سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںبلوچ فرزندوں کو لاپتہ کرکے فرضی جھڑپوں میں شہید کیا جارہاہے۔بی ایس...

بلوچ فرزندوں کو لاپتہ کرکے فرضی جھڑپوں میں شہید کیا جارہاہے۔بی ایس ایف

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچ فرزندوں ابراہیم نیچاری اور شفقت رودینی کے شہادت کو جوڈیشنل کلنگ قراردیتے ہوئے کہاکہ ابراہیم نیچاری اور شفقت رودینی اور ایک بلوچ فرزند عبدالقادر کو فرضی جھڑپ میں شہید کیا گیا جو پہلے ہی سے پولیس کے کسٹڈی میں تھے اور عدالت میں کا ان کا ٹرائل چل رہا تھا ان کی پر اسرار شہادت کا زمہ دار صوبائی حکومت اور پولیس ہے28 اکتوبر کو ان کی پیشی کی تاریخ مقرر تھا لیکن انہیں عدالت میں پیش ہونے سے قبل ایک جعلی مقابلے میں شہید کیا گیاجو کہ ہر صورت میں قابل مذمت ہے تر جمان نے کہاکہ پہلے بلوچ فرزندوں کو حراست میں لے کر انہیں زہنی ازیت دیکر ان کی لاشیں پھینکی جاتی تھی اب انہیں لاپتہ کرکے فرضی جھڑپوں میں شہید کیا جارہاہے یہ ریاست کی جانب سے بلوچ نسل کشی منصوبوں کا نیافار مولہ ہے ترجمان نے کہاکہ پورے اہل علاقہ جانتا ہے کہ ابراہیم نیچاری کو رمضان کے مہینہ میں ان کے گھر سے چھاپے کے دوران حراست مین لاکر لاپتہ کردیا گیا تھا جبکہ یکم ستمبر کووزیر داخلہ بلوچستان سی سی پی او کوئٹہ اور آئی جی پولیس بلوچستان کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کی صورت میں ابراہیم نیچاری اور شفقت رودینی کو میڈیا کے سامنے منظر عام پر لاکر ان پر کئی مقدمات قائم کئے اور ان پر الزام لگا یا اور ان کا ایک ویڈیو بھی میڈیا کو دیا گیا جس میں شفقت رودینی اورابراہیم نیچاری سے زبردستی بیان ادا کروا یا گیا تھا تاکہ اس ویڈیو کے زریعہ رائے عامہ کو گمراہ کرکے تحریک کو بد نام کیا جاسکے جو بلوچ جہد آزادی کے خلاف ایک پروپیگنڈوار کی نئی چال تھی تاکہ اس قسم کے فرضی بیانات کے زریعہ سے انسانی حقوق کے تنظیموں کو بلوچ جہد آزادی کے خلاف بڑھکا یا جاسکے ترجمان نے کہاکہ اس طرح کے ہتکھنڈوں سے بلوچ قوم کی اصولی و سیاسی موقف آزادی کو آلودہ کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ جہد آزادی کے خلاف ریاست کی جانب سے ایک ناکام پروپیگنڈہ وار تھا ترجمان نے کہاکہ نہتے بلوچ فرزندوں کی اس طرح کی پر اسرار شہادتوں کا سلسلہ انسانی حقوق کی پاسداروں کے لئے ایک کھلی چیلنج سے کم نہیں پوری میڈیا اس کی گواہ ہے کہ متزکرہ بلوچ فرزندوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور ان پر عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا انہیں دو مرتبہ عدالت میں پیش بھی کیا گیا اور 28اکتوبر کو وہ عدالت میں پیش ہونے والے تھے کہ انہیں ایک پر اسرار واقعہ میں جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا ترجمان نے کہاکہ یہ ایک عدالتی قتل ہے اس طرح کے کاروائیاں صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست اپنی کاؤنٹر انٹر جنسی پالیسیوں میں ایک نئی پالیسی کا اضافہ کردیا ہے ترجمان نے کہاکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے بڑے پیمانے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیکر ریاست کی توسیع پسند اور بلوچ دشمن پالیسیوں کو خطہ کے امن کے لئے ناسور سمجھتے ہوئے غیر جانب داری کے ساتھ اس طرح کے واقعات کی زمینی سطح پر تحقیق کریں ترجمان نے کہاکہ اقوام متحدہ کی خاموشی ریاست کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے طرف داری کے برابر ہوگا

یہ بھی پڑھیں

فیچرز