سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںبنگلہ دیش کی طرح بلوچستان میں بھی بھارت کو مداخلت ...

بنگلہ دیش کی طرح بلوچستان میں بھی بھارت کو مداخلت کرنا چاہئے.بی این ایم

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے پاکستان اور بھارت کی موجودہ زبانی جنگ و دھمکیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں محض بنگالیوں کی قتل عام و نسل کشی کو روکنے کی پاداش میں پاکستان کی جانب سے بھارت پر نہیں کسی جارہی ہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے بھارت و پوری دنیا کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ بنگالیوں کی طرح بلوچوں کی نسل کشی پر ساری مہذب دنیا خاموش رہے ۔ یوں اسی مہذب دنیا نے تین ملین بنگالیوں کی قتل عام پر پاکستان و اس کے جرنیلوں کے خلاف کارروائی نہ کرکے پاکستان کو بلوچ کشی کا موقع دیدیا ہے۔ بنگلہ دیش میں نسل کشی ، جنگی جرائم ، انسانیت کے خلاف جرائم و جنیوا کنونشن کے مطابق پاکستان پر مقدمہ چلایا جاتا تو پاکستان کو بلوچستان میں آج یہ سب کچھ کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ غریب مظلوم و محکوم بنگالیوں کی طرح بلوچوں پر بھی وہی ظلم ڈھائے جارہے ہیں ، خضدار توتک کے اجتماعی قبروں سے 169 لاشوں کے علاوہ مشکے پنجگور، تربت، نوشکی، قلات ، مستونگ، ڈیرہ بگٹی سے بھی اجتماعی لاشیں ملی ہیں جو چار پانچ یا اس سے زیادہ کی شکل میں پھینکی گئی لاشوں کی شکل میں نظر آئی ہیں ۔بلوچ شاعر ، ادیب و اساتذہ کو چن چن کر مارا جا رہا ہے۔ بیس ہزار سے زائد بلوچ پاکستانی اذیت گاہوں میں انسانیت سوز اذیتیں برداشت کر رہے ہیں ۔ جن کا کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں ۔ پانچ ہزار کے قریب بلوچوں کو اغواکرنے کے بعد تشدد کے ذریعے شہید کرکے مسخ شدہ لاش کی شکل میں پھینکا گیا ہے ، جن میں کئی ناقابل شناخت حالت میں لاوارث دفنائے گئے ہیں۔بین الاقوامی قوانین کے تحت بنگلہ دیش کی طرح بلوچستان میں بھی بھارت و دوسری مہذب ملکوں کو مداخلت کرنا چاہئے تاکہ تاریخ میں اس سفاک فوج و ریاست کے ہاتھوں ایک اور بنگال جیسی نسل کشی کے باب کا اضافہ نہ ہو۔ اس زبانی جنگ و دھمکی سے نکل کر عملی اقدامات کرکے ہی بلوچوں کی مدد کا ذریعہ بنا جا سکتا ہے اور اس میں پوری دنیا کو ہماری مدد کرنا چائیے جس طرح بنگالیوں کی مدد میں دنیا نے خاموش رہ کر بھارت کی حمایت کی ۔یہ بھارت و دنیا کا اخلاقی و قانونی فرض و حق بنتا ہے کہ وہ خطے کی پالیسیوں پر رد عمل کرکے ان کا تدارک کریں ۔ترجمان نے کہا کہ گوکہ بھارت کو بلوچستان میں مداخلت کا الزام لگایا جاتا ہے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے، بھارت نے جس طرح انسانی بنیادوں پر بنگالیوں کی مدد کی تھی اسی طرح بلوچوں کی بھی مدد کرنی چاہئے۔ اس وقت جو مروجہ حالات ہیں وہ اس امر کی متقاضی ہیں ۔بھارت نے بنگالیوں کی نسل کشی پر مشرقی پاکستان میں مداخلت کرکے بنگلہ دیش بنا دیا تو آج بلوچستان میں وہی حالات ہیں ، ایسے حالات میں بھارت سمیت دوسری مہذب ممالک کی تاخیر بنگالیوں کی نسل کشی جیسی تاریخ دہرانے کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔ آج پاکستان کی الشمس و البدر کی جگہ لشکر اسلامی، مسلح دفاع، نفاذ امن و کئی تنظیمیں ریاستی سرپرستی میں بلوچوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں ۔ایسے میں ہمسایہ و جمہوری ملکوں و مہذب دنیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلوچوں کی نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرکے اقوام متحدہ کی چارٹر کے مطابق بلوچستان کی آزادی کی حمایت کریں۔ اس طرح پاکستان کو بلوچوں کی نسل کشی سے روکا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قوانین کے مطابق بھی ایسے حالات میں مداخلت کی اجازت دی گئی ہے تو بنگلہ دیش کی طرح بلوچستان میں بھی مہذب ممالک فوری مداخلت کرکے بنگلہ دیش کی المناک تاریخ کو دہرانے سے روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز