہی سے کسی مرض کی وجہ سے بینائی ختم ہوگئی تھی، جبکہ دوسرے آنکھ میں آشوب چشم کی وجہ سے انھیں اپنے آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ لاحق ہوگیا تھا اس لیئے محمد عثمان دامنی اپنے خاندان کو اپنے سفر بارے اطلاع دے کر بلوچستان کے مرکزی شہر زاھدان میں علاج معالجے کے لیئے رخت سفر باندھا تھا دریں اثنا زاھدان کے راستے سے محمد عثمان دامنی غائب کیئے گئے۔ مقامی زرائع کا کہنا ہے کہ محمد عثمان دامنی کو دوران سفر ایرانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے زبردستی سے اٹھا کر جبری طور اغوا کر دیا ـ یاد رہے کہ محمد عثمان دامنی ایرانشھر کا رہائشی تھا اور وہ ایک الیکٹریشن تھا ـ آخری بار اس نے اپنی ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ میں بلوچی میں ایک پوسٹ دیا تھا جس کا عنوان تھا ” ادا ہر روچ مردم مِرگ ءَ انت بلے کس ءَ سما نیست ” جس کا مطلب ہے ” یہاں روزانہ لوگ مر رہے ہیں لیکن کسی کو اس کا احساس تک نہیں ”
مغربی مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کا کہنا ہے محمد عثمان دامنی ایرانی حکومت پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والے بلوچستان کے ممتاز اسکالر مولانا محمد ابراھیم کا بیٹا تھا جو کہ مولانا دامنی کسی مشکوک کار ایکسیڈنٹ میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی ـ
یاد رہے کہ گزشتہ دن ایک اور بلوچ امید بلیدی گہرامزہی کو زاھدان شھر میں قابض ایرانی پولیس فورسز نے گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے تاہم پولیس فورسز نے گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی ـ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز