لندن( ہمگام نیوز ) فری بلوچستان موومنٹ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریاں بلوچستان میں پاکستان کے قبضے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر کی فقدان کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان نے قبضے کے بعد ستر سالوں سے بلوچستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا ہے اور بلوچستان کے لوٹے ہوئے وسائل سے پنجاب میں یونیورسٹیاں، صحت کے منصوبے، بڑی بڑی صنعتی یونٹوں کے قیام سمیت دیگر ترقیاتی کام کیے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر بنائے. بلوچستان کے وسائل اور بلوچ قوم کی سرزمین پر قبضے اور اسے بفرزون کی حیثیت سے پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے پاکستان کو فنڈز اور ہتھیار ملتے رہے ہیں اور پاکستانی فوج ہمیشہ یہ ہتھیار اور فنڈز بلوچ قوم کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے ـ
ایف بی ایم نے مزید کہا کہ ہر آزاد ملک اپنی ملک و قوم کی بیرونی حملوں سے دفاع کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر بناتا ہے اور جامع پالیسیاں ترتیب دیتا ہے اور قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلوں میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم تر کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے بلوچستان وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مقبوضہ ہونے کی وجہ سے قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت سے محروم ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلے ہمیشہ بے دریغ جانی و مالی نقصانات کے سبب بنتے ہیں اور پاکستانی قابض فوج انہی آفت زدہ علاقوں میں فوٹو سیشن کرکے بیرونی ممالک سے بلوچستان میں سیلاب کے متاثرین کے نام پر اربوں ڈالرز حاصل کررہا ہے اور انہی بیرونی امداد کو بلوچستان میں غلامی کی زنجیروں کو مزید استحکام دینے اور بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف مختلف طریقوں سے استعمال کررہا ہے ـ
فری بلوچستان موومنٹ نے کہا کہ آواران میں 2013 کے زلزلے سے پاکستان نے بیرونی ممالک سے بڑے پیمانے پر فنڈز بٹورے اور دوسری طرف بلوچستان میں اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں سرگرم بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر غائب کرتے رہے اور پھر ان کی لاشیں خضدار میں اجتماعی قبروں کی شکل میں دریافت ہوئیں جن میں کئی نوجوانوں کی شناخت ہوئی تھی جنہیں پاکستانی فوج نے لوگوں کے سامنے اٹھایا تھا اِس وقت بھی پاکستانی قابض فوج بہت ہی منظم طریقے سے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرین کی مدد کے بجائے بیرونی ممالک سے فنذز وصول کرکے انہیں بلوچ قوم کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے ـ
گزشتہ روز پاکستانی فوج نے مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد میں بلوچ ممتاز شاعر و ادیب پروفیسر صالح محمد کے گھر کا گھیراؤ کرکے گھر پر فائرنگ کی اور پروفیسر صالح محمد سمیت اس کے خاندان کے آٹھ افراد کو اٹھا کرلے گئے اور کئی لوگوں کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا ـ
فری بلوچستان موومنٹ نے کہا کہ اگر قابض کی بس چلے تووہ پورے بلوچستان کو سیلاب میں ڈبو دے اور بلوچستان کے آبادی کو ختم کرکے بلوچ کا نام و نشان تک مٹا دے یہی وہ منصوبہ ہے کہ جس پر پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف حربوں کو آزماتے ہوئے عمل پیرا ہے بلوچ قوم کو سمجھنا چائیے کہ قابض بلوچستان کو ترقی دینے کے لئے بلوچ سرزمین پر قابض نہیں ہوا بلکہ بلوچ وسائل کے لوٹنے اور بلوچ قومی شناخت مٹانے کے لیے بلوچستان پر قبضہ کرچکا ہے اور وہ اپنی اسی مقصد پر کاربند ہے بلوچ قوم کی دکھوں کا مداوا صرف بلوچ سرزمین کی آزادی پر منحصر ہے.


