کوئٹہ (ہمگام نیوز) صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں صوبے کے عوام کے لئے ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں 19 اگست تک محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون بارشوں کی پیش گوئی کے حوالے سے الرٹ کی روشنی میں قلعہ سیف اللہ ، لورالائی ، بارکھان ، کوہلو ، زیارت ، هرنائی ، موسی خیل شیرانی ، سبی ، بولان ، کوئٹہ ، مستونگ ، سوراب ، خاران ، واشک ، چاغی ، خضدار ، لسبیلہ ، آواران ، تربت اور ساحلی علاقوں کے لوگوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھیں کیونکہ آئندہ چند روز کی طوفانی بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہےـ
گزشتہ روز کی طوفانی بارشوں کی وجہ سے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے دس افراد میں سے چھ جان بحق ہو گئے ہیں اعداد و شمار کے مطابق اب تک 188 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 90 متاثرہ خاندانوں میں 10 لاکھ روپے کے حساب سے امدادی رقوم تقسیم کر دی گئی ہیں اسی طرح کے 80 کیسزاب تک زیر التوا ہیں جنہیں جلد ہی امدادی رقوم فراہم کر دی جائینگیـ
پی ڈی ایم اے نے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران قلعہ عبداللہ میں 275 خیمے 300 فوڈ پیکیجز 500 کمبل ، 200 کچن سیٹس ، 200 رضائیاں اتنی ہی تعداد میں حفظان صحت کے کٹس 4500 کلوگرام آٹا 20 فرسٹ ایڈ کٹس اور 180 لیٹر پانی کی بوتل فراہم کی ہیںـ
جب کے سیلابی علاقوں سے پانی کا انخلا بھی ممکن بنایا گیا ہے مزید برآں این سی کی جانب سے ستر فوڈ پیکج کے علاوہ مفت طبی کیمپ میں 45 مریضوں کا علاج بھی کیا گیا اس کے علاوہ گزشتہ روز کی طوفانی بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹتے ہوئے صوبائی ڈیزاسٹر ٹیٹمنٹ اتھارٹی نے جھل مگسی میں سات ہزار پانچ سولیٹر پانی کی بوتلیں تقسیم کیں جبکہ چمن میں ریلیف ٹیموں نے دو پمپوں کی مدد سے سیلابی علاقوں سے پانی کا انخلا ممکن بنایا. اسی طرح سے سیلاب زدہ علاقوں مارواڑ ، سیداں ، باون پیر علیزی اور کلی مسیزئی جو کہ ماچیکا ڈیم ٹوٹ جانے سے بری طرح متاثر ہوئے تھے وہاں بھی ریلیف آپریشن جاری ہیں اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق این ڈی ایم اے کی گزشتہ روز کی ترسیل بارشوں و سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئی لیکن پھر بھی اب تک سات ہزار نو سو چوالیں اشیاء کوئٹہ اور اوتھل پہنچا دی گئی ہیں جب کہ کئی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے بھی امدادی سرگرمیاں جاری و ساری ہیں. آئی آر پی نے نوشکی کلی قادرآباد میں 18 خیمے اور 18 کیچن سیٹ تقسیم کیے جبکہ اسی علاقے میں انٹر نیشنل چیریٹی آرگنائزیشن قطر نے تین سو فوڈ پیکج تقسیم کیے ۔ مہر نے پاک نیوی کی معاونت سے 300 فوڈ پیکج جھل مگسی میں تقسیم کیےـ


