چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںبلوچ سالویشن فرنٹ کے ایگزیکٹو کے سالانہ اجلاس، سعید یوسف چیئر منتخب۔

بلوچ سالویشن فرنٹ کے ایگزیکٹو کے سالانہ اجلاس، سعید یوسف چیئر منتخب۔

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ سالویشن فرنٹ کے ایگزیکٹو کونسل کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل اتحاد کے نمائندون نے شرکت کی اجلاس میں بلوچ سالویشن فرنٹ کی بلوچ قومی سیاست میں قومی سیاسی و سماجی کردارسیاسی امور قومی تحریک کے خدوخال نوآبادیاتی تسلط عالمی و علاقائی صورتحال سمیت مختلف پہلووں پر غورکیاگیااجلاس میں ایک سال کے لئے سابقہ آرگنائزنگ باڈی کو تحلیل کرکے نئی کابینہ تشکیل دی گئی جس کے مطابق سعید یوسف چیئرمیں سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ انفارمیشن سیکریٹری بانک زمور بلوچ وائس چیئر میں بانک حانی بلوچ ڈپٹی سیکریٹری جنرل گودی سارگ بلوچ ہوں گے اجلاس میں کہاگیا کہ بلوچ سالویشن فرنٹ ایک قومی نظریاتی و سیاسی فورم ہے جس میں تینوں آرگنائزیشن قومی آزادی کی سیاسی پروگرام پر یکجاہوۓ ہیں اجلاس میں واضع کیا گیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ خالصتا قومی آزادی کا سیاسی و جمہوری پروگرام رکھتاہے آزادی کے لئے واضح سیاسی ایجنڈا اور پر امن جدوجہد ہمارا نصب العین ہے اور ہم اسی نصب العین اور حکمت عملی کو لے کرجدوجہد کررہے ہمارے اہداف سیاسی ہے اور ہم قومی و بین الاقوامی سیاسی اصولوں کی پاسداری میں رہ کسی ایسی لائن کو ادارہ جاتی طور پر کراس کرانے کے حامی نہیں جو ایک برسر زمین سیاسی پارٹی کو پرتشدد طریقہ کار پر اکساۓ یہاں ایک واضح حد بندی کا ہونا انتہائی لازمی اور ناگزیر ہےسیاسی پارٹیاں اپنی سیاسی حدوں میں میں رہ کر اگر اپنی پروگرام طے کرےتو یہ ایک سازگار عمل ہوگا بلوچ قومی جدوجہد میں اس طرح کے مساٸل پر غور وفکر نہ کر نے کے وجہ سے ایک اندھا دھند طریقہ کار سے کٸ قسم کے مسائل پیدا ہوۓ جس سے آج بلوچ سیاسی ادارے عوام سے کٹ کر رہ گٸے ہیں سیاسی کیڑرز تعیلم و تربیت آ گاٸی کے عمل کے تسلسل سے کٸیں دور ہوگٕے اس کا براہ راست نقصان بلوچ عوامی وقومی تحریک کو ہوٸی جس سے سیاسی عمل کو دھچکا لگا ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کوشش کریں گے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ ایک آزاد و خودمختیار سیاسی فورم کے طورپر فورم کے اندر اپنی پالیسیاں وضح کریں اور فورم اپنی ہی ڈگر پر چل کر کسی خارجی دبائوکے زیر اثر نہ ہو بلکہ ہم نے ثابت بھی کردیا ہے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ ایک آزاد و خو د مختیار فورم ہے ہم نے نہ ماس پارٹی کا دعوی کیا ہے اور نہ ہی کسی ہیرو ازم کے دوڑ میں شامل ہوکراور نہ ایسے نعرہ کاپی کئے کہ جس سے ایک آزاد سیاسی فورم یا ادارہ کے اپنے داخلی پالیسیوں کو متاثر کیا جاسکے یا ادارہ کے دستور کے خلاف ورزی ہو اجلاس میں کہا گیا کہ بی ایس ایف کا آزادی کے جدوجہد میں معمولی مگرغیر متزلزل کردار ہے اور ہم کھبی بھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں رہے کہ بی ایس ایف کسی وسیع تر بلوچ قومی اتحاد کا نام ہے بلکہ بی ایس ایف ایک فورم اور ایک آواز ہے بی ایس ایف کی تشکیل ان نارواداریوں انتقامی کاروائیوں عدم برداشت اور گروئی و علاقائی سوچ کا نتیجہ ہے جو مختلف پارٹیوں میں بدرجہ اتم موجود تھے اور اب بھی ہے تحریک میں موجودہ کچھ پارٹیوں میں زکر کئے گئے رویہ اب بھی ہماری موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے کافی ہے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم نے آج سے پانچ سال قبل اسی تناظر میں بی ایس ایف کا بنیاد رکھ کر غلط نہیں کیا پانچ سالہ اس کھٹن سفر میں اگر ہم نے کوئی بڑی چوٹی سر نہیں کی لیکن پوری استحکامت کے ساتھ اپنے موقف پر ثابت قدم رہے یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس عمل کے دوران ہمارے تحفظات اور خدشات بہر طور پر درست ثابت ہوئے حالا نکہ ہمارے خلاف بے تحاشا پروپیگنڈہ کیا گیا ہماری کردار کشی کی گئی سوشل میڈیا میں ہمارے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کیا گیا لیکن ہم متزلزل نہ رہے بلکہ جرائت اور بے باکی کے ساتھ نہ صرف ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہے بلکہ ہم ایک مکمل جمہوری اصولوں کے ساتھ وقتا فوقتا اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتے رہے اور اپنے اپوزیشن کردار پر ڈٹے رہے جبکہ آزاد ی بنیادی طور پر ہمارا سلوگن رہا مغربی بلوچستان جو تاریخی طور پر بلوچ جغرافیہ کا حصہ ہے بلوچ گلزمین کے اس حصہ پر سمجھوتہ کرنے والے پالیسی کے خلاف ہم نے کھل کر بات کی بلوچ قومی تحریک کی محسوس و غیر محسوس طریقہ سے پراکسی پالیسی کی کھل کر مخالفت ایرانی جارحیت اور ایران کی جبر وقہر سے پردہ اٹھانے کی ہر سطح پر کوشش کی گئی ا انہوں نے کہاکہ بلوچ سالویشن فرنٹ ہر طرح کے اعصاب شکن حالات کا سختی سے مقابلہ کرتے ہوئے آزادی کے موقف پر سختی سے کار بند ہے قومی آزادی صرف ایک قومی مطالبہ نہیں یہ ایک انسانی نصب العین ہے معاشی طور پر کمزور قومیں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور طاقتور قومیں بھی نیشنلزم اور آزادی ہی کو اپنی بقاء اور ترقی کا منبع سمجھتے ہیں ۔اجلاس میں کہاگیا کہ آزادی کی جدوجہد اقوام متحدہ کے منشور کا بنیادی حصہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ آزادی کے لئے سیاسی و جمہوری و پرامن انداز میں جدوجہد کررہی ہے اور آزادی اور آزادی کے لئے جدوجہد کا حق بلوچ قوم کوعالمی انسانی قوانیں بھی دیتے ہیں ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچ اپنی تشخص آزادی اور شناخت کے حصول کے لئے جو جدوجہد کررہے ہیں وہ اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی اصولوں سے متضاد نہیں عالمی برادری کو بلوچ قوم کے حق میں ایک درست نیت اور مضبوط قدم اٹھانا ہوگی سیاسی سفارتی اور اخلاقی ہمدری بلوچ قوم کے لیے امید کی کرنیں ہوں گی اگر عالمی برادری سنجیدہ ہو بلوچ قوم اپنی صبر قربانی اور جدوجہد سے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنی شناخت اور تاریخ پر سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز