نیویارک (ہمگام نیوز)اقوام متحدہ برائے انسانی حقوق کے ادارے نے اپنے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سرکار بلوچستان، کردستان اور خوزستان میں اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے، اقوام متحدہ کے نمائندے بائیکل بیچلے نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر ایران میں جبری گمشدگیاں،گرفتاریاں اور پھانسیاں ہوتی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں کوئی سیاسی،سماجی آزادی نہیں ہے، انہوں نے مزید تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے مغربی بلوچستان میں احتجاج جاری ہے اور کئی افراد مارے جا چکے ہیں لیکن ایرانی سرکار ابھی تک جان بحق ہونے والے افراد کی مکمل رپورٹ شائع نہیں کر رہی۔
یاد رہے کہ مغربی بلوچستان میں 22 فروری 2020 کو شدت پسند آرمی سپاہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے بلا اشتعال فائرنگ کرکے تیل کے کام میں ملوث تاجروں کو نشانہ بنایا ۔جس میں گیارہ افراد جان بحق اور متعدد افراد شدید زخمی ہوگئے ۔اس سانحہ کے بعد مغربی بلوچستان میں نہ تھمنے والی احتجاج کی لہر اٹھ پڑی۔جو کئی دن گزرنے بعد بھی نہ روک سکے ہے۔
اب تک غیر رسمی اطلاعات کے مطابق 35 سے زید افراد جان بحق اور متعدد زخمی ہوچکے ہے۔اس سانحہ پر اقوام متحدہ سے پہلے امریکہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مذمتی بیانات کے ساتھ ساتھ تشویش کا اظہار بھی کرچکے ہیں ۔


