چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںایران میں سال 2022 میں 179 بلوچوں کو پھانسی دی گئی،...

ایران میں سال 2022 میں 179 بلوچوں کو پھانسی دی گئی، عرب میڈیا

دزآپ (ھمگام نیوز)عرب میڈیا نے انسانی حقوق کی ایک رپورٹ کے حوالے انکشاف کیا گیا ہے کہ 2022 میں ایران میں پھانسی پانے والوں میں سے ایک تہائی کا تعلق ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے بلوچ عوام سے ہے۔

 بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم ’’بلوچ ایکٹوسٹ کمپین‘‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں سال 2022 میں 179 بلوچوں کو پھانسی دی گئی، اور اس اعداد و شمار میں گزشتہ سال کے دوران ملک میں پھانسی پانے والوں کا ایک تہائی تعلق بلوچ قوم سے ہے۔

بلوچستان اور ’’ایرانی بلوچ علاقوں‘‘ میں انسانی حقوق کی صورتحال کے عنوان سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سزائے موت پانے والوں میں سے 117 افراد کو “منشیات کے جرائم” کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی اور 48 کو “جان بوجھ کر قتل” کے جرم میں پھانسی دی گئی۔

“بلوچ ایکٹوسٹ کمپین” کے مطابق بلوچستان میں پھانسیوں کے اصل تعداد اعلان کردہ اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن ان لوگوں کی تعداد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے جن کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یا ان کے خاندان والوں کو علم نہیں یا دھمکیاں دی گئی ہیں کہ حکومت اور انکے اداروں کے بارے کچھ نہیں بولاجائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سے قبل ایران میں “نسلی اقلیتوں” کو “غیر متناسب” سزائے موت دینے پر خبردار کیا تھا۔

ابھی تک ایران میں گزشتہ سال سزائے موت پانے والے افراد کی کل تعداد شائع نہیں کی گئی ہے تاہم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے 13 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ 2022 کے 11 مہینوں میں یہ تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے، حالانکہ 2021 کے اسی عرصے میں یہ ایران میں سزائے موت پانے والے شہریوں کی تعداد 33 تھی۔

ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران ملک گیر احتجاج کے آغاز کے بعد گرفتار ہونے والے کم از کم 109 مظاہرین کو سزائے موت یا سزائے موت کا خطرہ لاحق ہے، جب کہ چار مظاہرین کے خلاف سزائے موت کی کارروائی کی جا چکی ہے۔

تاہم ویب سائٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق جو چیز ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں قیدیوں کی صورتحال کو مزید خطرناک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس صوبے میں خاص طور پر حالیہ مہینوں میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ ان کی حیثیت کو ٹریک کرنا مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز