شنبه, مارچ 14, 2026
Homeخبریںبولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس میں سابقہ داخلہ پالیسی کو...

بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس میں سابقہ داخلہ پالیسی کو بحال کیا جائے :BSAC

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس کے داخلہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان تعلیمی لحاظ سے پسماندگی کی واضح علامت ہے جہاں تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے طلبا و طالبات کا مستقبل تاریکی کا منظر پیش کررہی ہے۔اس منظر نامے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے نئی داخلہ پالیسی میں بلوچستان کے طالب علموں کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے جس کی ہم ہر پلیٹ فارم پر مذمت کریں گے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے نئے داخلہ پالیسی میں انٹر میں 65فیصد مارکس جبکہ داخلہ ٹیسٹ میں کامیابی کے لئے 60 فیصد کی شرط رکھی ہے جو بلوچستان کے تعلیمی صورتحال کو نظر انداز کرکے مرتب کی گئی ہے۔

بلوچستان میں تعلیم کی مخدوش صورتحال،تعلیمی انتظامیہ کی اجارہ دارانہ پالیسی ، تعلیمی اداروں میں سہولیات کا فقدان اور دیگر کئی مسائل دانستہ طور پر کھڑےکرنے کی کوششوں کا مقصد بلوچ طالب علموں کو دیوار سے لگانے کی ایک سازش ہے جس کا منطقی انجام بلوچستان کے مستقبل کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ہوگا۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ داخلہ پالیسی حوالے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دیکر تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد سابقہ داخلہ پالیسی کو ایک بار پھر بحال کیا جائے تاکہ سینکڑوں طالب علموں کا مستقبل بچایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز