چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںبلوچستان ڈیتھ اسکواڈز کے تاریخی پس منظر میں تحریر: بیرگیر...

بلوچستان ڈیتھ اسکواڈز کے تاریخی پس منظر میں تحریر: بیرگیر بلوچ

بلوچستان

ڈیتھ اسکواڈز کے تاریخی پس منظر میں

تحریر: بیرگیر بلوچ

بلوچستان میں ظلم و بربریت اس وقت شروع ہوئی جب انگریز سرکار 1839 میں خان بلوچ میر محراب خان کو شہید کرکے بلوچستان پر قابض ہوگئے۔ بلوچ سرمچاروں نے اس وقت انگریزوں پر تابڑتوڑ حملے کئے، گوریلا جنگجووں کو کچلنے کے لیے امرتسر کے جلیاں والا باغ میں 13 اپریل 1919 کے دن ہزاروں حریت پسندوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے بدنام زمانہ جنرل آر،ایچ،ای ڈائر اور اس کے ڈیتھ اسکواڈ نے عام بلوچ اور سرمچاروں کو بے دردی سے شہید کردیا۔ سادہ لوح بلوچ عوام کو ڈیتھ اسکواڈز کی طرف راغب کرایا گیا، لیکن انقلابی سرمچار اور زور پکڑتے گئے، انگریز سرکار مزید مشکلات کا شکار ہوتی چلی گئی. اس بار انگریزوں نے ایک اور چال چلی. سرداروں کو ڈیتھ اسکواڈ میں شامل کرانے کیلئے 1915 میں انگریز سرکار کے پولیٹیکل ایجنٹ ریاست قلات لیفٹیننٹ کرنل ڈیو نے اپنی ریزیڈنسی میں سرداروں کو خودمختاری کے نام پر کُھلی چھوٹ دے دی، سردار ڈیتھ اسکواڈ کی ٹیم میں شامل ہوئے کچھ مراعات کی خاطر ان کی ظلم و بربریت کی وجہ سے بلوچ سرمچاروں اور عام بلوچوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

خان محمود خان وہ بدنصیب سردار اعلیٰ میں سے تھے جس کے نام کو اسکی موت کے بعد “کسک محمود” (مرگیا محمود خان) براہوئی زبان میں ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا لوگوں کے کان ناک اور زبان کاٹنے کے علاوہ باقی اعضاء بھی کاٹنا اس کیلئے عام سی بات تھی اس کی شہرت “گند کشا”محمود کے نام سے ہوئی وہ لوگوں کے خصیے نکال کر اپنے دروازے پر لٹکا دیتا تاکہ کوئی اور بلوچ انگریزوں کی مخالفت نہ کرے. اس نے اپنے والد خان خدائے داد خان کو اہل وعیال سمیت پشین میں 14 سال تک نظر بند رکھا. خان خداداد خان نے بستر مرگ پر یہ وصیت کی کہ اسے محمود خان کے حوالے نہ کیا جائے۔ خان محمود خان کی آنکھوں کی بینائی کھو جانے کے بعد وزیر اعظم خان بہادر شمس شاہ جو پشاور میں پیدا ہوئے، انگریزوں سے خاندانی مراسم کی وجہ سے بلوچستان کا وزیراعظم ہوا کرتا تھا، جس نے ظلم کی ایک ایسی دور کا آغاز کردیا جہاں خان محمود خان کے مظالم ماندھ پڑگئے، بلوچ قلم کار اور سیاسی رہنما میر عزیز کرد نے شمس شاہ کے سیاہ کرتوتوں پر ایک کتاب شمس گردی کے نام پر لکھی۔

نواب خاران میر آزاد خان نوشیروانی انگریزوں کے خاص ڈیتھ اسکواڈز میں شمار کیا جاتا ہے جس نے عام بلوچوں کو خون سے نہلایا، بہت سے بلوچ قبائل کو بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں ہجرت کرنے پر مجبور کردیا. جنہوں نے بلوچ انقلابیوں کے ساتھ جنگیں لڑیں تاکہ فرنگیوں کو خوش کرسکے، عظیم گوریلا نورا مینگل کو انگریزوں کے ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے کیلئے دھوکہ دہی سے انگریزوں کے ہاتھوں مروا دیا.

انگریزوں کے جانے کے بعد اُن کے کچھ جاسوسوں نے اپنے لیے ریاست پاکستان بنایا پاکستان کے جرنل ٹکا خان نے بلوچستان پر قبضہ کر کے ظلم کا بازار ایک بار پھر سے شروع کیا. قابض ریاست پاکستان کے ڈیتھ اسکواڈز کی جانوروں جیسے خصلت پر غور کریں تو ہمیں انہیں انسان کہنے سے گھن آتا ہے۔

موجودہ دور میں ڈیتھ اسکواڈ مختلف طبقات سے منسلک ہیں، ان میں مذہبی شدت پسندی کے نام سے بنائی گئی تنظیمیں ہیں جن کا مقصد بلوچ رہنماؤں کو ٹارگٹ کرنا ہے۔ بدنام زمانہ شفیق مینگل ان ڈیتھ اسکواڈز میں شامل ہے، جس کی کارستانی دنیا کے سامنے اس وقت آئی، جب توتک میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں. شفیق مینگل ایک نام نہاد مذہبی تنظیم کے نام پر بلوچ نسل کشی میں آج بھی برسرپیکار ہے۔

میر، نواب، سردار، نام نہاد سیاسی لیڈران کو پوری چھوٹ حاصل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں، جو یہ خاص طور پر ڈرگ اسمگلنگ, اغواہ برائے تاوان, مذہبی شدت پسندی, ٹارگٹ کلنگ، چوری ڈکیتی اور لینڈ مافیا جیسے جرائم میں باقاعدہ ملوث ہیں۔ ایسے حالات کے سنگین نتائج نے بلوچ قوم کو اس حد تک مجبور کر دیا کہ جب بھی کبھی کوئی قبائلی تنازعہ درپیش آتا ہے جس کو حکومتی ڈیتھ کی سرپرستی میں حل کروایا جاتا ہے تاکہ یک طرفہ مفادات کو حاصل کیا جاسکے. ڈیتھ اسکواڈز کے طاقت کا اندازہ ایک انسان یا ایک بلوچ کے طور پر نہیں لگایا جا سکتا، آج کے دور میں ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے عورتوں کا ریپ کرنا عام بات بن چکی ہے کسی کے بھی گھر میں گھس کر کسی بلوچ عورت کو زیادتی کا نشانہ بنا سکتے ہیں.

بلوچ سرمچار جب تک ڈیتھ اسکواڈز کو عبرت کا نشان نہیں بناتے اس وقت تک ڈیتھ اسکواڈز کی طاقت بڑھتی جائے گی۔ عام بلوچ کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ڈیتھ اسکواڈز کی سرپرستی سے گریز کریں. تاریخ آج خان محمود،سر شمس شاہ، میر آزاد خان نوشیروانی، اور شفیق مینگل کو غداروں کے طور پر دہراتا ہے اپنے ملک وقوم سے غداری کرنے والوں کو تاریخ ہمیشہ عبرت کا نشان بناتی ہے.

یہ بھی پڑھیں

فیچرز