سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںبراہمدغ بگٹی کا 27مارچ بارےبیان تاریخ کے برعکس اور افسوسناک ہے،؛استاد واحد...

براہمدغ بگٹی کا 27مارچ بارےبیان تاریخ کے برعکس اور افسوسناک ہے،؛استاد واحد قمبر بلوچ

براہمدغ بگٹی کے حالیہ غیر ضروری اور بلاوجہ بیان کے ردعمل میں بلوچ آزادی پسند استاد واحد قمبربلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ براہمدغ بگٹی کا 27مارچ کے بارے میں بیان تاریخی حقائق کے برعکس اور افسوسناک ہے۔ تاریخی حقائق کے بارے میں ایسی غیر ذمہ دارانہ بیان سے بلوچ یکجہتی او ر ایکتا کو نقصان پہنچتاہے۔ ایسے بیان کا ہمیں جناب براہمدغ بگٹی سے قطعا توقع نہیں تھا۔براہمدغ بگٹی پراسرار مفادات کیلئے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ جس کا نقصان بلوچ تحریک کے ساتھ ساتھ موصوف کو خود بھی اٹھاناپڑے گا۔
انہوں نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نواب صاحب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ جبری الحاق نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر الحاق تھی۔ یہ پاکستان کے موقف کو تسلیم کرنے، بلوچ قومی موقف اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی مستند تاریخ موجود ہے اور تاریخی شواہد اور حقائق شکوک و شبہات سے بالاتر ہیں ۔کیونکہ تاریخ اپنی صداقت آپ ہوتی ہے۔ براہمدغ بگٹی کا یہ کہناکہ ’’قلات پر قبضہ جبکہ باقی ریاستیں رضاکارانہ طورپر پاکستان میں شامل ہوئی تھی ‘‘یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی اور حقائق سے چشم پوشی کے ساتھ ، ساتھ بلوچ قومی تحریک اور قومی موقف سے دورجانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے کیونکہ خاران اور لسبیلہ ریاست قلات کے صوبے اور مکران براہ راست ریاست قلات کی نگرانی کا علاقہ تھا۔ جہاں کا گورنر خان قلات کاتعینات کردہ تھا، والئی مکران اور جام لسبیلہ یا نواب خاران کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا کوئی دستوری استحقا ق حاصل نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز